واٹر کمیشن کی وجہ سے شہر میں ’’ آدھا تیتر آدھا بٹیر والا نظام ‘‘ نافذ ہے ،میئر سکھر

35

سکھر (نمائندہ جسارت) میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا ہے کہ واٹر کمیشن کی وجہ سے شہر میں ’’آدھا تیتر آدھا بٹیر والا نظام‘‘ نافذ ہے، واٹر کمیشن کے حکم پر پمپنگ اسٹیشنز محکمہ پبلک ہیلتھ کے حوالے کردیے گئے ہیں، جبکہ واٹر کمیشن ہی کی ہدایت پر بذریعہ کمشنر سکھر شہر کی 6 یوسیز کی صفائی کا نظام بھی نجی کمپنی کے حوالے کردیا ہے، یہی وجہ ہے کہ صفائی اور نکاسی آب کے حوالے سے مشکلات درپیش ہیں، جب تک نظام مکمل طور پر بلدیہ اعلیٰ سکھر کے پاس تھا صورتحال خاصی بہتر تھی، صوبائی وزیر اور سیکرٹری بلدیات کو صورتحال سے آگاہ کرچکا ہوں۔ امید ہے جلد کوئی حل نکل آئے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہاشگاہ پر جشن میلاد النبیﷺ کے سلسلے میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں مفتی ابراہیم قادری، مشرف محمود قادری، مولانا عثمان فیضی، مفتی ساجد، حامد محمود فیضی، سید افضل حسین شاہ، نور احمد قاسمی، غیاث الدین سمیت مختلف تنظیموں کے سربراہان و عہدیداران، ڈپٹی میئر سکھر طارق حسین چوہان، بلدیہ افسران ایکسین سہیل میمن، پیر عطاء الرحمن خان، عابد علی انصاری، منظر ضیاء زیدی، فیاض میمن شریک تھے۔ اجلاس کے دوران شرکا نے جلوس کے روٹس پر حائل دشواری کے بارے میں مئیر سے تبادلہ خیال کیا، جس پر میئر نے انہیں تمام مسائل 12 ربیع الاول سے قبل حل کرنے کی یقین دہانی کروائی، شرکا نے گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی شہر میں چراغاں کرنے، حدیثوں پر مبنی پینا فلیکس آویزاں کرنے اور گھنٹہ گھر پر گنبد خضریٰ کا خوبصورت ماڈل نصب کرنے کا مطالبہ کیا، جس پر میئر نے ان کے مطالبے کو تسلیم کیا اور کہا کہ تمام انتظامات کا جائزہ میں بذات خود لوں گا تاکہ جہاں کہیں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا لاپروائی برتی گئی ہو اسے فوری سدھارا جاسکے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ربیع الاول کا مہینہ مبارک و مقدس مہینہ ہے، جس میں محسن انسانیت حضور نبی کریمؐ کی ولادت باسعادت ہوئی، حضورؐ دنیا میں ایک عظیم انقلاب لائے، ان کے انسانیت پر بے مثال احسانات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دونوں جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی جشن میلاد النبیﷺ شایان و شان طریقے سے منایا جائے گا اور اس سلسلے میں بلدیہ اعلیٰ سکھر اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی جبکہ میں بھی جلوسوں کے روٹس کا خود دورہ کر کے صورتحال کا جائزہ لوں گا۔ جلوسوں کے روٹس پر صفائی کے بہتر سے بہتر انتظامات کیے جائیں گے۔ نکاسی آب کے حوالے سے بھی محکمہ پبلک ہیلتھ کے ساتھ تعاون کیا جائے گا تاکہ 12 ربیع الاول کے روز پانی سڑکوں پر نہ نکلے۔ میئر سکھر کا مزید کہنا تھا کہ سکھر شہر کی بہتری کے لیے جتنا کام ہمارے دور میں ہوا اس کی مثال نہیں ملتی، گزشتہ دور میں صرف 8-10 کلو میٹر گلیوں کو پکا کیا گیا، مگر ہم نے اپنے دور میں 93 کلو میٹر تک گلیوں کو پختہ کروایا ہے۔ پرانا سکھر کے علاقے میں نکاسی آب کی میگا اسکیم پر کام ہورہا ہے۔ 43 انچ کی نئی لائن ڈالی جارہی ہے۔ 4-5 ماہ میں اسکیم مکمل ہوجائے گی، جس کے بعد پرانا سکھر میں نکاسی آب کا مسئلہ مستقل حل ہوجائے گا۔ گزشتہ دور میں بنا پلاننگ کے کام کیے گئے، جس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑرہا ہے۔ چاہتے تو ہم بھی عارضی بندوبست کر کے جان چھڑوا سکتے تھے مگر ہم نے مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے کا عہد کیا۔ اسکیم تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جبکہ دیگر ترقیاتی کام بھی جلد مکمل ہوجائیں گے۔ ارادے نیک ہوں تو کوئی کام مشکل نہیں ہوتا کیونکہ اس میں اللہ کی مدد بھی شامل ہوجاتی ہے۔ میئر سکھر نے شرکا کی درخواست پر ربیع الاول کی مناسبت سے ایک پروگرام مہران کلچر سینٹر میں منعقد کروانے کا بھی اعلان کیا۔