سندھ سوشل سیکورٹی طبی سہولتیں فراہم کررہی ہے،منصور معطر

50

سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن حیدرآباد کے شعبہ تعلقات عامہ تربیت وتحقیق کے زیر اہتمام حیدرآباد کے ایک مقامی ہوٹل میں سوشل سیکورٹی کے فوائد اور رجسٹریشن کے طریقہ کار سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کیلئے ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر تعلقات عامہ تربیت وتحقیق منصور معطر کا کہنا تھا کہ محکمے کی ہرممکن کوشش ہے کہ محنت کشوں کو وہ تمام سہولیات بمراہ فراہم کی جائیں جس کے وہ لیبر قوانین کے تحت حقدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل سکیورٹی اسکیم محنت کشوں کی وہ اسکیم ہے جس میں انہیں مالی فوائد کے ساتھ ساتھ مکمل طبی سہولیات کی فراہمی بھی کی جاتی ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل سیکورٹی اسکیم سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے جس کے لیے اداروں کا پہلے رجسٹرڈ ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آجران کی آسانی کے لیے 20 فروری سے آن لائن رجسٹریشن کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ یہ آن لائن رجسٹریشن آزمائشی طور پر پہلے صرف کراچی میں کی جارہی ہیں جس سے اب کراچی کے آجران گھر بیٹھے اپنے ادارے کو رجسٹرڈ کرا کر ان اسکیم سے فوائد حاصل کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معاشی ترقی اور محنت کشوں کی فلاح وبہبود ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن مزدورں اور ان کی خاندان کو مالی فوائد اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ محنت کش جن کی تنخواہیں 22,500 سے کم ہیں وہ سوشل سکیورٹی اسکیم میں شامل ہوسکتے ہیں جبکہ شخص ہر وہ مزدور جو ایک بار اسکیم میں شامل ہوجائے پھر وہ ریٹائرمنٹ تک اسکیم کا حصہ رہتا ہے۔ اس موقع پر سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کوٹری کے ڈائریکٹر سہیل احمد خان ،سیسی حیدرآباد کے ڈائریکٹر حبیب اللہ، سیسی حیدرآباد کے تحت چلنے والے اسپتال کے میڈیکل سپریڈینٹ ڈاکٹر سعیداحمد، حیدرآباد سائٹ ایسوسی
ایشن کے شاید قائم خانی، مزدور یونین کے جنرل سیکرٹری عدنان نے بھی سیمینار سے خطاب کیا۔ بعد ازں سیمینار کے مہمانوں کو سندھ کا روایتی تحفہ سندھی اجرک اور ٹوپی بھی پیش کی گی۔