دھرنا اور فوج کی وضاحتیں

145

اسلام آباد میں دھرنا جاری ہے۔ حکومت کی پوری توجہ کرتار پور راہداری کی طرف ہے جس پر عمران خان کی حکومت پھولے نہیں سما رہی اور اسے اپنا بڑا کارنامہ قرار دے رہی ہے۔ عمران خان نے حکم دیا ہے کہ کوئی مقبوضہ کشمیر کی کنٹرول لائن عبور نہ کرے ورنہ غدار سمجھا جائے گا۔ دوسری طرف بھارتی سکھوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے پاکستان کی سرحد عبور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سکھوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے لیکن کیا اس پر بھارت انہیں غدار نہیں قرار دے گا؟ بھارت کا کہنا ہے کہ کرتارپور راہداری کھولنے کے معاملے میں پاک فوج ملوث ہے۔ لیکن پاک فوج کشمیر کی سرحد عبور کرنے پر تیار نہیں اور عمران خان نے جہاد کو حرام قرار دے دیا ہے۔ عجیب بات ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا فتویٰ بھی یہی تھا کہ جہاد حرام ہو گیا ہے۔ یہ مماثلت اتفاقی ہو سکتی ہے ورنہ عمران خان تو ریاست مدینہ کا احیا کرنے چلے ہیں۔ دھرنے کے پیش منظر میں پاک فوج کے ترجمان نے ایک بار پھر وضاحت کی ہے کہ ’’دھرنا سیاسی سرگرمی ہے، اس میں فوج کا کردار نہیں۔‘‘ جنرل آصف غفور ہماری فوج کے ترجمان ہیں اس لیے ان کی بات پر اعتبار کر لینا چاہیے اور یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ جس بات کی بار بار تردید کی جائے اس میں کچھ حقیقت تو ہوتی ہے۔ فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فوج آئین میں رہتے ہوئے کام کرتی ہے۔ یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ فی الوقت ایسا ہو رہا ہے ورنہ ماضی میں فوج کئی بار آئین کو پامال کر چکی ہے۔ 2014ء میں عمران خان کے 126 دن کے دھرنے میں بھی یہ افواہیں پھیلا دی گئی تھیں کہ پشت پر کسی جرنیل کا ہاتھ ہے اور نواز شریف کی حکومت گرانے کے لیے امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے۔ تحریک لبیک کے فیض آباد دھرنے کو تو فوج ہی نے ختم کرایا تھا اور دھرنے کے شرکاء میں رقم بھی تقسیم کی تھی۔ لیکن یہ گئے وقتوں کی بات ہے۔ تاہم پاک فوج کے سالار کھل کر کہہ چکے ہیں موجودہ حکومت کا ساتھ دیا جائے۔ فوج کے سربراہ کی طرف سے اس کا اعلان کرنا مناسب نہیں تھا، ماضی میں یہ کام بغیر اعلان کے ہوتے رہے ہیں۔ اس بیان سے یہ موقف کمزور ہوتا ہے کہ سیاست میں فوج کا کوئی کردار نہیں۔ یہ انتباہ بھی کیا گیا کہ اگر عمران خان ’مائنس‘ ہوں گے تو اور بہت سے لوگ مائنس ہو جائیں گے اور آئین اس کی اجازت دیتا ہے۔ سول حکومت بھی آئین کو موم کی ناک جا چکی ہے تو اوروں کو بھی حوصلہ ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن اس پر اڑے ہوئے ہیں کہ عمران خان کا استعفا لے کر جائیں گے۔ انہوں نے دلیل دی ہے کہ جب ذوالفقار علی بھٹو دھاندلی کے الزامات پر دوبارہ الیکشن کرانے پر راضی ہو گئے تھے تو عمران خان کیوں نہیں۔ موسم کی خرابی کے باوجود مولانا فضل الرحمن اور ان کے کارکن اپنی جگہ پر جمے ہوئے ہیں اور آئندہ اتوار تک دھرنا ختم ہونے کا امکان نہیں۔ اس اثنا میں عمران خان کے وزرا اشتعال دلانے پر کمر بستہ ہیں۔ عمران خان نے بیان بازی سے منع کیا تھا لیکن شاید وہ بھی منفی بیانات سے محظوظ ہوتے ہیں۔ عمران خان کے سابق ترجمان فواد چودھری نے فرمایا ہے کہ جے یو آئی کے قائدین خود تو حلوہ کھا رہے ہیں اور دھرنے کے شرکاء دھکے کھا رہے ہیں۔ قائدین خراب موسم میں اپنے گھر چلے جاتے ہیں۔ چودھری صاحب یہ بات بھول گئے کہ اگست 2014ء کے دھرنے میں عمران خان دن میں تو کنٹینر پر چڑھ کر تقریریں کیا کرتے اور رات کو اپنے گھر بنی گالا چلے جاتے تھے۔ صرف اتنا ہی نہیں، دھرنے کے دوران میں ہی انہوں نے ایک اور شادی کر لی تھی اور ریحام خان نے اعلان کیا تھا کہ تبدیلی آ نہیں رہی، آچکی ہے۔ اب خود وہ نجانے کہاں ہیں اور لوگ انہیں ان کی کتاب میں تلاش کر رہے ہیں۔ عمران خان تو ایک اور تبدیلی لے آئے۔ دوسروں کو تضحیک کا نشانہ بنانے والے اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت نہیں کرتے۔ دھرنے کے بعد میں تحریک انصاف میں شرکت کرنے والی موجودہ عمرانی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے آزادی مارچ میں ہونے والی کچھ تقریروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام میں دل آزاری بہت بری بات ہے اور ’’ملّا‘‘ فضل الرحمن عالم دین ہیں۔ بہت ٹھیک فرمایا لیکن موقع ملے تو اپنے باس عمران خان کو بھی یہ بات بتائیں کہ دل آزاری بہت بری بات ہے اور ریاست مدینہ کے داعی کے لیے تو اور بھی بری ہے۔ وہ امریکا سے گلگت تک کوئی موقع مولانا فضل الرحمن پر ’ڈیزل‘ کی پھبتی کسنے سے باز نہیں آتے۔ اپنی کابینہ کے اجلاس میں کچھ لوگوںکے سمجھانے پر بھی اڑ گئے کہ وہ مولانا ڈیزل کی تکرار کرتے رہیں گے۔ ان کے نقش قدم پر فردوس اعوان سمیت ان کے تمام ساتھی چل رہے ہیں اور پھر یہ نصیحت کہ دل آزاری بہت بری بات ہے۔ بہرحال، معاملات جس نہج پر پہنچا دیے گئے ہیں اس میں عمران خان کے خیر خواہوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ کیا تماشا ہے کہ اس وقت چودھری برادران صلح صفائی کرانے میں لگے ہیں جن کو عمران خان نے پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو قرار دیا تھا۔ تاہم چودھریوں کی دل آزاری نہیں ہوئی۔