جلاوطن اخوانی رہنمائوں کے لئے ترکی کی شہریت

85
استنبول: اخوان المسلمون کے جلاوطن رہنما یاسر العمدہ تُرک شہریت سے متعلق بتا رہے ہیں
استنبول: اخوان المسلمون کے جلاوطن رہنما یاسر العمدہ تُرک شہریت سے متعلق بتا رہے ہیں

استنبول (انٹرنیشنل ڈیسک) ترک حکام نے مصر میں فوجی آمر کے ہاتھوں معتوب سب سے بڑی مذہبی اور سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے رہنماؤںا ور وابستگان کو شہریت دینا شروع کر دی ہے۔ مصر میں سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے مقدمات میں سزا یافتہ رہنما یاسر العمدہ نے اپنے فیس بک پیج پر اعلان کیا ہے کہ ترک حکام نے انہیں شہریت دے دی ہے۔ اخوان المسلمون کے ٹی وی چینلز سے منسلک کئی دیگر اخوانیوں کو بھی ترکی کی شہریت دی گئی ہے۔ العمدہ نے مزید کہا کہ ترک شہریت حاصل کرنے پر تقریباً ڈھائی ہزار ڈالر کی لاگت آتی ہے۔ ترکی کی شہریت کا حصول بہت پیچیدہ اور مشکل مرحلہ ہے۔ اس کے لیے اچھی خاصی فیس ادا کرنا پڑتی، مگر مصر کے مفرور اخوان رہنمائوں اور کارکنوں کو ترکی میں آسانی کے ساتھ شہریت مل جاتی ہے۔ ترکی میں اخوان المسلمون کے کئی رہنماؤں کو بلا معاوضہ شہریت دی گئی ہے۔ یاسر العمدہ اخوان المسلمون کے رہنماہیں۔ ان پر مصر میں دہشت گردی سمیت کئی جھوٹے مقدمات قائم ہیں، مگر وہ بچ کر ترکی پہنچ گئے تھے۔ ادھر مصر میں ایک وکیل ڈاکٹر سمیر صبری نے انتظامی جوڈیشل عدالت کے رو برو ترک شہریت رکھنے والے اخوان المسلمون کے ان رہنماؤں اور ارکان کی مصری شہریت منسوخ کرنے کے لیے ایک مقدمہ دائر کیا ہے۔ اس درخواست پر سماعت 17 نومبر سے شروع ہوگی۔ صبری کا کہنا ہے کہ ترکی کی شہریت حاصل کرنے والوں میں اخوان حکومت کے ارکان پارلیمان اور صحافی بھی شامل ہیں۔ صبری نے بتایا کہ ترک کی شہریت حاصل کرنے والوں میں اخوان کے اعلیٰ صحافی معتز مطر، حمزہ زوبع، محمد ناصر، ایمن نور، حسام شوریجی مدحت الحداد، محمد عبد العظیم بشلاوی، ایمن احمد عبدالغنی، خیرات الشاطر کے بہنوئی اور اخوان کے نائب رہنما یحییٰ حمید شامل ہیں۔