ہم چاہیں یا نہ چاہیں ، بھارت کے ساتھ جنگ ہوگی، صدر آزاد کشمیر

82

صدر آزاد کشمیر سردارمحسود خان  کا کہنا ہےکہ انتہا پسند بی جے پی رہنما بھارت کو آزاد کشمیر اور پاکستان پر حملے کے لیے اکسا رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں 96 دن سے شہری قید و بند کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ،کشمیر کے مسئلے  پر سکیورٹی کونسل کی خاموشی افسوسناک ہے۔

کراچی کونسل آف فارن ریلیشنز کے ڈائیلاگ کے تحت مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان  کا کہنا تھا کہ ہمیں بھارت سے جنگ کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے،مقبوضہ کشمیر میں 96 دن سے شہری قید و بند کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، بھارتی فوجیوں کے ظلم سے کوئی بھی کشمیری محفوظ نہیں ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں اقلیت کو اکثریت میں بدلنے کی سازش پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بھارت دنیا کے سامنے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو نارمل ثابت کرنے کی کوششیں کررہا ہے جب کہ دوسری جانب بھارت دہائیوں سے اقوام متحدہ کی قرادادوں کی خلاف ورزی کررہا ہے، بھارت کے ظلم کی وجہ سے کشمیری نوجوانوں میں آزادی کا جذبہ بڑھارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی مظالم سے  کشمیریوں کے گھر محفوظ ہیں اور نہ عزت، بھارت کشمیریوں سےجینے کا حق بھی چھین رہا ہے۔

سردارمحسود خان نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں ماں باپ اپنے پیاروں کے دیدار کو ترس رہے ہیں،رات گئے لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے اور ان کی املاک کو نقصان پہنچایا جارہا ہے،خواتین کے تقدس کو پامال کیا جارہا ہے لیکن اس کے باوجود وہاں ہر شخص کی زبان پر صرف آزادی کے نعرے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آرٹیکل35-A کشمیریوں کے حق کی نمائندگی کرتا ہے,بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے نقشہ کو خود سے تبدیل کیا ہے جوکہ اقوام متحدہ کے قانون کے خلاف ورزی کی ہے۔

صدر آزاد کشمیرکا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کو جنگ کی طرف لے جاناچاہتا ہے اور وہ پاکستان پر حملہ کرنے کی سوچ رہا ہے،مقبوضہ کشمیر ایسا مسئلہ ہے جس سے دو ایٹمی قوتوں میں جنگ چھڑسکتی ہے،اگر  پاکستان اور بھارت کے درمیان  جنگ چھڑی تو کروڑوں افراد متاثر ہوں گےاور  لاکھوں افراد کی جانوں کا ضیاع ہوسکتا ہے، مسئلے کے حل کے لیے دنیا کو جاگنا ہوگا جب کہ  دنیا اپنے مفادات کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو نظر انداز کررہی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ہندوتوا کا مقصد صرف ہندوؤں کی حقوق کی نمائندگی کرنا ہے،یہ نظریہ دیگر مذاہب کے حقوق کو تسلیم نہیں کرتا ہے،بین الااقوامی پارلیمنٹزمیں بھی بھارت کے جبر و تشدد کے خلاف باتیں ہورہی ہیں، چین، ملائیشیا، ترکی اور ایران نے کھل کر کشمیریوں کے لیے آواز بلند کی جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔