کاغذ کا گھوڑا

290

اسامہ الطاف
پاکستان کی زبوں حالی اور نظام کی خرابی پر سیاستدانوں کو اکثر مطعون کیا جاتا ہے۔ وردی والی سرکار بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ حالات کے مطابق تنقید کے زد میں آتی ہیں۔ یقینا یہ تنقید کافی حدتک بجا ہوگی، کیونکہ حکمران ہی نظام کی سمت طے کرتا ہے اور امور مملکت چلاتا ہے، لیکن ہمارے پیچیدہ نظام کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ جاننے میں دشواری نہیں ہوگی کہ انگریز کی یہ فرسودہ وراثت عملی طور پر ایک ایسا بھنور ہے جس کے گرداب سے نکلنا بڑے سیاستدانوں اور آمروں کے لیے بھی آسان نہیں ہوتا۔ ہمارے نظام میں افسر شاہی یعنی بیوروکریسی کا کردار بڑا اہم ہے، سرکاری عمال ہی دراصل نظام چلاتے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ سرکاری افسروں کے سیاسی یا عسکری Boss اگر قابل اور پرعزم ہوں تو انہی افسروں سے اپنا کام کرواتے ہیں، لیکن منجھے ہوئے افسران کی چالاکیوں کو سمجھنا اور ان پر قابو پانا بہرحال آسان نہیں ہوتا۔ سرکاری دفاتر کے ضابطے، پروٹوکول، قانونی پیچیدگیاں، فائلوں کی ترتیب اور اہمیت وغیرہ معاملات کو ’افسر‘ ہی سمجھتا ہے اور اس ضمن میں وزیر و مشیر اس کے مشورے ماننے پر مجبور ہوتے ہیں۔
میں آپ کے سامنے یہ مقدمہ اس لیے پیش کررہا ہوں کیونکہ گزشتہ دنوں پاکستان کے معروف ادیب اور دانشور ممتاز مفتی کے بیٹے کی کتاب ’’کاغذ کا گھوڑا‘‘ میری نظر سے گزری۔ افسر شاہی کا حصہ رہنے والے عکسی مفتی نے اس کتاب میں سرکاری دفاتر اور سرکاری بابووں کے ساتھ اپنے تجربات بیان کیے ہیںجن کے کچھ دلچسپ اقتباسات سے نظام کی ماہیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
عکسی مفتی لکھتے ہیں انہیں ایک دن سیکرٹری سیاحت و ثقافت خواجہ شاہد کا فون آیا۔ کہنے لگے یار عکسی مائی جنداں کی حویلی کی چھت ٹپک رہی ہے۔ پانی سم کر رنجیت سنگھ کے دربار کی اہم ترین پینٹنگ کو خراب کر رہا ہے۔ یہ بہت ہی قیمتی اثاثہ ہے۔ اس کی قیمت کئی لاکھ پونڈ ہے۔ اس کا ستیاناس ہو جائے گا۔ یار تم وہاں ہو فوراً اس پینٹنگ کو بچانے کا انتظام کرو۔ میں نے اسی وقت ڈائریکٹر نارتھ کو فون کیا اور درخواست کی کہ مجھے ایک سیڑھی فراہم کی جائے تاکہ میں حویلی کی چھت پر جا سکوں۔ ڈائریکٹر صاحب نے سب سن کر کہا۔ جی ہاں جی ہاں ضرور، لیکن آپ یہ درخواست فائل پر لکھ کر بھیجیں۔ میں نے فوری حکم کی تعمیل کی۔ ایک درخواست لکھی اس کو فائل میں لگایا اور خاص طریقے سے ٹیگ میں پرویا اور بڑے صاحب کے دفتر بھجوا دی۔ ہفتہ گزر گیا، کوئی جواب نہ آیا۔ میں نے جا کر پوچھا تو کہنے لگے: ہاں ہاں وہ فائل تو قلعہ کے انجینئر کو بھیج دی تھی آپ کو سیڑھی نہیں ملی ابھی تک؟ تعجب ہے میں نے اسی دن بھیج دی تھی۔ کئی دن میں انجینئر کو تلاش کرتا رہا۔ بالآخر وہ مجھے ایک دن مل ہی گئے۔ میں نے دریافت کیا تو فرمانے لگے سیڑھیاں تو میرے پاس نہیں ہوتیں۔ وہ تو ٹھیکیدار کا کام ہے۔ میں نے فائل اپنے نائب کو بھیج دی ہے۔ عکسی صاحب آپ پریشان نہ ہوں وہ آپ کو سیڑھی مہیا کر دیں گے۔ قریباً ایک ہفتے بعد جبکہ سیڑھی کا کوئی اتا پتا نہیں تھا میں مغرب کے وقت چہل قدمی کرتے ہوئے دفعتاً احاطے کے ایسے کونے میں داخل ہوا جہاں پہنچ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ وہاں کئی قسم کی سیڑھیاں پڑی تھیں۔ چھوٹی، لمبی، بہت لمبی۔ میں نے اپنے انجینئرکے ساتھ ایک سیڑھی اٹھائی اور مائی جنداں کی حویلی کی چھت پر پہنچ گیا۔ چھت پر دیسی انداز میں بڑی اینٹ کا چوکا لگایا گیا تھا۔ جس جگہ سے پانی نیچے ٹپکتا تھا وہاں چوکوں کے درمیان درز خالی ہو چکی تھی۔ ہم نے اسی وقت تھوڑے سے سیمنٹ میں پاؤڈر ملایا اور ان درزوں کو دس پندرہ منٹ میں بھر دیا، نیچے اترے اور سیڑھی واپس وہیں رکھ دی جہاں سے لائی گئی تھی۔ دس دن اور گزر گئے ایک صبح مجھے دیکھ کر حیرت ہوئی کہ جو فائل میں نے بھیجی تھی وہ ضخیم فائل کی صورت میں مجھے واپس بھیج دی گئی ہے۔ اس پر ڈائریکٹر نارتھ نے لکھ کر بھیجا تھا: ہم معذرت خواہ ہیں کہ ہمیں سیڑھی نہیں مل سکی براہ کرم بہتر ہو گا کہ آپ سیڑھی بازار سے کرائے پر حاصل کرلیں۔ اگلے ہی روز مجھے اسلام آباد سے سیکرٹری صاحب کا پھر فون آیا: یار عکسی آپ کو مائی جنداں کی حویلی کے کام کا کہا تھا اس کا کیا بنا؟ میں نے کہا سر اس کی مرمت تو ہو چکی۔ خواجہ شاہد نے حیرت سے پوچھا: کیا کہا چھت کی مرمت ہو چکی ہے؟ اب چھت نہیں ٹپکتی کب ہوئی کس نے کی؟ میں نے کہا میں نے خود کی یہ معمولی سا کام تھا۔ شاہد نے پوچھا کتنے پیسے خرچ ہوئے؟ میں نے بتایا کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوا۔ شاہد کہنے لگے: حیرت ہے میرے سامنے چھت ٹپکنے کی فائل پڑی ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ نے اس کام کے لیے 25 لاکھ روپے مانگے ہیں!
عکسی مفتی اپنی کتاب میں کرنل ابدال کا ذکر کرتے ہیں جن کو مختلف محکموںکی مانیٹرنگ کی ذمے داری سونپی گئی۔ کرنل صاحب نے جذبہ اور لگن سے کام شروع کیا اور پہلے دن ملتان فائر بریگیڈ کے دفتر پہنچ گئے۔ کرنل صاحب نے وہاں کے عملے کو جب بتایا کہ وہ تفتیشی جائزہ لینے کے لیے آئے ہیں تو عملے نے حیرانگی کا اظہار کیا کیونکہ اس سے پہلے ان کے دفتر میں کوئی تفتیش یا پوچھ گچھ کرنے نہیں آیا تھا۔ بہرحال کرنل صاحب نے عملے سے کہا کہ دونوں گاڑیاں تیار کرو اور مجھے دکھاو کہ ہنگامی صورتحال میںآپ لوگ کس قدر مستعد ہیں۔ عملے نے کہا سر آپ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن ایک گاڑی کا ڈرائیور یہاں نہیں ہے وہ کسی افسر کے گھر ڈیوٹی کرتا ہے اور دوسری گاڑی کے تمام پانی کے پائپ گل چکے ہیں ان میں سے پانی بہہ جاتا ہے! کرنل نے کہا پھر بھی گاڑی اسٹارٹ کرو۔ گاڑی اسٹارٹ ہوئی تو معلوم ہوا اس میں پانی ہی نہیں ہے، مزید دریافت کرنے پر عملے نے بتایا کہ وہ پانی میونسپل کمیٹی کی ٹونٹیوں سے بھرتے ہیں۔ کرنل صاحب وہاں پہنچے تو دیکھا میونسپل کمیٹی کی ٹونٹیوں کی نیچے جہاں گاڑی کھڑی کرکے پانی بھرا جاتا تھا وہاں بازار بن چکا ہے۔ جذبہ سے سرشار کرنل صاحب نے تمام دکانوں اور تجاوزات کو ہٹانے کا حکم دیا اور وہ جگہ کلیئر کروائی۔ اگلے دن شہر کے ڈی سی نے کاروباری افراد کے ساتھ فوجی کمانڈنٹ میں کرنل صاحب کی شکایت کی، نتیجہ یہ نکلا کہ کرنل صاحب کو معطل کردیا گیا اور ان کی فائل پر ایسا داغ لگا دیا گیا کہ ان کی فوج میں ترقی ہی نہیں ہوسکی، وہ کرنل کے عہدے پر ہی ریٹائر ہوئے۔
لال قلعہ ہندوستان میں سیاحوں کے لیے تاریخی و ثقافتی شو کیا جاتا ہے جس میں ہندوستان کی تاریخ ڈرامائی اور دلچسپ انداز میں بیان کی جاتی ہے۔ لاہور قلعہ میں بھی اس طرز پر پروگرام شروع کیا گیا، صوتی و برقی نظام کی تنصیب کا ٹھیکہ اسی بین الاقوامی کمپنی کو دیا گیا جس نے لال قلعہ میں کام کیا تھا۔ چند سال لاہور قلعہ کا یہ شو سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنارہا پھر اچانک بند ہوگیا، ہندوستان میں نظام پرانا ہونے کے باوجود چلتا رہا۔ کئی سال بعد حکومت کو خیال آیا تو انہوں نے پھر بین الاقوامی کمپنی سے رابطہ کیا، کمپنی نے شو بحال کرنے کا تخمینہ آٹھ کروڑ روپے بتایا جو اس زمانے میں بہت بڑی رقم تھی۔ عکسی مفتی کو شو بحال کروانے کی ذمے داری ملی تو معلوم ہوا کہ محکمہ ثقافت اور محکمہ سیاحت کی اوچھی حرکتوں اور باہمی لڑائیوں کی وجہ سے شو بند ہوا تھا۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ شو رات گئے تک چلتا اور محکمہ ثقافت کا عملہ شام ہی کو چھٹی کرجاتا تھا۔ عملے کے افراد کبھی تاروں کے نظام کو خراب کردیتے کبھی فوارے کا پانی بند کردیتے تاکہ شو بند ہوجائے اور ان کی چھٹی جلدی ہوجائے۔ اسی طرح شو کے ٹیکنیشن نے بھی دانستہ مشین خراب کرنے اور پرزے نکالنے شروع کردیے، مشین خراب ہوتا تو شوکئی دن نہیں چلتا اور ٹیکنیشن کی چھٹیاں ہوجاتی!
عکسی مفتی نے ضیا دور میں ایک سندھی وزیر کا قصہ بھی نقل کیا ہے جو جونیجو کابینہ میں وزیر مملکت برائے ثقافت تھا۔ وزیر صاحب رنگین مزاج کے تھے، رات گئے ان کی محفلیں جمتی جس میں سرکاری عمال بھی حاضر ہوتے اور جب وزیر صاحب پر وجد اور کیف کا اثر زیادہ ہوتا تو ہر کوئی اپنی درخواست وزیر صاحب کے سامنے پیش کرتا اور وزیر صاحب اپنی حالت سے مجبور ہوکر بغیر پڑھے درخواست منظور کرلیتے۔ عکسی مفتی جو اسی محکمہ میں افسر تھے ان کو وزیر صاحب کا حکم نامہ موصول ہوا جس میں انہوں نے ایک جونیئر افسر کو ڈائیریکٹر لگانے کی منظوری دی تھی، اتنی بڑی ترقی دینا عکسی مفتی کا اختیار تھا نہ ذمے داری، لہٰذا انہوں نے حکم نامے کو اہمیت نہیں دی۔ دو دن بعد وزیر کا فون آنا شروع ہوگیا، سیکرٹری ثقافت نے بھی ہاتھ کھڑے کرلیے۔ عکسی نے وزیر کے فون کو نظر انداز کیا تو اس کے مسلح چیلے عکسی کے دفتر پہنچ گئے اور زبردستی ان کو وزیر کے دربارمیں لے گئے۔ وزیر نے عکسی کو خوب ڈانٹا اور کہا میں قانون کو سمجھتا ہوں، یہی نہیں وزیر نے دباؤ ڈال کر عکسی کو کھڈے لائن لگادیا اور محکمہ سے فارغ کردیا۔ان حقیقی کہانیوں کے بعد سرکاری عمال اور ہمارے نظام کے متعلق مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ بس ایک دعا اور تمنا ہے کہ ہمارا نظام درست ہوجائے۔