عثمان منشی ایک مثالی کارکن

90

محمد حسین محنتی
محمد عثمان منشی تحریک اسلامی کے ایک مثالی کارکن تھے۔ وہ داعی حق، شفیق استاد‘ مدبر، عوامی خدمت گار اور خوف خدا سے لبریز انسان تھے۔ انہوں نے پوری زندگی دین اسلام کی خدمت میں گزاری۔ جماعت اسلامی غربی کی شوریٰ کے رکن رہے۔ جماعت اسلامی سے ان کی وابستگی نوجوانی کے دور سے ہوئی۔ وہ بلدیہ ٹاؤن حلقے کے ناظم رہے۔ بلدیہ غربی کی شوریٰ میں رہے۔ درس و تدریس میں ان کی گہری دلچسپی تھی۔ ضلع غربی میں ہر جگہ درس کے لیے جاتے تھے۔ تقویٰ اور پرہیز گاری ان کی شناخت تھی۔ دنیا میں کبھی دل نہیں لگایا۔ ہر وقت ان پر آخرت کی فکر طاری رہتی تھی۔ ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت پر ان کے بیٹے کے گھر نارتھ ناظم آباد میں گیا بہت محبت عزت اور احترام سے پیش آئے۔ ویسے بھی وہ محبت کا سرچشمہ تھے کینہ و حسد جیسی بیماریوں سے پاک تھے۔ عثمان منشی صاحب الیکشن کا کام عبادت سمجھ کر کرتے ہمیشہ اپنے بچوں کو کہتے کہ اللہ کے دین کے نفاذ کے لیے اس جدوجہد میں سب کچھ لگادو سیدھا جنت کا راستہ ہے۔
آپ جونا گڑھ میں 21 اگست 1935ء کو پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی 1950 میں ہجرت کر کے پاکستان تشریف لائے بی، اے تک تعلیم حاصل کی۔ اسی زمانے میں مولانا مودودیؒ کے لٹریچر سے متاثر ہوکر جماعت اسلامی سے وابستہ ہوگئے۔ عبدالستار دادانی صاحب گجراتی زبان میں سندیش کے نام سے ایک گجراتی ماہانہ رسالہ نکالتے تھے۔ منشی صاحب کو گجراتی زبان پر عبور حاصل تھا اس لیے ایک مشنری جذبے سے سندیش سے وابستہ ہوگئے۔ سندیش رسالہ ان کی ذات کے اردگرد گھومتا تھا اس کی چھپائی کے بعد اس کی ترسیل بھی ان کے ذمے تھی۔ ان کے بچے رسالے پر کور چڑھانا، ٹکٹ لگانا اور پوسٹ آفس پہنچانے کے کام میں ان کی مدد کرتے۔ سندیش رسالہ کا اسلام اور جماعت کی دعوت کو میمن اور گجراتی برادری میں پہنچانے میں بڑا حصہ ہے۔ عثمان منشی صاحب بیک وقت اردو، گجراتی اور انگلش پر مکمل دسترس رکھتے تھے اور ڈان اخبار میں ترجمہ نگار بھی رہے۔ انہوں نے عبدالرزاق کوڈواوی صاحب کا کتابچہ گلدستہ حدیث اور سیرت النبیؐ پر محمد عربیؐ کا ترجمہ گجراتی میں کیا۔ دونوں کتابیںکو گجراتی دانوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ مدرسہ اسلامیہ اسکول میں ٹیچر کی حیثیت سے وابستہ رہے جہاں انہوں نے سیکڑوں بچوں کو تعلیم دی وہاں سے فارغ ہوکر بلدیہ ٹاؤن میں پاک منشی گرامر اسکول کی بنیاد رکھی انہیں اسکول کے بچوں کی تعلیم و تربیت میں گہری دلچسپی تھی۔ وہ نہ صرف بہترین تعلیم کا اہتمام کرتے بلکہ بچوں کی دینی اور اخلاقی تربیت پر بہت زور دیتے تھے۔ بچوں کو آداب سکھانے کے لیے ہمیشہ نصیحت کرتے کہ با ادب با نصیب اور بے ادب بے نصیب۔ ان کا خیال تھا کہ تعلیم تجارت بن جائے تو اسکولوں سے بڑے انسان نکلنا کم
ہوجاتے ہیں۔ ان کا اسکول آج بھی بلدیہ ٹاؤن میں روشنی کا مینار ہے۔ وہ بچوں کو ٹیوشن بھی پڑھاتے تھے۔ بیماری یا کسی وجہ سے ایک ہفتے دو ہفتے تعلیم نہ دے سکتے تو اتنی فیس واپس کردیتے۔ وہ ماہ رمضان میں افطار پارٹیوں کا پروگرام بناتے اور مقامی مدرسہ میں تراویح کا باقاعدہ اہتمام کرتے۔
وہ ایوب خان کے دور میں بلدیاتی الیکشن میں کونسلر منتخب ہوئے بعد میں چیئرمین بھی منتخب ہوئے عوام کے مسائل پر توجہ دیتے۔ کراچی میںایوب خان نے بلدیاتی کنونشن رکھا۔ منتخب افراد کو بولنے کا موقع دیا گیا تو وہ عثمان منشی اٹھے اور اسلام اور جمہوریت پر خوب بولے۔ حکومت کے خلاف بولنے کی وجہ سے آمرانہ حکومت نے ان کے خلاف تحریک پاس کر کے ان کو چیئرمین شپ سے محروم کردیا۔ عوام نے ان کا ساتھ دیا اور وہ عوام کی خدمت کرتے رہے۔ عوام کی مالی امداد کرنا اور مسائل میں ان کی رہنمائی کرنا ان کا خاصہ تھا۔ عثمان منشی صاحب ہومیوپیتھی کی پریکٹس بھی کرتے تھے۔ 50 سال کا تجربہ تھا بیش تر مریض ان سے مفت دوائی لے جاتے۔
ان کے بیٹے شاہد منشی نے بتایا کہ ابو ایک کارکن کی حیثیت سے ماہانہ اعانت جمع کرتے تھے۔ ایک مرتبہ اعانت جمع کر کے گھر کی طرف آرہے تھے کہ کسی ڈکیت نے پکڑ لیا۔ کہا کہ پیسے نکالو انہوں نے اپنی جیب سے رقم نکال کر دے دی اس نے کہا کہ تھیلے سے نکالو تو منشی صاحب نے کہا کہ یہ تو اللہ کی امانت ہے مجھے مار بھی دو تو میں اللہ کی امانت میں ہاتھ نہیں لگانے دوں گا۔ ایم کیو ایم کے طویل دہشت گردی کے دور میں بھی وہ بلدیہ میں مقیم رہے۔ فاروق دادا اور ان کے گروپ کے لوگوں نے جینا محال کیا ہوا تھا۔ عثمان منشی صاحب ایک دن بھی دعوت، ملاقاتوں اور درس و تدریس سے نہیں رکے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر ان کے یہاں اجتماعی قربانی ہوتی تھی جس کی مکمل نگرانی عثمان منشی صاحب خود کیا کرتے تھے راتوں کو جاگنا جانوروں کی دیکھ بھال کرنا چارہ کھلانا۔ کھالیں چھیننا ایم کیو ایم کا مشغلہ تھا منشی صاحب قربانی کر رہے تھے کھال لینے اور چھیننے پر اتر آئے منشی صاحب ڈٹ گئے کھالوں کی حفاظت کی اور وہ ہمت ہار کر واپس چلے گئے۔ منشی صاحب فاروق دادا کے والد کے پاس گئے اور ان کو سمجھایا اپنے بچوں کو سمجھاؤ شرافت اور دین داری کی طرف آئیں اور آخرت کی جواب دہی کے لیے ان کو سمجھائیں۔
عثمان منشی صاحب نے معاشرے کی اسلامی تشکیل کی بھرپور کوششیں کیں اس کے ساتھ اپنے بچوں کو دینی اور دنیاوی تعلیم سے بھی آراستہ کیا۔ ان کی بہترین تربیت کی دین کا علم ان کے ہاتھ میں تھمایا اور ان کو معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کا سبق دیا۔ عثمان منشی صاحب کا پورا خاندان جماعت اسلامی کے ساتھ وابستہ ہے۔ عثمان منشی صاحب طویل عرصے سے صاحب فراش تھے۔ 23 اکتوبر کو 85 سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور جماعت اسلامی اپنے ایک مثالی کارکن سے محروم ہو گئی۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ عثمان منشی صاحب کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے۔ پاکستان میں غلبہ دین کی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کرے۔ آمین