بغدادی کی موت ٹرمپ کو سیاسی فائدہ نہیں دے گی

52

رافعہ زکریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آپے سے باہر نکلے جا رہے تھے۔ 26 اکتوبر کی شام ان سے رہا نہیں گیا اور ٹوئٹر پر اشارہ دے دیا کہ ’بالکل ابھی ایک غیرمعمولی واقعہ ہوا ہے!‘ انہوں نے شش و پنج میں ڈال دینے والے ٹوئٹ کے ذریعے لوگوں کو حیران کرنے کی کوشش کی لیکن عین ممکن ہے کہ اکثر امریکیوں نے ان کی بات پر زیادہ توجہ ہی نہیں دی ہوگی کیونکہ وہ اپنے کمانڈر ان چیف کی جانب سے ہر روز بلکہ ہر گھنٹے بعد کہی جانے والی بے تحاشا، بے معنی و بے مقصد باتوں کے عادی بن چکے ہیں۔
وہ بڑا واقعہ دراصل شمالی شام کے شہر ادلب میں واقع ایک کمپاؤنڈ پر امریکی ڈیلٹا فورس کی جانب سے کی جانے والی کارروائی تھی۔ جب صدر ٹرمپ اس واقعے کے حوالے سے باضابطہ خطاب کرنے آئے تب تک اتوار کی صبح کا سورج طلوع ہوچکا تھا اور حسب توقع انہوں نے بڑھا چڑھا کر پیش کی جانے والی فضول باتوں پر مبنی خطاب کیا۔ صدر نے کہا کہ داعش کے رہنما کو بزدلی کی موت نصیب ہوئی ہے اور وہ مرنے سے قبل رو رہا تھا اور سسکیاں لے رہا تھا۔ پھر وہاں موجود میڈیا نمایندگان کے ساتھ ہونے والی 46 منٹ پر مشتمل گفتگو میں کئی دیگر معاملات پر بھی انہوں نے اپنا خیال پیش کیا۔ اس دوران انہوں نے یہ بات بھی کہی کہ وہ پہلے اور واحد شخص تھے جس نے یہ کہا تھا کہ اسامہ بن لادن ایک دہشت گرد ہے اور اسے مار دینا چاہیے، لیکن ان کی کسی نے نہیں سنی۔
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ دیگر صدور پر خود کو برتر قرار دینا ویسے ہی ان کی ہر پریس کانفرنس کا لازمی جزو ہوتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اسامہ بن لادن کو مارنے کے لیے کی جانی والی کارروائی اور آپریشن سے زیادہ اہمیت کی حامل حالیہ کارروائی ہے۔
کارروائی کے ابتدائی گھنٹوں بعد یوں محسوس ہوا جیسے ابوبکر بغدادی کی موت کے لیے ہونے والے آپریشن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو کئی مصیبتوں سے بچالیا ہے۔ ایک طرف مؤاخذے کی تحقیقات جاری ہے تو دوسری جانب یوکرائن کے ساتھ خفیہ روابط سے متعلق شواہد منظر عام پر آرہے ہیں، جس کی وجہ سے شدید دباؤ کے شکار ٹرمپ کو کوئی معجزہ درکار تھا، ایسا معجزہ جو ان کے لیے آسانی پیدا کرسکے۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ ٹرمپ نے اپنے انتخابی حریف جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے خلاف تحقیقات کرنے کے لیے یوکرائن کو مبیّنہ طور پر درخواست کی تھی۔
شام میں ہونے والی کارروائی جس میں سب سے زیادہ مطلوب دہشت گرد کو مار دیا گیا ہے، دراصل ایک ایسا واقعہ نظر آتا ہے جو دوسری بار حکومت دلانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، (ٹھیک ویسے ہی جیسے اسامہ بن لادن کی ہلاکت اوباما کے لیے مددگار ثابت ہوئی تھی۔)
یوں لگا جیسے اسی مقصد کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس واقعے کی تشہیر کا اہتمام کیا گیا۔ اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر کارروائی کے بعد کچھ تصاویر منظر عام آئیں تھیں جس میں صدر، اسٹیٹ سیکرٹری ہیلری کلنٹن اور دیگر کو ایک گروپ کی صورت میں کارروائی براہِ راست دیکھتے ہوئے دِکھایا گیا تھا اور بغدادی کے خلاف حالیہ کارروائی کے بعد بھی منظر عام پر آنے والی تصاویر میں ٹرمپ عالیشان کانفرنس میز پر اپنے مشیروں اور وزرا کے ساتھ ممکنہ طور پر براہِ راست کارروائی دیکھتے ہوئے نظر آئے۔ حالانکہ حالیہ واقعے میں سیاسی فتح دلانے کے تمام اجزا موجود تھے لیکن اس کے باوجود بغدادی کی ہلاکت کا واقعہ بے اثر سا محسوس ہوتا ہے، یہ واقعہ لوگوں میں مطلوبہ ترغیب پیدا ہی نہیں کرسکا۔ جس کا ثبوت اسی دن شام کو مل گیا۔ اتوار کی رات کو صدر ٹرمپ اور خاتون اوّل میلانیا ٹرمپ نے بیس بال کی ورلڈ سیریز میں شرکت کی۔ ڈی سی کی مقامی ٹیم واشنگٹن نیشنلز کا مقابلہ ہیوسٹن ایسٹروز سے تھا۔ میدان میں تقریباً 50 ہزار افراد موجود تھے اور پھر تیسری اننگ کے اختتام پر جب ٹرمپ کو متعارف کروایا گیا تو پورے اسٹیڈیم نے ان پر آوازیں کسنا شروع کردیں۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ آواز کسنے کے بعد ’اس آدمی کو جیل میں بند کرو!‘ کے نعرے بھی بلند کیے گئے، ٹھیک ویسے ہی جیسے ٹرمپ کی ریلیوں میں ان کے چاہنے والے ہیلری کلنٹن کے لیے اس طرح کے نعرے لگایا کرتے تھے۔ یوں محسوس ہوا جیسے پورا اسٹیڈیم تمام امریکیوں کی نمایندگی کر رہا ہے، چاہے انہوں نے بغدادی یا کسی دوسرے کو پکڑا ہو یا نہ پکڑا ہو اس سے قطع نظر لوگوں میں ٹرمپ کی ناپسندیدگی اور نفرت میں کوئی فرق نہیں آیا۔
بغدادی کی ہلاکت پر امریکی خارجہ پالیسی اسٹیبلشمنٹ کا ردِعمل بھی کافی دلچسپ نظر آیا ہے۔ مختلف تھنک ٹینکس سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار اس واقعے کے بعد کافی محتاط نظر آئے۔ حالانکہ یہ وہ تجزیہ کار ہیں جنہوں نے دہشت گردی یا دہشت گردوں سے جڑے واقعات پر تجزیات کو ایک صنعتی ادارے میں تبدیل کردیا جسے 11 ستمبر کے واقعے کے بعد یعنی گزشتہ 18 برسوں کے دوران زبردست فروغ ملا۔
اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد جس طرح یہ افراد ایک دوسرے سے گلے مل رہے تھے اور خود کو مبارکباد دینے میں مصروف تھے اس کے برعکس اس مرتبہ ان کا کہنا تھا کہ رہنما کے مرجانے سے دہشت گردی کے جال اور دہشت گرد تنظیمیں ختم نہیں ہوجایا کرتیں۔ ان تجزیہ کاروں میں سے ایک نے یہ بھی کہا کہ امریکیوں کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ انہوں نے بغدادی کو مارا ہے، کیونکہ بغدادی نے تو خودکش جیکٹ کے ذریعے خود کو مارا ہے۔ کچھ بیانات ایسے بھی آئے جن میں کہا گیا کہ بغدادی کے مرنے سے داعش کا خطرہ ٹلا نہیں ہے اور تنظیم کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔
امریکا کے علاوہ باقی دنیا کے لیے تجزیہ کاروں کی یہ احتیاط اور کارروائی میں لوگوں کی عدم دلچسپی مثبت باتیں ہیں۔ اگرچہ بغدادی جیسے ظالم شخص کی موت بلاشبہ خوشی کا موقع ہے لیکن یہ سب نے دیکھا کہ بڑے بڑے دہشت گردوں کے قتل کے واقعات اب ملک کے اندر زیادہ سیاسی فوائد نہیں پہنچارہے۔ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکا کی دہشت گردی سے متعلق پالیسی اب بڑے اہداف کو نشانہ بنانے کا شوق ترک کرسکتی ہے۔
یہ بات کہنے میں اب کوئی مشکل نہیں کہ بغدادی کی ہلاکت ٹرمپ کو ملک میں کم ہوتی مقبولیت کے معاملے میں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گی، تاہم اس کے باوجود بھی سیاسی کامیابیوں کی خاطر ہر صدر دوسرے کو اس قسم کی کارروائیوں کے مقابلے میں پیچھے چھوڑنا چاہے گا۔
بغدادی کو مارنے کی کارروائی کے بعد امریکی اسپیشل فورسز نے کمپاؤنڈ تباہ کردیا اور بغدادی کی باقیات اپنے ساتھ لے گئے۔ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے استعمال کیے جانے والے جسم کے حصوں کو چھوڑ کر ان کی باقیات کو بھی اسامہ بن لادن کی باقیات کی طرح سمندر برد کردیا گیا۔ اب آیندہ ماہ جیسے جیسے اگلے صدارتی انتخابات کے لیے مہم میں تیزی آئے گی تو صدر ٹرمپ یقیناً یہ دعویٰ کریں گے کہ انہوں نے تن تنہا داعش کو شکست دی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ مطلوب شخص کی ہلاکت کے ابتدائی دنوں بعد نظر آنے والی صورتحال کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ٹھیک ایک سال بعد اپنے لیے نئے صدر کا انتخاب کرنے والے امریکی اس واقعے سے زیادہ متاثر نہیں ہوئے ہیں۔ (بشکریہ ڈان)