’’خالص عبادت‘‘

59

 

یہ بہت ضروری ہے کہ ہم عبادات کو صلے کی توقع سے خالی کر دیں۔ ہماری عبادت میں کہیں یہ ڈر نہ ہو کہ میں اس لیے عبادت کروں تا کہ جہنم سے نجات مل جائے اور نہ ہی یہ لالچ ہو کہ مجھے جنت مل جائے اور نہ یہ خوف ہو کہ چونکہ میرے رب کا حکم ہے کہ میری عبادت کرو اس لیے میں اس حکم کی تابعداری کروں تا کہ کل کو مجھے سزا نہ ملے، اس لیے بھی عبادت نہ کروں تا کہ رب مجھ سے راضی ہو جائے۔
عبادت کے پیچھے صرف یہ جذبہ ہو کہ میرا رب اتنا مہربان ہے کہ بن مانگے مجھے عطا کرتا ہے، وہ اتنا عظیم ہے کہ میں صبح شام اس کی سرکشی کرتا ہوں، اس کی کوئی بات نہیں مانتا لیکن وہ اتنا ظرف والا ہے کہ اس نے کبھی میری گرفت نہیں کی۔
مثال کے طور پر اگر کوئی مجھ سے دو روپے مانگے تو میں پوچھوں گا کہ یہ پیسے تمہیں کیوں چاہئیں؟ وہ کہے گا کہ میں بھوکا ہوں۔ میں اس کی بات کا یقین نہیں کروں گا اور کہوں گا ’نہیں تو ضرور نشہ کرے گا‘۔ لیکن وہ رب کریم اتنا عظیم ہے کہ کبھی نہیں پوچھتا کہ میں تمہارے بن مانگے تمہیں جو رزق عطا کرتا ہوں اسے تم نے کس کس غلط کام پر خرچ کیا۔ اب مزید رزق عطا کروں گا تو تم کیا کرو گے؟
رب کی عبادت صرف اس جذبے کے ساتھ کی جائے کہ وہ عظیم اور عبادت کے لائق ہے، تو ایسی عبادت بہت کمال کی بات ہے۔ تب انسان میں عبادت کے بعد تکبر کے بجائے شکر گزاری اور عاجزی کا احساس پیدا ہونے لگتا ہے اور انسان اپنی عبادت کو خود اپنی ذات سے بھی چھپانے لگتا ہے۔
سید سرفراز اے شاہ: ارژنگ فقیر