مقبوضہ کشمیر میں زندگی بدستور مفلوج‘آبادی کاتناسب بگاڑنے کیلیے پشتی اسٹیٹ سبجیکٹ منسوخ

64

سری نگر/ نئی دہلی (خبر ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں جمعے کو مسلسل 89 ویں روز بھی وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں بھارت کی طرف سے عاید غیر معمولی فوجی محاصرے اور مواصلاتی ذرائع معطل ہونے کے باعث معمولات زندگی مفلوج رہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وادی میںانٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائل فون سروسز مسلسل مکمل طور پر معطل ہونے کے باعث 80 لاکھ کشمیریوںکو مشکلات کا سامنا ہے۔ کشمیری عوام نے خصوصی حیثیت کی منسوخی اور جموں و کشمیر کو 2 وفاقی علاقوں میں تقسیم کرنے کے خلاف خاموش احتجاج کے طور پر اپنی دکانیں جزوی بند رکھے ہوئے ہیں جبکہ اسکولوں اور دفاتر کا بائیکاٹ بھی جاری ہے۔ دفعہ144 کے تحت پابندیاں بھی نافذ ہیں‘ پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹرین سروس مسلسل معطل ہے۔ دریں اثنا بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بگاڑنے کے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مقبوضہ علاقے میں پشتی اسٹیٹ سبجیکٹ کی منسوخی کا اعلان کیا ہے تاکہ مسلمانوںکی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے وہاں بڑی تعداد میں بھارتی شہری آباد کیے جاسکیں۔ بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے لیے بھارتی قوانین کا اطلاق ہوگا ۔ کشمیر میڈیا سروس کی ریسرچ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ اکتوبر میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروںکی طرف سے پرامن مظاہرین پر گولیوں، پیلٹ گنز اور آنسو گیس کے بے دریغ استعمال سے 10افراد شہید جبکہ57 افراد شدید زخمی ہوئے‘67 شہریوں کو گرفتار کیا گیا ۔ علاوہ ازیں انسانی حقوق کے کارکنوں ، ماہرین نفسیات اور تاجر رہنمائوں پر مشتمل ایک11 رکنی بھارتی ٹیم نے اپنی ایک رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر کے حالات معمول پر آنے کا بھارتی حکومت کا دعویٰ مسترد کر دیا ہے۔ نئی دہلی اور بنگلور میں جاری کی جانے والی 160صفحات پر مشتمل رپورٹ میں بھارتی فورسز کے مظالم کے علاوہ ویرانی کا منظر پیش کرنے والے بازاروں، عدالتوں، اسکولوں، کالجوں، مریضوں کی حالت زار، پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی، نقل و حرکت پر پابندی اور جبری نظربندیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔