بعثت نبوی اکی اقتصادی برکات

61

حافظ محمد ادریس
ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ دشمنِ خدا ابوجہل بن ہشام رسولؐ سے سخت دشمنی اور بغض رکھتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمؐ کے ذریعے ابوجہل کو کئی بار ذلیل ورسوا کیا۔ یہ آپؐ کے معجزات تھے۔ ابن اسحاق نے نقل کیا ہے کہ: ’’اراش کی بستی سے ایک شخص اونٹ لے کرمکہ آیا۔ ابوجہل نے اس سے اونٹ خرید لیے اور پھر قیمت ادا کرنے سے انکاری ہوگیا۔ اراشی مایوس ہوکر قریش کی مجلس میں آیا اور ان سے مدد مانگی۔ اس نے کہا: ’’قریش کے لوگو! میں ایک اجنبی مسافر ہوں اور ابوالحکم بن ہشام نے میرا حق مار لیا ہے، کون سا شخص مجھے میرا حق دلائے گا؟‘‘ اس وقت رسول اللہؐ مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔
اہل مجلس سبھی منکرین حق تھے۔ انھیں شرارت سوجھی تو انھوں نے اراشی سے کہا: ’’کیا تم دیکھ رہے ہو، وہ شخص جو کہ کونے میں بیٹھا ہے، وہی تمھارا حق دلا سکتا ہے‘‘۔ دراصل سردارانِ قریش جانتے تھے کہ ابوجہل نبی اکرمؐ سے سخت عداوت رکھتا ہے۔ وہ آپؐ کی سُبکی چاہتے تھے اور مسافر سے مذاق کررہے تھے۔ اراشی رسول اللہؐ کے پاس پہنچ گیا اور جا کر کہا: ’’اے اللہ کے بندے! ابوالحکم بن ہشام نے میرا حق مار لیا ہے اور میں اجنبی ہوں۔ ان لوگوں سے میں نے پوچھا کہ کون مجھے میرا حق دلا سکتا ہے تو انھوں نے آپ کی طرف اشارہ کیا۔ پس آپ میرا حق دلادیں، اللہ آپ پر رحم کرے‘‘۔
آپؐ اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کے ساتھ چل دیے۔ قریش کے لوگوں نے دیکھا تو اپنے میں سے ایک شخص سے کہا: ’’اے فلاں! ان کے پیچھے جا اور دیکھ کر آ، کیا تماشا بنتا ہے؟‘‘ رسول اللہؐ اجنبی کو ساتھ لیے ابوجہل کے دروازے پر پہنچے اور دستک دی۔ اس نے پوچھا: ’’کون ہے؟‘‘ فرمایا: ’’میں محمد ہوں، ذرا باہر نکلو‘‘۔ ابوجہل باہر نکلا تو اس کا رنگ اڑا ہوا تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس کے جسم میں روح نہیں ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’اس شخص کا حق ادا کردو‘‘۔
ابوجہل نے کہا: ’’بہت اچھا! میں اس کا حق ابھی ادا کرتا ہوں‘‘۔ گھر کے اندر داخل ہوا، رقم لے کر آیا اور اراشی کے ہاتھ پر رکھ دی۔ آپؐ نے اراشی سے فرمایا: ’’اچھا بھائی خدا حافظ‘‘ اور آپؐ چل دیے۔ اراشی قریش کی مجلس کے پاس سے گزرا اور ان سے کہا: ’’اللہ تعالیٰ اسے جزائے خیر عطا فرمائے، خدا کی قسم! وہ بڑا عظیم آدمی ہے، اس نے مجھے میرا حق دلا دیا‘‘۔
جس شخص کو قریش کے لوگوں نے تماشا دیکھنے کے لیے بھیجا تھا، اس سے انھوں نے کہا: ’’تیرا ستیاناس ہو، تُو نے کیا دیکھا؟ اس نے کہا: ’’میں نے عجیب ترین معاملہ دیکھا۔ خدا کی قسم جونہی محمد نے اس کے دروازے پر دستک دی اور وہ باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ اس کے جسم میں گویا جان ہی نہیں۔ محمد نے اس سے کہا کہ اس شخص کو اس کا حق ادا کردو تو بغیر حیل وحجت کے اس نے حق ادا کردیا‘‘۔
تھوڑی دیر بعد ابوجہل مجلس میں آپہنچا تو لوگوں نے اس سے کہا: ’’تیری تباہی ہوجائے، تجھے کیا ہوگیا تھا؟ خدا کی قسم تم نے جو حرکت کی اس کی تو ہمیں کبھی توقع ہی نہ تھی‘‘۔ ان کی باتیں سن کر ابوجہل نے کہا: ’’تمھاری بربادی ہوجائے، خدا کی قسم! جونہی محمد بن عبداللہ نے میرے دروازے پر دستک دی اور میں نے اس کی آواز سنی تو میرے اوپر رعب طاری ہوگیا۔ پھر میں دروازہ کھول کر باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کے سر کے اوپر فضا میں ایک سانڈ اونٹ معلق ہے۔ اس اونٹ جیسی کوہان، گردن اور دانت میں نے کبھی کسی اونٹ کے نہ دیکھے۔ خدا کی قسم مجھے یوں محسوس ہوا کہ اگر میں نے انکار کیا تو وہ اونٹ مجھے کھا جائے گا‘‘۔ (سیرۃ ابن ہشام، القسم الاول، البدایۃ والنھایۃ)