ریفرنڈم بھی مسئلے کا حل ہوسکتا ہے

80

محمد اکرم خالد
کہتے ہیں جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ بدقسمتی سے آج ملک میں ایسا ہی ہورہا ہے ماضی میں دھاندلی کا رونا رونے والے اقتدار پر براجمان ہیں تو کل کے برسر اقتدار رہنے والے آج دھاندلی بے روزگاری نا اہلی کا راگ الاپ رہے ہیں یہ ہماری تاریخ کی تلخ حقیقت ہے کہ آج تک یہ ملک و قوم غیر جانبدار شفاف انتخابات سے محروم رہی ہے جس کے ذمے دار جہاں سیاستدان ہیں وہاں کہیں نہ کہیں اس کی ذمے داری اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ بدقسمتی سے یہ ملک چار بار جمہوریت کو کچل کر مارشل لا کا شکار ہوا ہے۔
اس وقت بھی ملک کو حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی جانب سے یہی خطرہ لاحق ہے۔ 2013 کے عام انتخابات میں واضح اکثریت کے ساتھ ن لیگ کو پاکستان کا تیسری بار اقتدار نصیب ہوا اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے ان انتخابات کی شفافیت اور اداروں کی شمولیت پر اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا جس پر سب سے زیادہ تحفظات عمران خان کو تھے جنہوں نے شروع دن ہی سے دھاندلی کا شور مچا کر عوامی توجہ حاصل کی یہ بھی درست ہے کہ خان صاحب مولانا فضل الرحمن کی طرح اچانک سے سڑکوں پر نہیں نکلے بلکہ خان صاحب نے دھاندلی کی تحقیقات سے متعلق تمام دروازوں پر دستک دی مگر خان صاحب کہیں سے مطمئن نہ ہوئے عام انتخابات کے ایک سال بعد ہی 2014 میں خان صاحب نے سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا صرف اتنا ہی نہیں بلکہ خان صاحب نے ایک انوکھی چیز بھی متعارف کرائی کہ حکومت اور اداروں پر دبائو ڈالنے کے لیے اسلام آباد کے ایوانوں کا تقدس پامال کیا جائے ان ایوانوں کے دروازوں پر کنٹینر لگا کر احتجاجی دھرنے دیے جائیں نازیبا زبان اور ناچ گانوں سول نافرمانی معزز اداروں کی تذلیل ڈیوٹی پر مامور پولیس افسران اہلکاروں کو سر عام دھمکیوں سے اس ملک کے ایوانوں کی دیواروں کو گرایا جائے یہ بھی یاد رکھا جائے کہ 2013 کا دھرنا مہنگائی بے روزگاری غریب عوام کی خوشحالی کے لیے نہیں دیا گیا تھا بلکہ یہ دھرنا اقتدار کی خواہش پر دیا گیا تھا ہم خان صاحب کی اکثر تقریوں میں صرف کرپشن مخالفین کو جیلوں میں ڈالنے کا راگ سنتے ہیں جس سے اس غریب قوم کے لیے خان صاحب کے درد کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ 2018 کے انتخابات بھی پچھلے انتخابات کی طرح دھاندلی زدہ غیر شفاف متنازع قرار دیے گئے۔ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو 2018 کے انتخابات میں شکست نے بڑا مایوس کیا اور مولانا نے شروع دن ہی سے اپنی ناکامی پر انتخابات میں دھاندلی کا شور مچایا مگر ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے مولانا کا ساتھ نہیں دیا مولانا شروع دن سے ہی ان اسمبلیوں کو سلیکٹڈ قرار دیتے رہے ہیں۔ مولانا کے آزادی مارچ میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی اخلاقی حمایت بھی ایک پالیسی کے تحت کی گئی ہے کہ اگر مولانا کامیاب ہوگئے تو کھل کر سامنے آجائیں گئے اور اگر مولانا کی ناکامی ہوئی تو ہمارا سیاسی کیریئر پھر بھی محفوظ رہے سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی ن لیگ کی اس سوچ نے آج ملک و قوم کو بڑا نقصان پہنچایا ہے غریب کے مسائل پر ان دونوں جماعتوں نے اپنے ناجائز اثاثے بنائے ہیں آج بھی آزادی مارچ کی آڑ میں یہ دونوں جماعتیں اپنا سیاسی مفاد حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں جو عوام کی نظروں سے اُجھل نہیں ہوسکتا۔ یقینا مولانا صاحب اس وقت خان صاحب کی ماضی کی غلطیوں کو اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو شاید ملک و قوم کے بہتر مفاد میں نہیں حکومت کی غلط پالیسیوں پر احتجاج مولانا کا قانونی آئینی حق ہے ساتھ ہی ہم یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ مولانا مجبوری کے تحت سڑکوں پر نکلے ہیں کیوں کہ مولانا کے پاس آئینی راستے سے تبدیلی کے لیے اکثریت موجود نہیں ہے جمہوریت کی دعویدار پیپلز پارٹی استعفوں کا آئینی حق استعمال کرنے کے موڈ میں نہیں کیوں ایسا کرنے میں ان کی سندھ حکومت کو بھی خطرہ لاحق ہوگا جبکہ ن لیگ شاید خان صاحب سے کسی ریلیف کی منتظر ہے جو شاید ان کو کسی صورت میسر نہ ہوسکے پیپلز پارٹی ن لیگ کی یہی متضاد پالیسیاں ملک و قوم اور اداروں کی ترقی و خوشحالی میں نقصان سبب بنتی رہی ہیں۔
یقینا موجودہ حکومت ایک غیر سنجیدہ حکومت ہے ڈیرھ سال میں اس حکومت نے مہنگائی سے غریب کی چیخیں نکال دی ہیں۔ مہنگائی کا طوفان برپا کر کہ بھی یہ حکومت غیر سنجیدہ رویہ اپنائے ہوئے ہے اپوزیشن کی مذاکراتی ٹیم سے غیر سنجیدہ دھمکی آمیز رویہ اپنایا جارہا ہے جو کسی طور مناسب نہیں بلکہ اس رویہ سے حالات مزید خرابی کی جانب جاسکتے ہیں دوسری جانب اگر مولانا اپوزیشن کو اسمبلیوں سے آئینی طور پر مستعفی ہونے کے لیے رضا مند نہیں کرسکتے تو اپنی جماعت کے استعفے پیش کر کے بغیر تصادم کے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کریں کیوں کہ یہ قوم دیکھ چکی ہے کہ مولانا صاحب اپنا سیاسی اخلاقی حق ادا کر کے سرخ رو ہوچکے ہیں اگر کسی کا مستقبل خطرے میں ہے تو وہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ ہیں جن کے بیانیہ میں واضح تضاد نظر آرہا ہے ان کو نہ ہی یہ حکومت پسند ہے اور نہ ہی اپنے آئینی طریقوں سے استعفوں کی قربانی یہ دینے کی ہمت رکھتے ہیں۔
اگر حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ نئے انتخابات اور استعفے سے ہٹ کر فیصلہ کیا جائے تو درمیان کا راستہ عوامی رائے سے نکلا جاسکتا ہے یعنی آئینی میں سیاسی مسئلہ کے حل کے لیے ریفرنڈم کا راستہ اپنایا جاسکتا ہے حکومت اور اپوزیشن کے موقف پر ریفرنڈم کے ذریعے عوامی رائے لی جاسکتی ہے جو کوئی غیر آئینی اقدام نہیں اور اس سے اس بات کا بخوبی فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ قوم کس کے موقف کے ساتھ کھڑی ہے اگر عوام حکومت سے مطمئن ہیں تو یقینا فیصلہ حکومت کے حق میں ہوسکتا ہے اور اگر عوام اپوزیشن کے موقف کے ساتھ کھڑے ہیں تو پھر خان صاحب کو ملک و قوم کے بہتر مفاد میں فیصلہ کرنا ہوگا۔