انصار الاسلام پر پابندی کا نوٹس غیر مئوثر ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ، آزادی مارچ پنجاب میں داخل

356
سکھر،آزادی مارچ کے شرکاء مولانا فضل الرحمان کا خطاب سن رہے ہیں
سکھر،آزادی مارچ کے شرکاء مولانا فضل الرحمان کا خطاب سن رہے ہیں

 

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی تنظیم انصار السلام پر پابندی کا بظاہر نوٹیفکیشن غیر موثر ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں جے یو آئی (ف) کی ذیلی تنظیم انصارالاسلام پر پابندی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے وزارت داخلہ کے افسر کو (آ ج) منگل کو طلب کرلیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جمعیت علمائے اسلام کو سنے بغیر وزارت داخلہ نے پابندی لگائی، وزارت داخلہ عدالت کو مطمئن کرے کہ کسی کو سنے بغیر کیسے پابندی لگا دی۔جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام
سیاسی جماعت کے طور پر الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہے اور انصارالاسلام پرائیویٹ ملیشیا نہیں بلکہ ہماری تنظیم جمعیت علمائے اسلام کا حصہ ہے، قائداعظم کے دور سے یہ تنظیم کام کر رہی ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اگر انصار السلام کے کارکن سیاسی جماعت کے رکن ہیں تو پھر اس پر پابندی کا نوٹیفکیشن ہی غیر موثر ہے، پرائیویٹ ملیشیا نہیں لیکن اس کے پاس ڈنڈے تو ہیں۔ وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ڈنڈے تو جھنڈوں کے ساتھ لگے ہوتے ہیں۔عدالت نے پوچھا کہ کیا وفاقی حکومت نے آپ کا موقف سنا بھی ہے یا نہیں۔ وکیل نے جواب دیا کہ وزارت داخلہ نے ہمیں سنے بغیر پابندی لگا دی۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جب تنظیم کا باقاعدہ وجود ہی نہیں تو اس پر پابندی کیسے لگ سکتی ہے، کم از کم حکومت آپ سے پوچھ تو لیتی کہ یہ تنظیم کیا ہے، 24 اکتوبر کو وزارت داخلہ نے انصارالاسلام پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا، یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ایک چیز موجود ہی نہیں اور اس پر پابندی لگا دی گئی، میری رائے کے مطابق تو یہ نوٹیفکیشن ہی غیر موثر ہے۔ انصار کے کارکن خاکی وردی کے بجائے سفید پہن لیں توپھر کیا ہوگا۔عدالت نے وزارت داخلہ کے افسر کو طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آ ج تک ملتوی کردی۔

سکھر،ڈی جی خان(خبر ایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام(ف)کا آزادی مارچ دوسرے روز بھی جاری ر ہااور قافلہ مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں پنجاب میں داخل ہو گیا۔اتوار کو جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں آزادی مارچ کا قافلہ کراچی سہراب گوٹھ سے روانہ ہوا تھا جہاں دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنما بھی موجود تھے۔ آزادی مارچ کے مرکزی قافلے نے
رات سکھر میں قیام کیا جہاں سے یہ کارواں دوبارہ وفاقی دارالحکومت کی جانب روانہ ہوا اور پیر کی شب قافلہ پنجاب میں داخل ہوا۔سکھر سے روانگی سے قبل شرکاء سے خطاب میں مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ طبل جنگ بج چکا، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جنگ لڑنی ہے، ملک کے وجود اور آئین کو خطرہ ہے، ملک میں جمہوریت کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں جبکہ ہم جمہوریت ، آئین اور اسلام کے لیے نکلے ہیں۔دوسری جانب گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام (ف) کا ایک اور بڑا قافلہ صوبائی امیر اور رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع کی قیادت میں کوئٹہ سے روانہ ہوا جو رات گئے ڈی جی خان پہنچا اور یہ قافلہ سکھر سے آنے والے مرکزی قافلے میں شامل ہوگیا ہے۔اس قافلے میں جے یو آئی (ف) کے علاوہ دیگر جماعتوں پشتونخوا میپ، عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کے بھی سیکڑوں کارکن موجود ہیں۔یاد رہے کہ آزادی مارچ کے شرکاء31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوں گے جہاں معاہدے کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) ایچ 9 کے اتوار بازار کے قریب گراؤنڈ میں جلسہ کرے گی اور حکومت کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کرے گی۔