مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی پابندی غیر آئینی ہے،بھارتی عدالت عظمیٰ میں درخواست

41

سرینگر(اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی ذرائع کی معطلی اور دیگر پابندیوں کے خلاف بھارتی عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ موبائل ، لینڈ لائن اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عدالت کو بتایا گیا کہ 90روز گزرجانے کے بعد بھی وادی کشمیر میں مواصلاتی سروسز فراہم نہیں کی جا رہیں جس سے ذرائع ابلاغ کا کام متاثر ہورہا ہے۔ کشمیر ٹائمز کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انورادھا بھسین کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈووکیٹ ویرندا گروور نے کہاکہ وادی کشمیر میں 4 اگست سے مواصلاتی ذرائع بالکل معطل ہیں جس کا عدالت کو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ دفعہ 19کے تحت حقوق پر معقول پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں لیکن اس کے تحت حقوق کو ختم نہیں کیا جاسکتا، حکام کی طرف سے جاری کیے گئے احکامات میں 3G اور 4G ڈیٹا کی اسپیڈ کم کرنے کیلیے کہا گیا تھا لیکن انٹرنیٹ سروس کو مکمل طور پر معطل کر دیا گیا۔دوسری جانب ایل او سی کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیر یوں نے بدھ کو یوم شہدائے جموں اس عزم کے ساتھ منایا کہ وہ کشمیر یوں کا حق خود ارادیت تسلیم کیے جانے تک شہداء کا مشن جاری رکھیں گے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی جانب سے سرینگر سے جاری ایک بیان میں جموں قتل عام کو جموں وکشمیر کی تاریخ کا ایک بدترین باب قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شہداء کی قربانیوںکو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔