انمول نگینے

70

رضوانہ عمران
ہر روز کی طرح ہم دونوں بہن بھائی حسب عادت رات کو ٹی وی دیکھنے بیٹھ گئے ہمارا معمول تھا کہ ہم رات کا کھانا کھا کر لاؤ نج میں آ کر بیٹھ جایا کرتے تھے دادی جان کا کمرہ اور ہمارا کمرا کیونکہ نیچے ہی لاؤ نج کے ساتھ ہی تھا سو دادی جان کھانا کھانے کے بعد اپنے کمرے میں چلی جایا کرتی تھیں لیکن ہم حسب عادت ٹی وی کھول کر بیٹھ جاتے اور ماما بابا ہم سے جلدی سونے کا کہہ کر اوپر چلے جاتے اب ہم دونوں بہن بھائی ٹی وی دیکھنے کے ساتھ ساتھ گپ شپ اور ہنسی مذاق بھی کرتے رہتے تھے دادی جان روز ہمیں آ کر جلدی سونے کا کہا کرتیں تھیں جب دیکھتی کہ رات گئے تک ہم جاگ رہے ہیں اور ساتھ ٹی وی بھی کھلا ہوا ہے تو کہتیں تم لوگ اتنی رات گئے تک جاگتے رہتے ہو اب جا کر سو جاؤ بھلا اتنی دیر جاگنا اچھی بات ھے اور وہ بڑ بڑاتے ہوئے کہتیں پہلے بھی ایک زمانہ ہوا کرتا تھا اس وقت تو ٹی وی کھولنے اور بند کرنے کا ایک ٹائم ہوا کرتا تھا اب تو بے لگام گھوڑے کے طرح چلتا ہی رہتا ہے نہ کھلنےکا کوئی وقت نہ ہی بند ہونے کا نام چلو اٹھو جا کر سو جاؤ نہ خود سو تے ہونا مجھے سونے دیتے ہو اسی طرح وقت گزرتا گیا اب ہمیں ضرورت محسوس ہوئی کہ ہمارے پاس کمپیوٹر ہونا چاہیے ہم نے بابا سے کہا تو بابا نے بھی آج کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ہمیں کمپیوٹر لا دیا اب ہمارے پاس ٹی وی دیکھنے کا ٹائم ذرا کم ہی ملا کرتا تھا اکثر تو ہم دونوں اپنا اپنا کام کمپیوٹر پر الگ الگ ہی کر لیا کرتے تھےجب جس کو ٹائم مل جائے ہاں رات کے وقت ہم کمپیوٹر پر ہی کوئی پروگرام دیکھنے ایک ساتھ بیٹھ جایا کر تے تھے دادی جان کا چونکہ معمول تھا کہ وہ رات کو سونے کا کہنے کے لئے آتی تھیں اب جب وہ آتی تھیں تو کچھ یوں کہنے لگی تھیں کہ یہ کیا تم لوگ اتنی تیز روشنی میں آنکھیں گاڑھے بیٹھے ہو اٹھو اور جاکر سوجاؤ اور ہم کچھ دیر بعد اٹھ کر سونے چلے جاتے اب زمانہ اور آگے بڑھ چکا تھا ہم بھی اور کچھ بڑے ہوچکے تھے اور کمپیوٹر کی جگہ موبائل نے لے لی تھی ایک روز میں اپنے کانوں میں ہینڈ فری لگا کر گانا سننے میں مگن تھا مجھے نہیں پتا چلا کہ دادی جان کب سے میرے کمرے کے دروازے پر آ کر کھڑی ہیں میں نے محسوس کیا کہ شاید وہ کچھ کہہ رہی ہیں میں نے جلدی سے کانوں سے ہینڈ فری نکا لے اور کہا ارے دادی جان آپ آ پ نے کچھ کہا وہ بولیں ہاں میں پوچھ رہی تھی سونے کا ارادہ نہیں آ ج ان کا چہرہ کچھ اداس تھا میں سمجھا شاید وہ ناراض ہو گئیں لیکن نہیں وہ ناراض نہیں تھی انہوں نے بہت پیار سے مجھے دیکھا اور کچھ سوچتے ہوئے اور کہنے لگیں بیٹا جب تم لوگ ٹی وی دیکھا کرتے تھے تو مجھے تم لوگوں کی ہنسی مذاق اور ٹی وی کی آوازیں آتی رہتیں تھیں شاید مجھے بھی اس ماحول کی کچھ عادت سی پڑ گئی تھی لیکن پھر تم لوگ نے کمپیوٹر پر بیٹھنا شروع کیا تو میرے کمرے اور تمہاری کمپیوٹر کی ٹیبل کا فاصلہ اور بڑھ گیاتھا مگر پھر بھی مجھے اس کی روشنی سے محسوس ہوجایا کرتا تھا کہ تم لوگ جاگ رہے ہو اور میں آکر تم لوگوں کو لیٹنے کا کہا کرتی تھی اور اب اب تو کھانا کھاتے ہی گھر میں ایسا سناٹا ہو جاتا ہے جیسے کوئی ہے ہی نہیں بس بیٹا آجکل چیزیں بہت چھوٹی ہوتی چلی جارہی ہیں فاصلے اتنے ہی بڑھتے چلے جارہے ہیں اور پھر مجھے پیار سے دیکھتے ہوئے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا بیٹا پھر بھی میں کہوں گی جلدی سو جایا کرو اب میں اور بوڑھی ہو چکی ہوں اس لیے میں روز کہنے نہیں آ سکتی اب تم بڑے ہو گئے ہو اپنا خیال خود بھی رکھا کرو میرے بغیر کہے جلدی سو جایا کرو اور کچھ تھکے ہوئے انداز سے وہ اپنے کمرے کی طرف چل دیں آ ج دادی کے چہرے سے اکیلا پن صاف دکھائی دے رہا تھا میں ان کو اس طرح اداس اور تھکا سا دیکھ کر جیسے سا کت سا ہو کے رہ گیا اور یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ ہم نے اپنی زندگی میں ان چیزوں کو اہم بنا لیا جن چیزوں کو ہم جب چاہیں خرید خرید سکتے ہیں اور جب چاہے انہیں استعمال کر لیتے ہیںاور انہیں چیزوں کی وجہ سے ہمارے اپنے ہم سے بہت دور ہو گئے ہیں ہم نے انہیں تنہا چھوڑ دیا ہماری فکر کرنے والے ہمارا خیال رکھنے والے شفیق رشتوں کو ہم نے اپنے آ پ سے بہت دور کردیا اب ہمیں ان کی آواز سنائی نہیں دیتی ان کی تکلیف دکھائی نہیں دیتی ان کا اکیلا پن ہمیں محسوس نہیں ہوتا ہم ان کو سنتے نہیں ہم ان سے بولتے نہیں ہم مشینوں سے بولتے ہیں ہم مشینوں کو سنتے ہیں اور یہ جو انمول نگینے ہیں اور جن سے ہمیں روشنی ملی جن کی بدولت ہم نے جینا سیکھا انہیں ہی تنہا چھوڑ دیا سوچئے کہیں ہم ان بے جان چیزوں کے بلا ضرورت استعمال کے خاطر ان انمول نگینوں کو کھو تو نہیں رہے دنیا میں ہر چیز خریدی جا سکتی ہے سب کچھ مل سکتا ھے لیکن اگر ان انمول نگینوں کو وقت سے پہلے ہی ہم نے کھودیا تو کتنی ہی دولت کیوں نہ ہو انہیں خرید نہیں سکتے کہیں سے ڈھونڈ کر بھی نہیں لا سکتے کہیںتو قدر کیجئے ان رشتوں کی اپنوں کی اور ان انمول خزانوں جیسے انمول نگینوں کی۔