کاروکاری کو کنٹرول کرنے کیلیے سخت اقدامات کیے جائیں ،عائشہ دھاریجو

29

سکھر( نمائندہ جسارت)سندھ سہائی ستھ کی چیئرپرسن ڈاکٹر عائشہ دھاریجو نے کہا ہے سندھ میں کاروکاری کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کیلیے حکومت کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا سندھ میں گزشتہ دس برسوں کے دوران سندھ کے مختلف اضلاع شکارپور 25،عمر کوٹ 23،سکھر12،گھوٹکی 8جبکہ جیکب آباد میں 32 کاروکاری قتل کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں ان کیسز میں سب سے زیادہ خواتین قتل ہوئی ہیں جو سندھ حکومت کیلیے لمحہ فکر ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر پریس کلب میں کانفرنس کے دوران سندھ سہائی ستھ کی جانب سے سندھ میں کاروکاری قتل اور بچوں سے جنسی زیادتی کے سلسلے میں سروے رپورٹ کے اعداد و شمارپیش کرتے ہوئے کیا ۔پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ اراکین سندھ سہائی ستھ ادل سومرو،ڈاکٹر علی اکبر شیخ،ایڈووکیٹ ہادی بخش بھٹ،ایڈووکیٹ رضوانہ میمن،فرزانہ کھوسہ،عبداللطیف اللہ و دیگر شریک تھے ۔اراکین سندھ سہائی ستھ نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہا کہ سندھ سہائی ستھ تنظیم کا مقصد عورتوں کے مسائل بالخصوص کاروکاری،جنسی زیادتی،بچپن کی شادیاں،ہراساں ،پسند کا حق ،ونی سمیت عورت دشمن رسومات کے خلاف تحریک چلانا اور اورمظلوم عورتوں کیلیے آواز اٹھانا ہے۔ اراکین کا کہنا تھا کہ شمالی سندھ میں قبائلی سردار،جاگیرادار اور چھوٹے چھوٹے اسٹیک ہولڈر کافی مضبوط ہیں اور سندھ کے لاکھوں لوگ اب تک اس جاہلانہ رسومات و نظام سے نہیں نکل سکے ہیں۔ سندھ میں قبائلی لوگوں کے شدت پسندانہ مزاج سے مقابلہ کرنا آسان کام نہیں ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی تنظیم آسانی سے کام نہیں کر سکتی ہے تاہم سندھ سہائی ستھ سندھ کی واحد تنظیم ہے جو ایسے حالات کا مقابلہ کرکے متاثرہ خواتین اور ان کے ورثا تک رسائی حاصل کرکے ان کے خاندان اور متاثرہ خواتین کے تحفظ کیلیے کام کرتی ہے۔ اراکین نے مزید کہا کہ ملک کے دیگر شہروں کی طرح سندھ کے مختلف اضلاع میں درندہ صفت انسانوں نے معصوم پھول جیسے بچوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا لیکن حکومت وقت اب تک ملزمان کو گرفتار کرکے ورثا کو انصاف فراہم نہیں کر سکی ہے۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خواتین ، بچوں کے تحفظ اور حقوق کیلیے قانون سازی تو ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں کرایا جاسکا ہے جس کی وجہ سے کاروکاری ،قتل و غارت ،جنسی زیادتی کے واقعات میں کمی آنے کے بجائے یہ مسائل بڑھ رہے ہیں۔ سندھ سہائی ستھ نے خواتین کے حقوق اور تحفظ فراہمی کیلیے کوشش کی ہے اور ہمیشہ کرتی رہے گی۔