’کشمیر خالصتان ریفرنڈم فرنٹ‘ کی تشکیل

62

فرینڈز آف کشمیر اور سکھ فار جسٹس نے مل کر کشمیر خالصتان ریفرنڈم فرنٹ تشکیل دے دیا ۔ جس کے نتیجے میں سکھوں اور کشمیریوں کے لیے ریفرنڈم ٹوئنٹی ٹوئنٹی مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔ اس حوالے سے جنیوا میں ایک احتجاجی مارچ کا انعقاد کیا گیا۔ اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے سامنے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے فرینڈز آف کشمیر کی چیئرپرسن غزالہ حبیب نے کہا کہ 5 اگست سے کشمیر کی وادی جیل میں تبدیل ہو چکی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ یہ انسانی بحران دنیا میں کسی کو نظر نہیں آ رہا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر خالصتان فرنٹ کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ دونوں مظلوم کمیونٹیز کو حق خود ارادیت دلوائی جائے۔ احتجاج میں فرینڈز آف کشمیر، سکھ فار جسٹس اور دیگر تنظیموں کی جانب سے بھرپور شرکت کی گئی تھی۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت میں ایک فاشسٹ حکومت ہے جہاں اقلیتوں کو حقوق حاصل نہیں۔ سکھوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور کشمیر میں مظالم کی انتہا کردی گئی ہے۔ دنیا ان معاملات پر فوری توجہ دے۔ مظاہرے میں خالصتان موومنٹ کے قانونی مشیر نے حق خودارادیت کے حوالے قوانین پر عمل کرنے ضرورت پر زوردیا۔ مظاہرے سے اوتار سنگھ پنوں، ڈاکٹر بخشی سنگھ ،جسبیر سنگھ ،جتندر اگروال ،پرم جیت سنگھ ،جکرم سنگھ ،دویندر جیت سنگھ ،جگجیت سنگھ ،گرپنت سنگھ پنوں، زاہد ہاشمی ،علی رضا سید ،تنویر اور قدیر نے بھی خطاب کیا۔