پاکستان قونصلیٹ میں کشمیر کمیٹی جدہ کے تعاون سے یوم سیاہ کی تقریب

39

مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے قونصل جنرل پاکستان خالد مجید کی رہایش گاہ پر کشمیر کمیٹی جدہ کے تعاون سے 27 اکتوبر کوبطور یوم سیاہ منانے کے لیے ایک پُروقارتقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں پاکستانی و کشمیری برادری نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کاآغاز قاری محمد آصف نے تلاوت و ترجمہ قرآن پاک سے کیا۔ اس موقع پر الیاس محبوب نظامی نے صدر پاکستان اور پاکستان قونصلیٹ جدہ کے پریس قونصلر ارشد منیر نے وزیر اعظم پاکستان کے یوم سیاہ کی مناسبت سے پیغامات پڑھ کر سنائے۔
نوجوانوں کو یوم سیاہ اور جدوجہد آزادی کشمیر سے روشناس کرنے کے لیے پاکستان انٹرنیشنل اسکول جدہ و طائف کے طلبہ نے پُرجوش خطاب کیا، جس میں برہان امجد، بلال شعیب اورعدیل یسین نے حاضرین کو بے حد متاثر کیا۔ کشمیر کمیٹی جدہ کے چیئرمین مسعود احمد پوری نے اپنے خطاب میں قونصل جنرل خالد مجید اور قونصلیٹ و کمیٹی کے تمام ارکان کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے یوم سیاہ کے موقع پرکشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے تقریب کا انعقاد کیا۔
جموں و کشمیر اوورسیزکمیٹی کے سینئر وائس چیئرمین چودھری خورشید احمد متیال نے کہا کہ آج پاکستان سمیت پوری دنیا میں جہاں پاکستانی اور کشمیری بس رہے ہیں، انہوں نے جس جذبے کے ساتھ مقبوضہ کشمیرکے مظلوم بھائیوں کے ساتھ تحریک آزادی کشمیر کی خاطر اظہار یکجہتی کیا ہے، انہیں سلام پیش کرتاہوں۔
قونصل جنرل خالد مجید نے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 27 اکتوبر 1947ء سے کشمیریوں کو بھارت کے ہاتھوں بدترین جبر و تشدد اور پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر کا مقصد کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 5 اگست کی کارروائی نے کشمیریوں کی حالت زار کو بدتر کردیا ہے۔ ان کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے سے انکار کے علاوہ کئی مہینوں سے بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کر کے گھروں میں قید کردیا گیا ہے۔ خالد مجید نے مزید کہا کہ پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے سیاسی ، اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رکھے گا۔
تقریب میں اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل کی نمایندگی اُن کے مشیر برائے ایشیا احمد سریر نے کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے مظلوم کشمیریوں کے خلاف جارحیت کی تمام کارروائیوں کی مذمت کی اور اسلامی تعاون تنظیم کے کشمیری عوام کے لیے حق خودارادیت کے موقف کا اعادہ کیا ۔ آخر میں مولانا عبدالحسیب نے پاکستان ، کشمیر اور عالم اسلام کی بھلائی اور سربلندی کی دعا کی۔