کشمیرمیں غیریقینی کی صورتحال برقرار۔ برفباری سے4فوجیوں سمیت9ہلاک

40

سری نگر/ نیوریاک/ نئی دہلی (خبر ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں غیر یقینی کی صورتحال بدستور برقرار اور مسلم اکثریتی علاقوں میں جزوی ہڑتال جاری جبکہ انٹرنیٹ سروس مسلسل 96 ویں روز معطل رہی‘ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مظاہرے روکنے کے لیے سخت پابندیاں عاید کی گئیں۔ برفباری سے مختلف علاقوں میں 4 فوجیوں سمیت 9 افراد ہلاک ہوگئے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض انتظامیہ کی طرف سے پابندیوں میں جزوی کمی کے باوجود لوگ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور اسے مرکز کے انتظام 2 علاقوں میں تقسیم کرنے کے غیر قانونی بھارتی اقدام کے خلاف ہڑتال سول نافرمانی کے طور پر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دکانیں اور کاروباری مراکز صرف صبح اور شام کے وقت کچھ گھنٹوں کے لیے کھولے جاتے ہیں۔ تعلیمی ادارے اور دفاتر ویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہے‘ بانہال تک بارہمولہ ریل سروس بھی5 اگست سے بند ہے۔ انٹرنیٹ اور پری پیڈ فون سروسز بدستور معطل ہیں جس کی وجہ سے لوگوں خاص طور پر صحافیوں، طلبہ اور تاجر طبقے کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔ دریں اثنا مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی شدید برفباری کے دوران بھارتی فوج کے4 اہلکاروں سمیت9 افراد ہلاک ہوگئے۔ ضلع کپواڑا میں طوفان کی زد میں آکر بھارتی فوج کے 2 اہلکار ہلاک ہوئے جب کہ دھند کے باعث ٹریفک حادثے میں بھی 2 اہلکار ہلاک ہوئے اور مختلف واقعات میں5 افراد ہلاک ہوئے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سری نگر میں ایک فٹ جب کہ کپواڑا، شوپیاں، گندبال اور بارہ مولا میں 3 سے 4 فٹ برفباری ریکارڈ کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں یورپی یونین نے کہا ہے کہ یونین کو مقبوضہ کشمیر کے عوا م کے تمام بنیادی حقوق کے حوالے سے سخت تشویش لاحق ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یورپی یونین کے اقتصادی اور عالمی مسائل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کرسچن لیفلر نے نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ یورپی یونین بھارت کے سلامتی کے خدشات کو تسلیم کرتی ہے تاہم اسے کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق کے حوالے سے بھی یکساں طور پر سخت تشویش ہے‘ گو کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال میں معمولی سی بہتری آئی ہے تاہم صورتحال اب بھی سخت ابتر ہے‘ پاکستان اور بھارت کو تنازع کشمیر مذاکراتی عمل کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ دریں اثنااقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹریش نے کہا ہے کہ سیاسی رہنما اقتدار کے لیے انتہا پسند گروپوں کے نفرت انگیز خیالات کو قومی دھارے میں لا رہے ہیں‘ منافرت لوگوں اور اداروں کے درمیان تعلقات اور سماجی بنیادوںکو نہ صرف کمزور بلکہ تباہ کر دیتی ہے‘ آن لائن دنیا تعصب، منافرت اور تشدد بڑھانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے‘ اس سے قبل کہ منافرت اور تعصب ایک معمول میں تبدیل ہو جائیں والدین، اساتذہ اور سیاسی رہنما اس کو روکنے کے لیے اپنے انتہائی کردار اداکریں۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز نیویارک شہر میں جیوش کلچرل میوزیم میں کرسٹل نائٹ کی81 سال مکمل ہونے پر منعقدہ ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔