کشمیر پکار رہا ہے

48

انعم مزمل
برصغیر پاک و ہند کے شمال مغرب میں واقع ایک ریاست ہے جس کا کل رقبہ 69547 مربع میل ہے ۔1947ء کے بعد ریاست جموں کشمیر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ۔ اس وقت بھارت 39102 مربع میل پر قابض ہے جو کہ مقبوضہ کشمیر کہلاتا ہے اس کا دار الحکومت سری نگر ہے ۔ بقیہ علاقہ آزاد کشمیر کہلاتا ہے جو کہ25ہزار مربع میل رقبہ پر پھیلا ہوا ہے ۔ اور اس کا دار الحکومت مظفر آباد ہے ۔ ریاست کی کل آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے جس میں سے25 لاکھ آزاد کشمیر ی ہیں ۔ ہندو راجائوں نے تقریباً چار ہزار سال تک اس علاقے پر حکومت کی1846ء میں انگریزوں نے ریاست جموں کشمیر کو75 لاکھ روپوں کے عوض ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ کے ہاتھوں فروخت کر دیا ۔ کشمیر کی آبادی80فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے ۔ ہندو راجائوں نے بزور شمشیر مسلمانوں کو غلام بنائے رکھا ۔ تقسیم ہند کے بعد ہندو مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمانوں کی مرضی کے خلاف26 اکتوبر1947ء کو بھارت کے ساتھ ریاست کے الحاق کا اعلان کر دیا ۔ اس کے نتیجے میں پاکستان اوربھارت میں جنگ کا آغاز ہو گیا ۔ سلامتی کونسل کی مداخلت پر یکم جنوری1949ء کو جنگ بندی ہو گئی ۔ سلامتی کونسل نے1948ء میں منظور شدہ دو قرار دادوںمیں بھارت اور پاکستان کو کشمیر سے افواج نکالنے اوروادی میں رائے شماری کروانے کے لیے کہا ۔ بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے رائے شماری کروانے کا وعدہ کر لیا مگر بعد ازاں اس سے منحرف ہو گیا ۔ پاکستان نے بھارت سے آزاد کرائے گئے علاقے میں آزاد کشمیر کی ریاست قائم کر دی ۔ کشمیر کا تنازع ستر سال سے اب تک جاری ہے پاکستان کی جانب سے ہمیشہ پر امن طریقہ سے حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
آج جب دنیا کے اکثر اقوام اپنے مسائل حل کر کے دنیا کو پر امن بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ایک بڑا اورحل طلب عالمی تنازعہ مسئلہ کشمیر ہے جو1947ء سے اب تک پاکستان اور بھارت کے درمیان دو سے زائد جنگوںکا باعث بن چکا ہے ۔ بھارت خود اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا اوروہاںپر کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دیا گیا اور قرار داد پاس کی گئی کہ کشمیر کی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیاجائے گا ۔ مگر وقت کے ساتھ بھارت اپنے وعدوں سے مکر گیا اور آج تک کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کے کسی قرار داد پر عمل نہیں کیا گیا ۔
بھارت کے اپنے وزیر اعظم اٹل بہرای واجپائی نے یہ حقیقت تسلیم کی ہے کہ کشمیر ایک حل طلب مسئلہ ہے جس میں بھارت اور پاکستان اور کشمیری عوام اہم فریق ہیں ، ان کی حکومت انسانیت ، جمہوریت اور کشمیریت کی بنیاد پر اس مسئلے کے حل کے لیے حریت اور حزب المجاہدین سمیت جموں کشمیر کی تمام پارٹیوں اور پاکستان کی حکومت سے سنجیدہ بات چیت کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے دور میں بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کے مابین کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کم از کم چار نکات پر اتفاق ہو گیا تھا ۔
سن2016ء میں انڈین فوج کی جانب سے جب 22برس کے برہان وانی کو شہید کیا گیا تو انڈیا کے زیر انتظام بڑے پیمانے پر مظاہرے پھوٹ پڑے ۔ برہانی وانی کے بعد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندی کی نئی مہم شروع ہوئی ۔ سری نگر سے40 کلو میٹر کے فاصلے پر برہانی وانی کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے جنازے کے بعد عوام کا سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں جب سے مزاحمت کا ایک نیا دور شروع ہو گیا اور صرف2018ء میں 500 سے زیادہ کشمیری شہید کر دیے گئے ۔
آج72 سال بعد پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی وجہ سے سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا گیا ۔ جس میں کشمیریوں پر بڑھتے ہوئے مظالم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے چین کی طرف سے واشگاف انداز میں کہا گیا کہ بھارت کا کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کرنے کا اقدام بلا جواز ہے ۔ کشمیر متنازعہ علاقہ ہے اس کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے اگرچہ اقوام متحدہ میں بھارتی سفیر ایک طرفArtical 370 اورA-35 کو انڈیا کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف نہایت ڈھٹائی سے دنیاکی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے ریا کاری سے یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارا ملک کشمیر کے بارے میں اب تک ہونے والے تمام معاہدوں کا پابند ہے اور یہ مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت سے حل ہونا چاہیے مگر عملی طور پربھارت کشمیر کے مسئلے پر سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر عمل کرتا ہے اور نہ شملہ معاہدہ پر ۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم اور اسے بھارت میں ضم کر کے مودی حکومت نے کشمیریوں سے پوچھے بغیر ان کے مستقبل کا فیصلہ خود کرلیا ہے ۔
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق نوے لاکھ کشمیری ہندوستان کی12 لاکھ فوج کا بڑی بہادری سے مقابلہ کر رے ہیں ہر10 کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی مسلط ہے ۔ کرفیو کو لگے ہوئے ایک مہینہ ہونے والا ہے اورکشمیری مسلمان ادویات اور کھانے پینے کی چیزوں سے محروم ہیں ۔80 ہزاربچے یتیم ہو چکے ہیں ۔ آسٹریلیا کے کالم نویس سی جی ورلمین کے مطابق6 ہزار سے زیادہ نا معلوم اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ان لوگوں کی قبریں ہیں جنہیں بھارتی فورسز نے غائب کیا۔49% کشمیری دماغی امراض کا شکار ہیں ۔کشمیر میں سیکورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں عصمت دری کی شرح سب سے زیادہ ہے ۔ معصوم کشمیریوں پر تشدد کیا جا رہا ہے ۔ سات ہزار سے زیادہ زیر حراست ہلاکتیں ہو چکی ہیں ۔ جب کہ بھارت کے وزیر اعظم مودی سرکار کا کشمیر کو عالمی مسئلہ ماننے سے ہی انکاری ہے ۔
ان حالات میں دنیا کو فوری طور پر کشمیر کے مسئلے کے حل پر توجہ دینی چاہیے ۔ اس کے لیے پاکستان کو آگے بڑھ کر کچھ بڑے فیصلے کرنے پڑیں گے ۔ بھارت کوکشیر کو آزادی دینی پڑے گی ۔ بلکہ نہ صرف کشمیر ، خالصتان ، ناگا لینڈ ، آسام سمیت پندرہ صوبے اپنی آزادی کو حاصل کرکے رہیں گے ۔ بھارت میں ہندو اکثریت صرف کہنے کی باتیں ہیں ۔ اصل میںبرہمن حکومت قابض ہیں اور شودر اور اچھوت سمیت دوسری اقلیتوں کے حقوق غصب کر رہے ہیں ۔ بلکہ انہیں انسان ہونے کا حق دینے کے لیے بھی تیار نہیںہیں ۔ آئے دن ان پر مظالم کی داستانیں سنائی دیتی ہیں ۔ بھارت ایک ظالم ریاست ہے جو کشمیر ہی نہیں اپنی دوسری اقلیتوں پر بھی مظالم ڈھا رہا ہے ۔ دنیا کو اس بارے توجہ دینا لازم ہے ۔