مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا91واں روز‘ ایک ارب ڈالر کامعاشی نقصان۔کشمیریوں کے بیرون ملک جانے پر پابندی

57

سری نگر /مظفرآباد(خبر ایجنسیاں)مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا91واں روز‘کرفیو اور پابندیوں کے باعث ایک ارب ڈالر کامعاشی نقصان ہوچکاجبکہ قابض انتظامیہ نے تاجروں ، صحافیوں ، وکلا ،سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں پر مشتمل 450افراد کی بیرون ملک جانے پر پابندی عایدکردی ہے۔کشمیر میڈ یا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مسلسل91ویں روز بھی فوجی محاصرے اور مواصلاتی ذرائع کی بندش کی وجہ سے وادی کشمیر اورجموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں معمولات زندگی مفلوج رہے۔انٹرنیٹ اورپری پیڈ موبائل فون سروسزمعطل اورپبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہی۔ 5 اگست کودفعہ 370کے خاتمے سے اب تک مقامی صنعت کو ایک ارب ڈالرکا نقصان اٹھا نا پڑا ہے۔ مسلسل لاک ڈاؤن کی وجہ سے وادی کشمیر میں آئی ٹی صنعت کی کمرٹوٹ چکی ہے اورآئی ٹی سے وابستہ 25ہزار پیشہ ور افراد بے روزگار ہوچکے ہیں۔ مواصلاتی نظام کی بندش سے کشمیری شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں جبکہ گھروں میں ادویات اور کھانے کا ذخیرہ ختم ہونے کے باعث موت آہستہ آہستہ کشمیریوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ علاوہ ازیںشمالی کشمیر کے ضلع بارہ مولا میں سیکورٹی فورسز نے سوپور قصبے سے متصل علاقے براٹھ کلاں میں سرچ آپریشن کے دوران کئی نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ مقامی پولیس کے مطابق سوپور سے گرفتار نوجوا نوں کوحراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کرلیا گیا ہے۔ دوسری جانب کشمیرکونسل یورپ کے چیئرمین علی رضا سید نے جنیوا میں عالمی سکھ کنونشن سے خطا ب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکام نے 35سال پہلے سکھوں کا قتل عام کیا تھا اور اب مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی کررہے ہیں۔