اساتذہ پر لاٹھی چارج

79

عجیب سی صورتحال ہے کہ حکومت ہی اپنے طے کردہ اصولوں پر چلنے کو تیار نہیں ہے اور اس پر اگر متاثر فریق احتجاج کرے تو اس پر تشدد کا راستہ اپنایا جاتا ہے ۔ اساتذہ کی ترقی کا حکومت نے ایک طریقہ طے کردیا ہے جسے ٹائم اسکیل کا نام دیا گیا ہے ۔ اس طریقہ کار کے مطابق مقررہ ٹائم گزرنے کے بعد اساتذہ کی ازخود ترقی ہوجانی چاہیے مگر حکومت اپنے ہی طے کردہ طریقہ کار پر عمل کرنے پر راضی نہیں ہے ۔ متاثر اساتذہ جب مجبور ہو کر کراچی پریس کلب پر احتجاج کے لیے جمع ہوئے تو ان ہی اساتذہ سے علم حاصل کرکے افسر بننے والوں نے پولیس کو ان اساتذہ کو سبق سکھانے کا حکم دے دیا اور پولیس اہلکار ڈنڈے لاٹھی لے کر ان پر ٹوٹ پڑے ۔ مہذب دنیا میں اساتذہ کو سربراہ مملکت سے زیادہ تعظیم دی جاتی ہے مگر یہ پاکستان اور خاص طور سے صوبہ سندھ کا دستور ہے کہ اساتذہ کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے اور جب وہ مجبور ہو کر احتجاج کریں تو ان پر لاٹھی، ڈنڈے اور آنسو گیس لے کر پولیس اہلکار پل پڑتے ہیں ، ان پروفیسروں کو جن میں معمر اور خواتین اساتذہ بھی ہوتی ہیں ، پولیس اہلکار سڑکوں پر گھسیٹتے ہیں اور لاتوں اور مکوں سے ان کی تواضع کرتے ہیں ۔ پاکستان میں طاقت کا دستور نافذالعمل ہے یہی وجہ ہے کہ جب گئے وقتوں میں متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان ایوان وزیر اعلیٰ یا گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاج کررہے ہوتے تھے تو ان کے ساتھ مذاکرات ہورہے ہوتے تھے ۔ عمران خان نے جب وفاقی دارالحکومت کو مفلوج کردیا تھا تو بھی ان کے ترلے کیے جارہے تھے ۔ اب مولانا فضل الرحمن اپنے کارکنان کے ہمراہ اسلام آباد میں موجود ہیں تو بھی ان کے ساتھ ایک دن میں دو دو بار مذاکراتی دور ہورہے ہیں ۔ مگر پروفیسر اور لیکچرر سندھ حکومت کو اس کے طریقہ کار کو یاد دلانے کو نکلے تو انہیں کوٹ کر سیدھا کردیا گیا ۔ سیکریٹری تعلیم سندھ نے فرمایا ہے کہ نتائج اچھے نہ دینے کے باوجود ہم نے اساتذہ کو ترقیاں دی ہیں ۔سیکریٹری صاحب یہ فرمائیں کہ کیا اساتذہ کی ترقی کے لیے نتائج کی شرط عاید ہے یا پھر ٹائم اسکیل کا طریقہ کار طے کیا گیا ہے ۔ اگراچھے نتائج ہی کی شرط ہے تو سب سے پہلے وزیر تعلیم اور سیکریٹری تعلیم کی ہی چھٹی کی جانی چاہیے کہ یہ سب کچھ ان ہی کی اولین ذمہ داری ہے ۔کچھ ایسے ہی معاملات ڈاکٹروں کے ساتھ ہیں ۔ انہیں کئی کئی ماہ تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جاتی ہے اور ترقیوں کے لیے یہ سرکاری افسران کے در کے چکر کاٹتے رہتے ہیں ۔ اس سب کے باوجود جب یہ مجبور ہوکر احتجاج کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ہڑتال کا عمل ان کے منصب کے خلاف ہے ۔ جو لوگ ان ڈاکٹروں کی ہڑتال کو خلاف قانون قرار دیتے ہیں وہ ان ڈاکٹروں کے حقوق غصب کرنے والوںکے خلاف کوئی ایکشن کیوں نہیں لیتے اور ساتھ ہی ان ڈاکٹروں کو یہ کیوں نہیں بتادیتے کہ وہ اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے کون سا دوسرا طریقہ کار اختیار کریں ۔