بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ کو باضابطہ تقسیم کردیا، پاکستان اور چین نے اقدام غیر قانونی قرار دیا

160
چین ، پاکستان

سری نگر/اسلام آباد/بیجنگ (نمائندہ جسارت+خبر ایجنسیاں)مودی سرکار نے 5اگست کوآرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے تقریباً 3 ماہ بعد ریاست کو سرکاری طور پر 2 مرکزی حصوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا ہے اور مقبوضہ جموںوکشمیر کے اثاثے بھی مرکزی حکومت کو منتقل کر دیے ہیں ،انسانی حقوق کی پامالی کے متعلق درج شکایات کی سماعت کا اختیار بھی مرکز کے پاس چلا گیا ہے اور مودی سرکار کی صوابدید پر ہی فیصلے ہوں گے ۔ بھارت میں اب ریاستوں کی کل تعداد 28 ہو گئی جبکہ مجموعی طور پریونین ٹیریٹریز کی تعداد 9 ہو جائے گی ۔جموں وکشمیر کا آئین اور پینل کوڈ جمعرات سے ہی ختم ہوگیا۔مقبوضہ جموں و کشمیر کو 2 علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کرنے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں انتظامی لحاظ سے بہت سی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔جموں و کشمیر کے یونین ٹیریٹریز میں پانڈیچری جیسی مقننہ ہوگی جبکہ لداخ چندی گڑھ کی طرح مقننہ کے بغیر ایک یونین ٹیریٹری ہوگا اور ایکٹ کے مطابق دونوں یونین ٹیریٹریز کی سربراہی 2 الگ لیفٹیننٹ گورنرز اس سے پہلے وہاں تعینات کیا جانے والا گورنر کہلاتا تھا سائوتھ ایشین وائر نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔اب نئے انتظامی حکم کے بعدمقبوضہ جموں و کشمیر میں مرکز اور پولیس کا براہ راست کنٹرول ہوگا -لداخ کی یونین ٹیریٹری مرکزی حکومت کے براہ راست کنٹرول میں ہوگی جو گورنرکے ذریعے خطے کا انتظام کرے گی۔سابق ریاست کی دہلی، امرتسر، چندی گڑھ اور ممبئی میں 6 جائیدادیں ہیں، جنہیں دونوں مرکزی علاقوں کے درمیان یکساں تقسیم کیا جائے گا۔ان میں دہلی کے پرتھوی راج روڈ پر واقع کشمیر ہاؤس اور چانکیاپوری میں جے اینڈ کے ہاؤس شامل ہیں۔ جموں وکشمیر حکومت کے ذرائع نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ مرکز کے ذریعے 9 ستمبر کو دونوں یونین ٹیریٹریز میں اثاثوں اور واجبات کو تقسیم کرنے کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی 6 ماہ میں اپنی رپورٹ دے گی فی الحال لیہ کو لداخ کا دارالحکومت بنایا گیا ہے نئے فیصلے کے بعد اب کئی محکموں کے نام تبدیل کرنے کے علاوہ سرکاری فائلوں میں بھی لفظ ریاست کا استعمال بھی ختم ہو گیا۔سرکاری محکموں کے ناموں میں تبدیلی بھی کر لی گئی ہے،جن میں جموں اینڈ کشمیر اسٹیٹ ویجلیلنس ڈیپارٹمنٹ’ کا نام بدل کر جموں و کشمیر ویجیلنس ڈیپارٹمنٹ اورجموں اینڈ کشمیر اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن کا نام بدل کر جموں و کشمیر ہیومن رائٹس کمیشن ہوگیا ہے۔ نئے قوانین کے تحت دیگر ریاستوں کے ہندو شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائداد خریدنے اور مستقل رہائش کا حق حاصل ہوگیا ہے۔ مودی سرکار نے کشیدگی کے تناظر میں ہوائی اڈوں اورریلوے اسٹیشنوں پرہائی الرٹ جاری کردیا ہے اور وادی میں دفعہ144کا نفاذ کردیا ہے ۔ بھارت نے جموں و کشمیر کے لیے گریش چندر اور لداخ کیلیے آر کے ماتھر کو گورنر تعینات کیا ہے۔دوسری جانب بھارتی اقدام کیخلاف وادی بھر میں مکمل ہڑتال رہی اور سری نگر و دیگر علاقوں میں سڑکیں ویران ، دکانیں بند ، متعدد مقامات پر مظاہرین اور فورسز سے جھڑپیں بھی ہوئیں۔بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اس پیش رفت پر کہاکہ جموں و کشمیر کے انضمام کا ادھورا خواب آج پورا ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی کوشش ہے کہ اس علاقے میں جائیداد کی خرید و فروخت کی اجازت دے کر وہاں اقتصادی ترقی کی رفتار بڑھائی جائے اور ملازمت کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ یوں کشمیر میں دہائیوں سے جاری علیحدگی پسند تحریک سے توجہ ہٹ سکے گی۔کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارتی حکومت کو کشمیریوں کے ساتھ تعلقات بڑھانے ہوں گے ،قبل اس کے کہ کشمیری عوام خود کو مزید تنہا محسوس کریں۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ علاقے کو 2 حصوںمیں تقسیم کرنے جیسے آمرانہ اقدامات کے ذریعے جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کرسکتا۔ بھارت کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ میں لیفٹیننٹ گورنرز کی حیثیت سے 2 کٹھ پتلی آمروں کو مسلط کرکے بھارت کشمیریوں کواپنے حق خودارادیت کے حصول کی منصفانہ جدوجہد جاری رکھنے سے روکنا چاہتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بھارت اس طرح کے ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیری عوام کو محکوم نہیں رکھ سکتا۔انہوں نے کہا کہ یہ آتش فشاں کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے اور کشمیریوں کا غم وغصہ ایسی شکل اختیار کرسکتا ہے جسے روک پانا بھارت کے لیے ممکن نہیں ہو گا۔سید علی گیلانی نے کشمیری عوام کو ان کی بے مثال قربانیوں پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا اور انہیںبھارتی تسلط سے آزادی کے حصول کے لیے اپنی منصفانہ جدوجہد ثابت قدمی سے جاری رکھنے پر زوردیا۔دوسری جانب پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی 2 یونین ٹریٹری میں تقسیم کو مسترد کردیا ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کی 2 یونین ٹریٹری میں تقسیم کو مسترد کرتا ہے، مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور شملہ معاہدے سمیت دوطرفہ معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہے اور بھارت کا کوئی بھی اقدام اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتا۔ادھربھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر ریاست کو 2 حصوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کے باضابطہ عمل پر چین کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت نے باضابطہ طور پر نام نہاد جموں و کشمیر اور لداخ یونین کے علاقوں کا اعلان کیا جس میں چین کے کچھ علاقے بھی شامل ہیں جنہیں بھارت نے اپنے دائرہ اختیار میں شامل کیا ہے۔جینگ شوانگ نے کہا کہ چین ان اقدامات کی بھرپور مخالفت کرتا ہے جس میں بھارت نے یک طرفہ طور پر اپنے مقامی قوانین اور انتظامی تقسیم کو تبدیل کر کے چین کی خود مختاری کو چیلنج کیا ہے جس سے چین کی سالمیت متاثر ہوگی۔