کامیابی کا مہینہ

112

 

آمنہ آفاق

مسلسل دستک کی آواز سے میں نے ناگواری سے دروازہ کھولا تو سامنے تیرہ چودہ سالہ لڑکی نے مجھے خوش دلی سے سلام کرنے کے بعد کہا ”آنٹی ہمارے ہاں سورہ مزمل کا ختم ہے آئیے گا ضرور “
”اچھا تمہارے ہاں بھی آنا ہے وہ کونے والے گھر کی خالہ نے بھی سورہ مزمل کے ختم کے لیے بلایا ہے میں نے اس کو بتایا تو اس نے کہا ”آنٹی 313 بار تو پڑھنا ہے پہلے ہماری طرف آجایے گا پھر وہاں چلے جایے گا“
”دیکھتے ہیں “
میں نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا اور دروازہ بند کر کے کمرے میں آگئی صبح سے یہ تیسرا بلاوا تھا ”جانا تو پڑے گا محلے داری کی بات ہے“
میں نے سوچا اور روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہو گئی مگر سر شام پھر سے میرے دماغ میں خیال آیا کہ آج کے دن ہی کیوں؟؟ آج کے ہی مہینے کیوں؟؟
” ارے بہن تمہیں نہیں معلوم یہ باپ بھائیوں کی حفاظت کے لئے ہوتا ہے اس مہینے میں بلائیں اُترتی ہیں تو ان سے بھی حفاظت کے لیے یہ ختم کرایا جاتا ہے تمہارے سسرال میں بھی تو ہوتا تھا پہلے ، تم نہیں کراتیں تمھیں شوہر کی زندگی پیاری نہیں ہے کیا ؟؟“
وہ اب بڑی بڑی سرزنشی آنکھوں سے مجھے گھور رہیں تھیں گویا میں بھی انکار میں سر ہلائو گی اور وہ زبردست مکہ میرے سر پر دے ماريں گی۔
میں نے اس وقت کو کوسا جب ان سے یہ سوال کیا تھا میں نے خاموشی میں ہی عافیت جانی اور بڑے جذب سے سورۃ مزمل پڑھنے میں مصروف ہوگئی مگر دماغ مسلسل اسی نقطہ پر اٹک کر رہ گیا کہ یہ باپ بھائیوں کی حفاظت کے لیے ہوتا ہے
گھر آکر بھی یہی سوچتی رہی کہ آنٹی کی بات پر عمل کرکے اپنے گھر میں بھی اگلے ہی دن رکھ لوں یا پہلے قرآن پاک کھول کر اس کی تفسیر دیکھوں کہ آیا ایسا کرنا قرآن کریم سے ثابت ہے بھی یا نہیں کیوں کہ قرآن پاک تو ہماری ہی ہدایت کا سرچشمہ ہےاور یہ بات بھی ہضم نہیں ہو پا رہی تھی کہ باپ بھائی تو پورے سال رزق کی دوڑ دھوپ میں سرگرداں رہتے ہیں تو صرف ایک خاص مہینے میں ہی ان کی حفاظت کا اہتمام کیوں خیر میں نے اپنے کمرے کی چھوٹی سی لائبریری میں جاکر سیرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ شروع کیا ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر اور قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرکے اپنی زندگی گزارنی چاہیے بچپن سے ہی امی ابو اور دادی نے سکھا رکھا تھا کہ بیٹا اپنی حفاظت کے لیے معوذتین صبح شام پڑھا کرو اور یہ میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہے تو جب یہ سنت بھی ہے اور میری حفاظت کا ذریعہ بھی تو کیا یہ میرے گھر کے مردوں کی حفاظت کے لیے ناکافی ہے معاذاللہ
مجھے بہت افسوس ہو رہا تھا سورہ مزمل کا پڑھنا بہت اچھی بات ہے مگر یہ صرف ایک ہی مہینے تک محدود کیوں ہے؟ آپ اسے خود پڑھیں اس کے معنی، تلفظ کو سمجھیں روزانہ پڑھیں قرآن پاک کا احترام تو یہی ہے کہ اس کو پڑھیں سمجھیں اور غوروفکر کریں اور عمل کریں ابھی میں انہی سوچوں میں مگن تھی کہ پھر سے دروازے پر دستک ہوئی
”کون ہے بیٹا “
میں نے اپنے بیٹے انس سے پوچھا جو کسی بچے سے کوئی چیز لے رہا تھا
”ماما ساتھ والی آنٹی نے چھولے بھیجے ہیں“ اب وہ پلیٹ بچے کو واپس کرکے میرے پاس آکر بیٹھ گیا
” بہت سارے گھروں سے چھو لے آئے ہیں ، کیا اس مہینے میں چھولے باٹنے چا ہییں“
انس کی معصومیت سے پوچھنے پر مجھے احساس ہوا کہ واقعی بچے تو اپنے بڑوں کی تقلید کرتے ہیں ان کو ہم جیسا دکھائیں گے وہی سب کچھ ہماری آگے آنے والی نسلوں کو منتقل ہوتا جائے گا ”مما حسیب بتا رہا تھا کہ اس مہینے میں آٹے کے گولے بنا کر مچھلیوں کو ڈالنا چاہیے اور اس مہینے میں شادی بھی نہیں کرتے، بلائیں اترتی ہیں اس مہینے میں ۔
بے حد دُکھ میرے دل میں اُترتا چلا گیا بہت افسوس کا مقام ہے دنیا کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بڑی جدوجہد کرتے ہیں کہ میتھ کی ٹیچر ہو تو بہت اچھی ہو، اسکول کالج کا انتخاب انتہائی سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے مگر دین کے بارے میں اپنے آباؤ اجداد کو جو کرتے دیکھا وہ بلا تحقیق آگے آنے والی نسلوں کو بھی منتقل کر دیا اور خود بھی مرتے دم تک عمل پیرا رہے ۔
”دیکھو بیٹا بلائیں تو روزانہ اُترتی ہیں صرف ایک ہی مہینہ تھوڑی بلاؤں کے لیے مختص کیا گیا ہے آپ کو پتا ہے نا رات میں شر تیزی سے پھیلتا ہے تو اللہ پاک نے معوذتین کے ذریعے ہماری حفاظت کا اہتمام کیا ہے آپ اس کا ترجمہ پڑھیں اس میں ہر چیز کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے اور اپنے دوستوں کو بھی بتائیں مگر بیٹا اتنی نرمی کے ساتھ کہ اس کو آپ کی بات بھلی لگے۔
بیٹا ماہ صفر کا پورا نام صفرالمظف ہےمظفر کے معنی ہیں بڑائی کے تو یہ بڑا بابرکت مہینہ ہوا ناں ، اس مہینے میں شادی نہ کرنا ، مردوں کے لیے بھاری سمجھنا یا اس ماہ کو نحوست والا سمجھنا ، یہ توہمات ہیں اور اسلام میں ان توہمات کی حیثیت شرک ہے ہمارا ایمان ہے کہ نفع و نقصان اللہ کے ہاتھ میں ہے تو ہم یہ نفع و نقصان کسی مہینے بندے یا کسی مریض یا نجومی کے ہاتھ میں دے دیں تو بیٹا یہ شرک کے زمرے میں آئے گا ناں اس کے علاوہ احادیث میں ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں زمانے کو قصور وار نہ ٹھہراؤ کیونکہ زمانہ مجھ سے ہے ۔
کسی دن یا کسی مہینے یا کسی بھی انسان کے اندر نحوست نہیں ہوتی ہے ،جو اللہ نے ہمارے حق میں لکھ رکھا ہے اسے کوئی ٹال نہیں سکتا ، اور اگر وہ ٹال دے تو کوئی بھی ہمارے حق میں نقصان نہیں کر سکتا، بس اس کا علاج ہے” توکل“
” اللہ پر بھروسہ “
پس اپنی زندگی کو محض انجانے اور بے حقیقت خوف کی وجہ سے مشکل نہیں بنانا چاہیے
میرے بچے “
” جی ماما آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں میرا بھی دل ان تمام باتوں کو نہیں مانا تھا۔
تب ہی میں نے آپ سے پوچھا اور میں اپنے عمل سے ان شاء اللہ اپنے دوست کو بھی یہ بات سمجھائوں گا کہ ہمیں ہر بات پر عمل کرنے یا آگے پہنچانے سے پہلے تحقیق کر لینی چاہیے کہ آیا وہ درست ہے یا نہیں “
میرے پیارے بیٹے نے اپنی ذہانت بھرے انداز سے مجھے لاجواب کر دیا تھا میں نے بے اختیار اپنے بیٹے انس کا ماتھا چوما اور اپنے رب سے دُعاؤں میں مشغول ہو گئی ایک سرشاری کی کیفیت تھی جو میرے دل میں اُتر گئی تھی اور اب میں مطمئن تھی۔