پیرس میں 2 کیمپوں سے 1600 مہاجر بے دخل

77
پیرس: پولیس اہل کار غیرقانونی خیمہ بستیاں خالی کراکر تارکین وطن کو منتقل کررہے ہیں
پیرس: پولیس اہل کار غیرقانونی خیمہ بستیاں خالی کراکر تارکین وطن کو منتقل کررہے ہیں

پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) فرانسیسی پولیس نے تارکین وطن کے 2 کیمپوں کو غیر قانون قرار دے کر 1600 مہاجرین کو زبردستی بے دخل کردیا۔ ان میں سے ایک کیمپ پیرس اور دوسرا دارالحکومت کے مضافات میں واقع تھا۔ کارروائی سے ایک روز قبل حکومت نے اعلان کیا تھا کہ تارکین وطن سے متعلق پالیسیاں اب مزید سخت کردی جائیں گی۔ پیرس کے شمالی علاقے سینیٹ ڈینیس میں قائم کیے گئے کیمپ میں تارکین وطن خیموں میں بہت تکلیف دہ حالات میں رہ رہے تھے۔ فرانسیسی پولیس کی جانب سے کی جانے والی کارروائی کے وقت وہاں درجنوں بسیں بھی موجود تھیں، جن میں سوار کرکے مہاجرین کو بڑے بڑے اسپورٹس ہالوں میں پہنچا دیا گیا۔ ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے لیے کوئی انتظام نہیں ہوجاتا، ان کے لیے یہی ہال ہنگامی رہایش گاہوں کا کام دیں گے۔ پیرس کی نائب میئر ڈومینیک ویرسینی کا کہنا تھا کہ کارروائی سے قبل غیر قانونی کیمپوں کے سیکڑوں رہایشی روپوش ہوگئے۔ کیمپوں کے رہایشی غیر ملکیوں میں سے 20 فیصد مکین ایسے مہاجر تھے، جن کی فرانس میں پناہ کی درخواستیں منظور ہو چکی ہیں، لیکن پناہ گزینوں تسلیم کیے جانے باوجود انہیں رہنے کے لیے کوئی فلیٹ دستیاب نہیں تھے۔ واضح رہے کہ فرانس میں یہ پہلا موقع نہیں کہ پولیس نے مہاجرین اور تارکین وطن کا کوئی غیر قانونی کیمپ زبردستی خالی کرایا ہو۔ یہ سلسلہ 2015ء میں شروع ہوا تھا اور مجموعی طور پر یہ غیر قانونی کیمپوں کے خاتمے کے لیے پولیس کی طرف سے کی گئی انسٹھویں کارروائی تھی۔ وزیر داخلہ کرسٹوف کاستانر نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ ملک بھر میں تارکین وطن کے قائم کردہ تمام غیر قانونی کیمپ اگلے ماہ کے آخر تک ختم کر دیے جائیں گے، تاہم حکومت نے اس مہلت کا انتظار کیے بغیر اگلے ہی روز کارروائی شروع کردی۔