آپ ﷺ ایسے تھے

94

عرفان خلیلی صفی پوری
سیدنا علیؓ سے دریافت کیا گیا کہ نبی اکرمؐ کا اپنے ساتھیوں کے ساتھ کیسا برتاؤ تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپؐ
٭ہر ایک سے مسکراتے ہوئے ملتے تھے۔
٭بہت نرم مزاج تھے اور طبیعت میں سختی نہ تھی۔
٭سہولت آسانی کو پسند فرماتے تھے۔
٭کبھی بے ہودہ بات زبان سے نہ نکالتے تھے۔
٭کسی کے عیب نہیں نکالا کرتے تھے۔
٭غرور سے بہت دور رہتے تھے۔
٭فضول اور بیکار باتوں سے ہمیشہ پرہیز کرتے تھے۔
٭نہ کسی کی برائی کرتے تھے اور نہ اسے نیچا سمجھتے تھے۔
٭کسی کے چھپے ہوئے عیبوں کو ظاہر کر کے اسے شرمندہ نہیں کرتے تھے۔
٭مال و دولت کی لالچ نہیں کرتے تھے۔
اور
٭اگر آپؐ کو کوئی چیز پسند نہ آتی تو اسے چھوڑ دیتے۔ نہ اس کی برائی کرتے اور نہ رغبت ظاہر فرماتے۔
کتنے اچھے تھے پیارے نبیؐ!
٭٭٭
آپؐ کی دعائیں
٭دعا صرف اللہ سے مانگیے۔ ہماری حاجتیں صرف وہی پوری کر سکتا ہے۔
٭دعا عبادت کا جوہر ہے اور عبادت کا حق دار صرف اللہ ہے۔
٭جب آپؐ بستر پر تشریف لے جاتے تو دونوں ہتھیلیوں کو جوڑ لیتے اور سورۂ اخلاص، الفلق، اور الناس پڑھ کر ان کو پھونکتے اور جسم پر جہاں تک ہوسکتا پھیر لیا کرتے تھے۔ ابتدا سر۔ چہرے اور جسم کے اگلے حصہ سے فرماتے۔ یہ عمل تین بار فرماتے۔
٭آپ کو جب پاخانے جانا ہوتا تو جوتا اور ٹوپی پہن لیتے اور یہ دعا پڑھتے:
اللھم انی اعوذبک من الخبث و الخبائث۔
’’اے اللہ! میں گندگی اور گندی چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں‘‘۔
٭جب پاخانے سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے:
غفرانک اللھم۔
’’اے اللہ! تیری مغفرت چاہتا ہوں‘‘۔
٭آپ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر وضو شروع فرماتے۔
٭وضو کرتے وقت یہ دعا پڑھتے۔
1۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واشھد ان محمداً عبدہ و رسولہ۔
’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اس کے بندے اور رسول ہیں‘‘۔
2۔اللھم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطھرین۔
’’اے اللہ مجھے بار بار توبہ کرنے والا اور پاکیزہ زندگی اختیار کرنے والا بنا دے‘‘۔