جج کی جاسوسی اور ذاتی زندگی میں مداخلت بھی توہین ہے‘ وکیل جسٹس فائز عیسیٰ

41

اسلام آباد( نمائندہ جسارت) عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے موقف اختیارکیاہے کہ ججوں کی تضحیک صرف یہ نہیں ہے کہ ان کو سر کے بالوں سے پکڑ کر کھینچا جائے بلکہ کسی بھی جج اور اس کے خاندان کے دیگر افراد کی جاسوسی اور ذاتی زندگی میں مداخلت کرنا بھی ججوں کی توہینکے زمرے میں آتا ہے۔منگل کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 10رکنی بینچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل اور ان کے خاندان کی جاسوسی کی گئی جس سے متعلق ان کے مؤکل عدالت میں بیان حلفی بھی دینے کو تیار ہیں۔بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ایگزیکٹیو اعلیٰ عدلیہ کے کسی بھی جج کے خلاف مواد اکٹھا کر سکتی ہے؟ جس پر منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹو صدر کی منظوری کے بعد ہی مواد جمع کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو کسی جج کے خلاف مواد جمع کرنے کا اختیار نہیں۔بینچ میں موجود جسٹس مقبول باقر نے سوال اْٹھایا کہ کیا صدر کو اختیار ہے کہ مواد جمع کرنے کا حکم کسی بھی ادارے کو دے سکے؟ جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل کا کہنا تھا کہ صدر کے تمام اختیارات بھی قانون کے ہی تابع ہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ایگزیکٹو اختیارات کا استعمال صدر کا کام نہیں ہے۔جسٹس فیصل عرب نے سوال اٹھایا کہ جمہوریت میں صدر ایگزیکٹیو کے اختیارات کیسے استعمال کر سکتا ہے؟ اس پر منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے غیرآئینی و غیرقانونی طریقے سے ریفرنس صدر کوارسال کیا،وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر صدر کو معاملہ نہیں بھیجا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جج کے خلاف ملنے والے مواد پر صدر کی رائے قائم ہونا لازمی ہے۔جسٹس فائز کے وکیل کا کہنا تھا کہ صدر کا کام صرف ڈاک خانے کا نہیں ہے اورہر قانون کی خلاف ورزی مس کنڈکٹ کے زمرے میں نہیں آتی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آئین کے آرٹیکل 209 کا اطلاق صرف اعلیٰ عدلیہ کے ججوں پر ہی نہیں ہوتا بلکہ آڈیٹر جنرل اور ممبران الیکشن کمیشن کو بھی آرٹیکل 209 کے تحت ہی ہٹایا جاتا ہے۔منیر اے ملک نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدالت کو طے کرنا ہو گا کہ ججوں کے معاملے میں ایگزیکیٹو کے کیا اختیارات ہیں کیونکہ سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس اصول وضع کرنے کا اختیار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنا وزیراعظم کو ہے، ان کے اقدامات کو نہیں ہے اور وزیراعظم کے غیر قانونی احکامات چیلنج ہوسکتے ہیں۔بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ استثنا وزیراعظم اور وزرا کی ذاتی زندگی اور فوجداری جرائم پر نہیں ہوتا۔انہوں نے سوال ٹھایا کہ کیا ججوں کو حاصل استثنا وزیراعظم سے زیادہ مضبوط نہیں کیونکہ ججوں کے کردار پر تو پارلیمان میں بھی بحث نہیں ہوسکتی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر وزیر اعظم غیر قانونی اقدام کرے گا تو آرٹیکل 248 کا استثنا دستیاب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شکایت کنندہ وحید ڈوگر کی درخواست صدر مملکت کے سامنے نہیں رکھی گئی۔جسٹس منیب اختر نے سوال اٹھایا کہ اس صدارتی ریفرنس میں صدر مملکت اور وزیر اعظم نے کہاں غیر آئینی اقدام کیا ہے جس پر منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ فیض آباد دھرنے کے بارے میں تحریک انصاف کی طرف سے عدالت عظمیٰکے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی جو اپیل دائر کی گئی ہے اس سے ان کا مائنڈ سیٹ ظاہر ہوتا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ کسی کے ذہن میں کیسے جھانکا جا سکتا ہے؟جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے بارے میں نا تو صدر نے اپنی رائے قائم کی اور نا ہی وزیر اعظم یہ معاملہ منظوری کے لیے کابینہ میں لے کرگئے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سے مراد وزیر اعظم نہیں بلکہ وفاقی کابینہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے یہ معاملہ کابینہ میں لے کر جانے کے بجائے احتساب سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر کو بھجوایا جنہوں نے اپنی طرف سے ان کے مؤکل کے خلاف ساری انکوائری کروائی۔منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کا سارا ڈیٹا غیر قانونی طریقے سے ایف بی آر سے حاصل کیا گیا۔عدالت کے سوال پر جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل کا کہنا تھا کہ صدر کو کسی جج کے خلاف از خود کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ان کے پاس کسی شکایت کا آنا ضروری ہے۔بعد ازاںکیسکی سماعت 6نومبر تک ملتوی کردی گئی۔