کربلا ، سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے 18 مظاہرین ہلاک، سینکڑوں زخمی

112
کربلا: عراقی حکومت کے خلاف دارالحکومت بغداد سمیت کئی شہروں میں پرتشدد احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہورہی ہیں‘ فائرنگ سے ہلاک شخص کا جسد خاکی لے جایا جا رہا ہے
کربلا: عراقی حکومت کے خلاف دارالحکومت بغداد سمیت کئی شہروں میں پرتشدد احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہورہی ہیں‘ فائرنگ سے ہلاک شخص کا جسد خاکی لے جایا جا رہا ہے

بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراق میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 250 سے متجاوز ہوگئی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کے روز کربلا میں مظاہرین کے خلاف سیکورٹی فورسز نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے براہ راست فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک اور 865 زخمی ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب سیکورٹی فورسز نے مظاہرہ کرنے والوں جن میں طلبہ بھی شامل تھے، پر براہ راست گولیاں چلا دیں، علاوہ ازیں ناصریہ شہر میں بھی 3 افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔ واضح رہے کہ پیر کے روز ہونے والی جھڑپوں میں بھی 5 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی کے خلاف عوامی احتجاج کی دوسری لہر گزشتہ جمعہ کے روز شروع ہوئی تھی، جو تاحال جاری ہے۔ مظاہرین حکومت اور سیاسی اشرافیہ پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے یہ شکایت بھی کرتے ہیں کہ حکمرانوں کو اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ عوام کو کس طرح کے حالات کا سامنا ہے۔ مظہرین کا کہنا ہے کہ حکومت بدعنوان اور عوامی مسائل سے لاعلم ہے۔ رائٹرز کے مطابق حکومت مخالف مظاہروں میں اب تک مجموعی طور پر کم از کم 250 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں بنتی ہے۔ علاوہ ازیں عراق کی وزارتِ دفاع نے ایک مذمتی بیان جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مظاہروں میں شامل طلبہ پر تشدد میں ملوث فوجی اہلکار عراق کی فوج کی نمائندگی نہیں کر رہے تھے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے گی یا نہیں۔ دریں اثنا انسانی حقوق کے اعلیٰ کمیشن کے مطابق کربلا شہر میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے چھوڑی گئی گیسوں کے سبب کئی لوگوں کا دم گھٹ گیا۔ دوسری جانب عراق کے شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے وزیراعظم عادل عبدالمہدی سے قبل ازوقت پارلیمانی انتخابات کرانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ نئے انتخابات اقوام متحدہ کے زیرنگرانی ہونے چاہییں اور ان میں موجودہ سیاسی جماعتوں کو حصہ لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔