شرکت میانہ حق وباطل نہ کر قبول

158

ظا ہر ہی نہیں عمل کے اعتبار سے بھی اچھے مسلمان ہیں۔ اسلام کے عملی نفاذ اور احیاء کی بات چل رہی تھی۔ اس بارے میں ان کے فرمودات! کیا عرض کی جائے۔ بہتر ہے ایک قصہ سن لیجیے:
دو بلند عمارتوں کے درمیان بندھی رسی پر معلق، کرتب دکھانے والا بلا خوف وخطریوں چل رہا تھا جیسے چہل قدمی کررہا ہو۔ سرکسوں میں ایسے کرتب معمول ہوتے ہیں لیکن اس کرتب باز کا کمال یہ تھا کہ اس نے اپنے جواں سال بیٹے کو بھی کا ندھوں پر چڑھا رکھا تھا۔ انسان اپنی جان تو خطرے میں ڈال سکتا ہے لیکن اولاد کی جان خطرے میں ڈالنا!! تصور ہی سے اعصاب چٹخنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ نیچے کھڑے لوگوں کی حیرت اور خوف سے سانسیں رُکی ہوئی تھیں۔ کرتبیا ایک عمارت سے دوسری عمارت تک کامیابی سے پہنچا تو لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ حیرت اور توصیف سے وہ تالیاں بجائے چلے جا رہے تھے۔ کرتب باز کی مہارت دنگ کر دینے والی تھی۔ اس موقع پر کرتبی نے مجمع سے پوچھا ’’آپ دوبارہ یہ کرتب دیکھنا چا ہتے ہیں‘‘۔ لوگوں نے کہا ’’کیوں نہیں‘‘۔ کرتبی نے کہا ’’آپ کو یقین ہے میں دوبارہ بھی یہ عمل کامیابی سے کرسکوں گا؟‘‘ لوگوں نے کہا ’’یقینا! تم دوبارہ بھی یہ کرتب کامیابی سے کر سکتے ہو۔ تم ایک ماہر کرتب باز ہو‘‘۔ کرتب دکھانے والے نے اس اعتماد پر جھک کر لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور ایک حیرت انگیز سوال کیا ’’دوسری مرتبہ میں اپنے بیٹے کے بجائے آپ میں کسی ایک کو اپنے کاندھوں پر بٹھا کر رسی پر چلنا چاہتا ہوں، تو کون ہے جو میرے ساتھ اس عمل میں شریک ہو گا‘‘۔ مجمع پر سکوت طاری ہوگیا۔ لوگ بغلیں جھانکنے لگے۔ کرتب باز تھوڑی دیر لوگوں کو دیکھتا رہا۔ پھر مسکرا کر بولا ’’آپ کو علم تو ہے کہ میں یہ کام کرلوں گا لیکن آپ کے دل میں کہیں نہ کہیں بے یقینی موجود ہے۔ آپ کو اس درجے یقین نہیں کہ آپ کی مرتبہ بھی آپ کے معاملے میں بھی کامیاب ہو جائوں گا‘‘۔
کچھ ایسا ہی معاملہ آج اسلام اور مسلمانوں کا ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ، اللہ کے رسولؐ، اللہ کی آخری کتاب قرآن مجید پر ہمارا ایمان ہے لیکن زندگی کے معاملات میں ان ذرائع سے اخذ تعلیمات پر عمل!! ہم تذبذب میں پڑ جاتے ہیں۔ ہمیں علم ہے اللہ کے حضور سجدہ لازم ہے لیکن یہ ایک سجدہ ہزار سجدوں سے نجات دلاتا ہے ہمارے یقین اور عمل میں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ اسلام کے بطور نظام نفاذ کے معاملے میں بھی ہمارا رویہ ایسا ہی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس دنیا کے تمام مسائل کا حل شریعت مطہرہ میں ہے لیکن ہمیں ایسا لگتا ہے اس شریعت کا نفاذ موجودہ دور میں ممکن نہیں۔ زندگی کی بنیادی ضروریات تک ہر انسان کی رسائی کا حل اسلامی تعلیمات میں موجود ہے لیکن اسلام کی سیاسی اور اقتصادی تعلیمات کو ہم کسی نہ کسی درجے میں موجودہ دور میں ناقابل عمل سمجھتے ہیں۔ اشتراکیت اور اب سرمایہ داریت ناکامی سے دوچار ہیں۔ اس خلا کو اسلام با آسانی پر کر سکتا ہے لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے عملی جدوجہد کی کامیابی پر ہمیں یقین نہیں۔ ہم مساجد بنا رہے ہیں، مدارس کی تعداد میں اضافہ کررہے ہیں، نماز روزہ، حج، زکوۃ، ذکر، فکر اور تبلیغ پر زور ہے، یقینا ان کا ترک بڑا گناہ ہے لیکن اسلام کے نفاذ کی عملی جدوجہد کو ہم اس درجے میں لازم سمجھنے پر یقین نہیں رکھتے۔ اس فکر کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد عمو ماً اور عصر حاضر میں خصوصاً جہاں جہاں بھی اسلام کے نفاذ کی تحریکیں بپا ہوئیں انہیں نہ صرف ناکامی کا سامنا کرنا پڑ ا بلکہ ان جماعتوں کے کارکنان کو بدترین ظلم، عقوبت اور دار ورسن کا سامنا کرنا پڑا۔ ان ناکامیوں کو اسلام کی ناکامی سمجھا جاتا ہے۔ ان جماعتوں کی ناکامی کی بنیادی وجہ پر غور کم ہی کیا جاتا ہے۔ نبی کریمؐ کی سیرت کی روشنی میں جائزہ لیں تو عالی مرتبتؐ کے اسوۂ حسنہ میں اس کا جواب موجود ہے۔
مشرکین مکہ کو رسالت مآبؐ کی دعوت سے خطرہ محسوس ہوا تو انہوں نے آپؐ کو متعدد پیشکش کیں۔ ایک پیشکش یہ کی گئی کہ ایک سال ہم آپؐ کے ربّ کی عبادت کریں اور ایک سال آپؐ ہمارے بتوں کی۔ ایک اور موقع پر آپؐ کو دعوت دی گئی کہ جس ربّ کی آپ عبادت کرتے ہیں ہم اس ربّ کی عبادت کرنے پر تیار ہیں۔ بدلے میں جن بتوں کی ہم پوجا کرتے ہیں آپ کو بھی انہیں پوجنا پڑے گا۔ ایک مرتبہ آپؐ کو مشرکین مکہ کی سرداری، بادشاہت اور مال ودولت کی پیشکش کی گئی۔ بظاہر یہ پیشکشیں بہت پر کشش اور دلفریب تھیں۔ آپؐ جواز تراش سکتے تھے کہ اگر ایک برس تک مشرکین اللہ کی عبادت کریں گے، اللہ کی وحدانیت پر گواہی دیں گے، زندگی موت اور رزق سے لے کر تمام معاملات میں اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کریں گے تو ان کا اپنا مقدمہ کمزور پڑ جائے گا۔ دوسری پیشکش کے بارے میں بھی قرار دیا جا سکتا تھا کہ کوئی دکھائی دینے والے خدا کو سجدہ کرے یا ان دیکھے خدا کو، کیا فرق پڑتا ہے، سجدہ تو خدا ہی کو کررہا ہے۔ جہاں تک تیسری پیشکش کا تعلق ہے اس میں بھی یہ حکمت تلاش کی جاسکتی تھی کہ مشرکین مکہ کا سردار بن کر بادشاہ بن کر دارلندوہ کا حصہ ہوکر دعوت کا کام بھی سہل ہوجائے گا اور مسلمانوں کو کفار کی ایذا رسانی سے بھی نجات مل جائے گی۔ لیکن رسالت مآبؐ نے بلا تردد اگلے لمحے میں ہی ان دعوتوں کو مسترد کردیا۔
نبی کریمؐ نے اپنے وقت کے مروجہ نظام سے باہر رہتے ہوئے سیاسی اور فکری جدوجہد کی۔ وہ تمام تر ترغیبات اور لالچ جن کی بنا پر ہماری دینی سیاسی جماعتیں موجودہ نظام کا حصہ بنتی ہیں رسالت مآبؐ کو بھی پیشکش کی گئیں لیکن آپ ایک لمحہ کے لیے بھی اس نظام کا حصہ نہیں بنے۔ ایک لمحہ کے لیے بھی حق وباطل کے درمیان شرکت گوارا نہیں۔ ادنیٰ سی مفاہمت کے بغیر اس نظام کا حصہ بنے بغیر آپؐ نے اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور پوری طاقت کے ساتھ اسلام کونافذ کیا۔ دس برس کی قلیل مدت میں پورا جزیرۃ العرب آپ کے زیر نگیں تھا۔
جس عمل کو رسالت مآبؐ نے مسترد کردیا، جس شاہراہ پر آپ نے ایک قدم رکھنا پسند نہیں کیا، ایک ساعت کے لیے اس کا حصہ بننا گوارا نہیں کیا دینی سیاسی جماعتوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ اس نظام کا حصہ بن کر اسلام نافذ کرنا چاہتی ہیں، حکومت تک پہنچنا چاہتی ہیں۔ یہی ان کی وہ بنیادی غلطی ہے جس کی بنا پر وہ ناکامی سے دوچار ہیں۔ باطل کی، چالاکی یہ ہے کہ وہ دینی سیاسی جماعتوں کو موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اس نظام کا حصہ بنیں اور اس نظام کے اندر رہتے ہوئے اقتدار تک پہنچے کی کو شش کریں۔ اس کا مقصد دینی سیاسی جماعتوں کو اقتدار تک رسائی دینا نہیں بلکہ انہیں خراب کرنا ہوتا ہے۔ ان کی شناخت کو برباد کرکے عوام میں ناقابل اعتبار ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اگر حالات کی کسی کروٹ، کسی انقلاب کے نتیجے میں دینی سیاسی جماعتیں الجزائر اور مصر کی طرح اقتدار تک پہنچ بھی جائیں تو یہ نظام انہیں قبول کرنے کے بجائے، غیر موثر کرکے بے دخل کرکے زندانوں میں پھینک دیتا ہے۔
گزشتہ ڈیڑھ دو صدی کی متواتر پسپائی، ناکامی اور ذرائع ابلاغ کی طاقت سے ایک ایسی فضا بنادی گئی ہے کہ دینی سیاسی جماعتوں، دینی حلقوں اور عام مسلمانوں میں یہ خیال تو موجود ہے کہ اسلام ایک مثالی نظام ہے لیکن زندگی کے عملی مسائل غربت، بھوک، ظلم، بے انصافی، معاشی ناہمواری، عدم مساوات، اقتصادی اور معاشی مسائل سے نمٹنے کے معاملے میں اسلام قابل عمل اور قابل نفاذ ہے موجودہ عہد میں اس کا ہمیں اس درجہ یقین نہیں جیسا یقین ہونا چاہیے۔ یہ عدم یقین ہمارے عمل میں بھی نظرآتا ہے۔ اشتراکیت اور سرمایہ داریت کی خیالی جنت محض ایک فریب ثابت ہوئی ہے جب کہ اسلام تیرہ سو برس ایک قابل عمل ضابطہ حیات کے طور پر دنیا میں موجود رہا ہے۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ اس دور میں زیادہ آسانی کے ساتھ ممکن ہے، کوئی وجہ نہیں اگر ہمیں یقین ہو اور ہم رسالت مآبؐ کے طریقہ عمل کی پیروی کریں۔ اسلام کے ابتدائی عہد کے مسلمانوں کی قوت کا سرچشمہ یہی یقین، اعتماد اور بھروسا تھا۔