پی ٹی آئی نے عوام کو دھوکا دینے کیلیے مدینہ طرز کی ریاست کا نعرہ لگایا‘ راشد نسیم

231
فیصل آباد: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان راشد نسیم اجتماع ارکان سے خطاب کررہے ہیں
فیصل آباد: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان راشد نسیم اجتماع ارکان سے خطاب کررہے ہیں

لاہور( نمائندہ جسارت) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان راشد نسیم نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی خالصتاً ایک نظریاتی اور غلبہ دین کی تحریک ہے۔جماعت اسلامی باالعموم پوری انسانیت اور بالخصوص پاکستانی قوم کو قرآن و سنت کے نظام کی طرف لانے او ر پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی و فلاحی مملکت بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ارکان جماعت جب تک اس سیرت و کردار کو نہیں اپناتے جو اعلائے کلمہ اللہ کی تحریک کے کارکنوں کے لیے ضروری ہے غلبہ دین کی منزل حاصل نہیں ہوسکتی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیصل آباد میں ارکان ضلع کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجتماع سے امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب محمد جاوید قصوری،ضلعی امیر عظیم رندھاوا اور سابق امیر ضلع سردار ظفر حسیس نے بھی خطاب کیا۔ راشد نسیم نے کہا کہ جماعت اسلامی پی ٹی آئی،مسلم لیگ یا پیپلزپارٹی کی طرح محض ایک سیاسی جماعت نہیں جن کی تمام تر بھاگ دوڑ کا مقصد اقتدار کی کرسی حاصل کرنا ہے۔ جماعت اسلامی کو اگر اقتدار مل جائے لیکن ملک میں اللہ کا نظام نافذ نہ ہوسکے تو اس کی ساری ڈور دھوپ رائیگاں جائے گی۔ اس لیے ضرور ی ہے کہ جماعت اسلامی کے ارکان و کارکنان اپنی سرگرمیوں کا مرکز و محور اپنی سیرت و کردار کی تعمیر کو بنائیں اور صحابہ کرام کی زندگیوں کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے خالصتارضائے الٰہی کو اپنا مقصد حیات بنائیں۔ راشد نسیم نے کہا کہ پی ٹی آئی نے عوام کو دھوکا دینے کے لیے پاکستان کو مدینہ کی طرز پر اسلامی ریاست بنانے کا نعرہ لگایا۔ملک کو مدینہ کی ریاست وہی لوگ بناسکتے ہیں جنہوں نے اپنے کردار کو قرآن و سنت کی روشنی میں ڈھالاہو۔جو لوگ اپنے کسی عہد پر قائم نہیں رہ سکتے اسلامی نظام کو نافذ نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ اسلامی ریاست کے حکمرانوں کے لیے امانت و دیانت اور عدل اجتماعی کا قیام اولین شر ط ہے۔لیکن ریاست کا پورا نظام ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو ان بنیادی شرائط پر پورا نہیں اترتے۔اس لیے ضروری ہے کہ ارکان جماعت اللہ سے لو لگائیں ۔قرآن سنت کے احکامات اور جماعت اسلامی کے قیام کے اصل مقصد کو دوبارہ اپنے دل و دماغ میں تازہ کرکے اپنے حلف رکنیت کا اعادہ کریں اور نئے عزم کے ساتھ اپنی جدوجہد کا آغاز کریں تو انہیں اپنی منزل حاصل کرنے میں زیادہ دیر انتظا ر نہیں کرنا پڑے گا۔