برطانیہ :انتخابات سے بریگزٹ بحران کا خاتمہ ممکن نہیں

117

 

 

برطانیہ کی تاریخ میں بورس جانسن پہلے وزیر اعظم ہیں جنہیں دارالعوام میں بارہ مرتبہ اپنے اس پیمان کو پورا کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں شکستوں کا سامنا کرنا پڑا کہ موت یا زیست وہ 31اکتوبر تک برطانیہ کو یورپ سے آزاد کرا کے رہیں گے جسے بریگزٹ کا نام دیا جاتا ہے۔ پچھلے نوے روز سے جب سے بورس جانسن نے وزارت عظمیٰ سنبھالی ہے وہ بار بار بریگزٹ کے حصول کے پیمان کا اعادہ کرتے رہے ہیں۔ گو وہ یورپی یونین سے سابق وزیر اعظم ٹریسامے کے سمجھوتے کی جگہ جسے پارلیمنٹ نے تین بار مسترد کردیا تھا، ایک نیا معاہدہ طے کرنے میں کامیاب رہے لیکن انہیں خطرہ تھا کہ وہ پارلیمنٹ سے یہ معاہدہ منظور کرانے میں کامیاب نہ ہو سکیں گے کیونکہ انہیں ایوان میں اکثریت حاصل نہیں ہے ان کے سامنے ایک ہی راستہ تھا کہ وہ بریگزٹ کے سلسلے میں اپنی ہتک آمیز ناکامی کو چھپانے کے لیے بریگزٹ کے معاہدے کو موخر کر دیں اور عام انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کریں۔ اس کوشش میں بھی انہیں دو مرتبہ ناکامی ہوئی کیونکہ انہیں موجودہ پارلیمنٹ کی تحلیل اور نئے انتخابات کے لیے دو تہائی اکثریت کی حمایت کی ضرورت تھی۔ آخر کار بریگزٹ کے معاہدے کو موخر کیے جانے کے بعد حزب مخالف لیبر پارٹی نے عام انتخابات کے انعقاد پر رضا مندی ظاہر کی اور لبرل ڈیموکریٹس اور اسکاٹش نیشنلسٹ پارٹی نے بھی حمایت کی تو پارلیمنٹ نے ۱۲ دسمبر کو عام انتخابات کے انعقاد کے حق میں بل منظور کر لیا۔ لیبر پارٹی چاہتی تھی کہ عام انتخابات ۹ دسمبر کو ہوں لیکن اس کی ترمیم مسترد ہو گئی۔ ۱۲ دسمبر کے عام انتخابات برطانیہ میں پچھلے پانچ برس میں تیسرے انتخابات ہوں گے۔
بورس جانسن کی یہ حکمت عملی ہے کہ بریگزٹ کے معاہدے کو معلق رکھا جائے اور عام انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے جس کے بعد نئی پارلیمنٹ میں بریگزٹ کے معاہدے کی منظوری حاصل کی جائے۔ بورس جانسن فوری عام انتخابات کے انعقاد کے لیے اس وقت اس لیے بے تاب ہیں کیونکہ رائے عامہ کے تازہ جائزوں میں ٹوری پارٹی حزب مخالف لیبر پارٹی سے دس پوائنٹس آگے ہے اور لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن اس وقت یہودی اور اسرائیل نواز لابی کے شدید دبائو میں ہیں جو اس وقت سے جب سے وہ پارٹی کے سربراہ منتخب ہوئے ہیں، یہودیوں سے نفرت اور فلسطینیوں کی حمایت کے الزام کا شکار ہیں۔ برطانیہ میں یہودی لابی بے حد طاقت ور ہے کیونکہ میڈیا پر اس لابی کا تسلط ہے اور بزنس اور مالیات کے شعبے میں بھی یہ لابی ایسا اثر رکھتی ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ جیریمی کوربن کے لیبر پارٹی کے سربراہ منتخب ہونے کے بعد یہودی تنظیموں کا لیبر پارٹی کے تئیں رویہ بدلہ ہے حالانکہ یہودی ہمیشہ لیبر پارٹی کے حامی رہے ہیں اور انہوں نے انتخابات میں لیبر پارٹی کی حمایت کی ہے۔ بورس جانسن کو علم ہے کہ یہودی لابی کی وجہ سے لیبر پارٹی میں شدید اختلافات ہیں اور یہی وجہ تھی کہ لیبر پارٹی بریگزٹ کے بارے میں فیصلہ سے پہلے عام انتخابات کے انعقاد کے خلاف تھی۔
گو12 دسمبر کو ہونے والے انتخابات، عام انتخابات ہوں گے جس میں دوسرے مسائل بھی زیر بحث آئیں گے لیکن بنیادی طور پر یہ انتخابات بریگزٹ کے مسئلے پر مرکوز ہوں گے۔ بورس جانسن اگر فتح مند ہوئے توہ وہ سب سے پہلے یورپ سے آزادی کے لیے بریگزٹ منظور کرائیں گے۔ اگر لیبر کے سربراہ جیریمی کوربن نے انتخابات جیت لیے تو وہ بریگزٹ کے سوال پر نیا ریفرینڈم کرائیں گے۔ اور اگر لبر ل ڈیموکریٹس کی سربراہ جو سوینسن کو فتح حاصل ہوئی تو وہ بریگزٹ کو یکسر منسوخ کردیں گی اور برطانیہ کے یورپ میں برقرار رہنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ برطانیہ جس نے برصغیر کی آزادی اور دو الگ مملکتوں کے قیام کے بارے میں پیچیدہ قانون، انڈین انڈی پینڈنس ایکٹ، بارہ دن میں منظور کیا تھا وہ یورپ سے ’’اپنی ’آزادی‘‘ کے لیے بریگزٹ کا قانوں ساڑھے تین سال گزرنے کے بعد بھی منظور نہیں کر سکا ہے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم کلیمنٹ ایٹلی نے 20فروری 1947کو برطانوی پارلیمنٹ میں برصغیر کو آزادی دینے کا اعلان کیا تھا اور انتقال اقتدار اور قیام پاکستان کے مطالبے کے پیچیدہ مذاکرات کے لیے لارڈ مائونٹ بیٹن کو وائسرائے کے وسیع اختیارات کے ساتھ برصغیر بھیجا اور انہیں اس مقصد کے لیے صرف ایک سال کی مہلت دی تھی۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے چار مہینے کے اندر اندر کانگریس اور مسلم لیگ کے قائدین سے مذاکرات کے بعد ۳ جون کو تقسیم ہند اور دو مملکتوں کے قیام کا منصوبہ منظور کرا کے وزیر اعظم ایٹلی کو بھیج دیا تھا۔ جس کی بنیاد پر 4جولائی کو ہندوستان کی آزادی کا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا جو دونوں ایوانوں نے بارہ دن کی بحث کے بعد سولہ جولائی 1947 کو منظور کر لیا تھا۔
جون 2016 کے ریفرنڈم میں 51فی صد عوام کی اکثریت نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں فیصلہ دیا تھا جسے برطانوی سیاست دانوں نے یورپ سے آزادی کا فیصلہ قرار دیا تھا۔ لیکن ساڑھے تین سال گزرنے کے بعد بھی اس فیصلے کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا۔ اس دوران دو وزرائے اعظم بریگزٹ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ ڈیوڈ کیمرون کو جو اب بریگزٹ کے لیے ریفرنڈم کرانے کے فیصلے پر کف افسوس ملتے ہیں، ریفرنڈم کے فوراً بعد مستعفی ہونا پڑا کیونکہ انہوں نے برطانیہ کے یورپ میں رہنے کے حق میں مہم چلائی تھی لیکن ریفرنڈم کا فیصلہ ان کے موقف کے برعکس نکلا۔ پھر ان کی جانشین وزیر اعظم ٹریسامے کو یورپ سے علیحدگی کا سمجھوتا طے کرنے میں تین سال لگ گئے اور جو سمجھوتا انہوں نے یورپی یونین سے کیا اسے پارلیمنٹ نے تین بار مسترد کر دیا۔ اس خفت انگیز ہزیمت کے بعد ٹریسامے کے سامنے سوائے مستعفی ہونے کے کوئی چارہ کار نہیں رہا تھا۔ بورس جانسن، ٹریسامے کے مستعفی ہونے کے بعد ٹوری پارٹی کے لیڈر منتخب ہوئے اور وزارت عظمیٰ پر فائز ہوئے۔ ان کی وہ مضبوط حیثیت نہیں جو ایک عام انتخابات میں جیتے والے وزیر اعظم کی ہوتی ہے ان کی اصل طاقت ٹوری پارٹی میں دائیں بازو کا وہ ٹولہ ہے جس کے یورپ سے کسی سمجھوتے کے بغیر علیحدگی سے مالی اور سیاسی مفادات وابستہ ہیں۔ یہ ٹولہ چاہتا ہے کہ یورپ سے تمام اقتصادی روابط ختم کردیے جائیں اور ٹرمپ کے امریکا سے قریبی اقتصادی اور سیاسی تعلقات استوار کیے جائیں اور برطانیہ میں بڑے پیمانے پر نج کاری کی جائے اور بھر پور طریقے سے سرمایہ دارانہ نظام قائم کیا جائے۔
پچھلے ساڑھے تین سال کے دوران، یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ یورپ سے علیحدگی برطانیہ کی معیشت کے لیے تباہ کن ہوگی اور گرانی کے ساتھ بے روزگاری میں شدید اضافہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اب عوام کی رائے بڑی حد تک تبدیل ہوچکی ہے اور انہوں نے نئے ریفرنڈم کا مطالبہ کیا ہے، لیکن بورس جانسن عوام کو قطعی فیصلے کا حق دینے کے لیے تیار نہیں بلکہ ان کا اصرار عام انتخابات پر ہے اور اب دسمبر میں وہ اپنی قسمت آزمائیں گے۔ عام انتخابات کا نتیجہ جو بھی نکلے لیکن بلا شبہ بریگزٹ کے بحران نے برطانیہ کی سیاست کا نقشہ بدل دیا ہے۔
بریگزٹ ایک نہیں بلکہ کئی بحرانوں کو اپنے جلو میں لایا ہے۔ ایک تو اس کی وجہ سے ملک دو دھڑوں میں بٹ گیا ہے ایک دھڑے نے یورپ سے علیحدگی کو اپنا غیر متزلزل عقیدہ بنا لیا ہے۔ اور اس کے برعکس یورپ کا حامی دھڑا ہے جو یہ سوچتا ہے کہ پچھلی چار دہائیوں سے یورپ میں رہ کر برطانیہ کو نہ صرف اقتصادی طور پر فائدہ پہنچا ہے بلکہ سیاسی طور پر اس کو یورپ کے ایک با اثر ملک کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ یورپ کے اس حمایتی دھڑے کا یہ استدلال ہے کہ یورپی یونین کی بدولت یورپ میں اتحاد مضبوط ہوا ہے اور یورپ کے ملکوں میں وہ عداوت اور مخاصمت باقی نہیں رہی جس کی وجہ سے یورپ کے ملکوں میں جنگیں تباہی کا سبب بنتی رہی ہیں۔
بریگزٹ کی وجہ سے برطانیہ کی سیاسی جماعتوں میں شدید انتشار پھیلا ہے اور بغاوتوں نے سر اٹھایا ہے۔ حکمران ٹوری پارٹی میں بریگزٹ پر اختلاف اور پارٹی کی نئی قیادت سے بدظنی کی بنیاد پر بڑی تیزی سے بغاوت بھڑکی ہے اور اس کے نتیجے میں چھ اراکین پارلیمنٹ پارٹی کو چھوڑ کر لبرل ڈیمو کریٹس میں شامل ہوگئے ہیں۔ اسی طرح لیبر پارٹی کے متعدد اراکین پارلیمنٹ، پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن کے خلاف بغاوت کر کے پارٹی سے الگ ہو گئے ہیں یا لبرل ڈیموکریٹس سے جا ملے ہیں۔ برطانیہ کی تاریخ میں اس سے پہلے سیاسی جماعتوںمیں اتنی بغاوتیں اور جماعتیں بدلنے کا سلسلہ دیکھنے کو نہیں ملا۔
بریگزٹ کی وجہ سے برطانیہ کے وفاقی اتحاد کو بھی شدید خطرہ لاحق ہے کیونکہ اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ بریگزٹ کے بارے میں یورپی یونیں کے ساتھ معاہدے کے خلاف ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کو جس کے ساٹھ فی صد عوام نے یورپ میں برقرار رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا، شکایت ہے کہ اسے بریگزٹ کے پورے عمل سے الگ رکھا گیا ہے۔ اب اسکاٹ لینڈ کی اکثریتی جماعت اسکاٹش نیشنلسٹ پارٹی، اسکاٹ لینڈ کی آزادی کے لیے ریفرنڈم کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ویلز کی قوم پرست جماعت پلے کیمرو بھی بریگزٹ کے خلاف ہے۔ غرض اس وقت برطانیہ ایک ایسے عذاب میں گرفتار ہے جس کا عام انتخابات سے بھی خاتمہ کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔