طفیل عباس کا تعزیتی ریفرنس

40

تحریر : شیخ مجید

طفیل عباس جو کراچی اور PIA سے متعلق تھا لیکن جب ان کا تعزیتی ریفرنس کراچی میں منعقد ہوا تھا تو اس پر لاہور والوں کا قبضہ تھا، جب کہ وہ لاہور میں ان کا تعزیتی ریفرنس کرچکے تھے اور اصولی طور پر تو یہ تعزیتی ریفرنس PIA اور کراچی والوں کا حق بنتا تھا لیکن اس پر PIA کے بجائے پاکستان مزدور محاذ کا لیبل چسپاں کرکے لاہور، راولپنڈی، امریکا، برطانیہ، دبئی کا دیگر علاقوں سے اس پروگرام کو کیا گیا۔ جب کہ پشاور سے مزدور کسان پارٹی اور PIA کے رہنما یوسف انور خٹک کو ان کا پیپر بھی مختصر پڑھنے دیا گیا۔ یہ کونسی مزدور سیاست تھی کہ اعلان کیا گیا کہ جلسے میں صرف طفیل عباس کے متعلق بات کی جائے جب کہ طفیل عباس کا تعلق مزدور سیاست کے حوالے سے تو سیاسی ہی بنتا تھا۔ اس طرح اس جلسے میں کلیم درانی نے زبردستی اسٹیج پر آکر اپنی بات کہی، کیوں کہ ان کا نام مقررین کی فہرست میں شامل نہ تھا جب کہ کلیم درانی طفیل عباس کی پارٹی کے روح رواں تھے، جب کہ یہ انتظامیہ کا کوئی پتہ نہ تھا۔ جن لوگوں کے نام یا تو شامل نہ تھے یا ان کے نام فہرست میں شامل تھے انہیں بھی نہ بلایا گیا۔ جن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل قادر مندوخیل، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مسٹر صدیقی، پیپلز لیبر بیورو سندھ کے صدر حبیب الدین جنیدی، PIA کے مزدور رہنما مولا داد خان لغاری، ریلوے ورکرز یونین کے صدر منظور رضی، ریلوے مزدور یونین کے مقدر خان، سندھ لیبر فیڈریشن کے شفیق غوری، پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کے ایوب قریشی، نائو کی رفعت پروین، زاہد فاروق، قاضی خضر، NTUFکے ناصر منصور، HRCP کے عبدالحئی، نیشنل پارٹی کے محمد رمضان میمن، محمد عادل، میر ذوالفقار، PC ہوٹل کے غلام محبوب سمیت ان گنت مزدور، سیاسی اور سماجی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے رہنما شامل تھے۔ لیکن میں PIA کا تذکرہ کررہا تھا کہ PIA سے طفیل عباس کا بنیادی تعلق تھا اور سوائے اقبال علوی کے انہوں نے طفیل عباس کے 1949 سے پندرہ سالوں تک تجزیہ پیش کیا اور باقی کا سفر اجلاس کے منتظمین نے جان بوجھ کر غائب کردیا کیوں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو منتظمین سے پوچھا جارہا ہے اور پوچھا جائے گا۔ ان پندرہ سالوں کے بعد بھی طفیل عباس نے PIA کے حوالے سے بڑی جدوجہد کی۔ ایئرویز یونین نے پاکستان کو رکھنے کے لیے بہت جدوجہد کی لیکن 1969ء میں ائیرمارشل نور خان نے IRO-69 آنے کے بعد ایک سے زائد یونین کا سلسلہ چل نکلا تو اس میں PIA بھی شامل تھا اور جب 1969 میں ہی PIA کا ملک گیر ریفرنڈم ہوا تو باوجود مشکلات کے ایئرویز نے حصہ لیا۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں کٹھن جدوجہد کی اور جب 1972ء کا ریفرنڈا ہوا تو طفیل عباس جو PPP کے بڑے سپورٹر تھے لیکن ان کی مخالفت کے باوجود ایئرویز فتح یاب ہوئی۔1974ء کے ریفرنڈم میں PPP کے پنجاب کے گورنر، وزیر قانون حفیظ پیرزادہ، اور اس طرح کے بے شمار لوگوں نے جماعت اسلامی کی تنظیم کا ساتھ دیا اور PIA میں پیاسی کو کامیابی دلائی۔ جب جنرل ضیاء برسراقتدار آئے تو فرق صاف نظر آگیا۔ اس نے آتے ہی PIA میں ٹریڈ یونین پر اس وقت پابندی عائد کی جب یوپیائی کے جیتنے کے بعد جنرل ضیا کو مشکلات پیش آئیں۔ ان حالات میں بھی طفیل عباس کا ساتھ دینے والے آغا جعفر، کامران چودھری، مولا داد لغاری اور مجھ سمیت لاتعداد ساتھیوں نے ویکٹا نائزڈ یونٹی کی بنیاد رکھی اور پھر محترمہ بے نظیر بھٹو کی درخواست پر اس کا نام پیپلز یونٹی آف PIA ایمپلائز رکھا گیا۔ جس کے پہلے صدر آغا جعفر، سیکرٹری جنرل کامران چودھری اور دیگر عہدیداران بنائے گئے، لیکن یہ اصولی اتحاد تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی صرف پیپلز یونٹی کی سیاسی حمایت کرے گی اور پیپلز یونٹی پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دے گی لیکن پیپلز یونٹی PIA میں کسی طور بھی مداخلت پسند نہیں کرے گی اور اس کے ساتھ PIA ٹریڈ یونین کی بحالی، بلاامتیاز ملازمین کی بحالی جن میں مشاہد اللہ خان، پیاسی کے برجیس احمد اور دیگر لوگ بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ PIA میں جنرل ضیاء کے دس سالہ دور کے رُکے ہوئی تنخواہوں میں اضافے کو ممکن بنایا گیا اور ایک خوشحالی کا دور آیا۔ اسی طرح جنرل مشرف کے دور میں بھی PIA میں ٹریڈ یونین پر پابندی لگی اس وقت بھی یہی طفیل عباس سے سبق سیکھنے والے آغا جعفر، کامران چودھری اور ان کے ساتھی تھے، کمربستہ جدوجہد رہے اور پھر محترمہ بے نظیر بھٹو برسراقتدار آئیں تو فرق صاف ظاہر ہے۔ لیکن جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جو بھی قیادت پارٹی اور حکومت میں آئی اس نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے اصول فراموش کردیے اور PIA میں یونین کی سطح پر بھی مداخلت کی، جس پر پیپلز یونٹی کو کامران چودھری، اشرف بلو اور شیخ مجید سمیت ڈھائی ہزار لوگوں نے پاکستان پیپلز پارٹی سے اپنا تعلق ختم کرلیا اور ایک نئی یونین بنائی، کیونکہ طفیل عباس نے ہمیں یہی درس دیا تھا کہ کبھی بھی کسی پارٹی اور حکومت کا دست راست بن کر نہیں رہنا بلکہ جرأت مندانہ انداز سے جدوجہد کرنی ہے۔ لیکن یہ امور جو بہت ضروری تھے طفیل عباس کے تعزیتی ریفرنس میں نظر انداز کردیے گئے جو ایک سوالیہ نشان ہے۔