سانحہ ساہیوال ناقابل قبول فیصلہ

227

 

محمد اکرم خالد

۔19 جنوری 2019 کو ساہیوال میں ایک درد ناک سانحہ رونما ہوا جس پر ہر درد رکھنے والا انسان غم زدہ تھا پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی سی ٹی ڈی نے ساہیوال جی ٹی روڈ پر اڈا قادر کے قریب ایک مشکوک کاروائی کے دوران ایک کار میں سوار دو خواتین سمیت چار افراد کو ہلاک جبکہ تین دہشت گردوں کو فرار اور تین بچوں کو باز یاب کرانے کا ڈرامائی دعویٰ کیا۔ جبکہ حقیقت اس بر عکس تھی چند منٹوں کی کاروائی نے انسانیت کو شرمندہ کر ڈالا ہے اس کاروائی نے چار بے گناہ معصوم زندگیوں کو ختم اور تین معصوم بچوں کو یتیم کر ڈالا بد قسمتی سے یہ کوئی پہلا سانحہ نہیں جس میں پولیس کے ہاتھوں بے گناہ زندگیوں کو ختم اور معصوم بچوں کو یتیم کیا گیا ہے۔ اس سانحہ کے بعد بھی ارباب اختیار کی بے حسی جاری رہی اور پنجاب سمت کئی جگہوں پر معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی اور پنجاب کے تھانوں میں پولیس گردی کے واقعات رونما ہوئے جو اس وقت بھی جاری ہیں جن پر ارباب اختیار مذمت اور کمیٹیاں بنا کر اپنی ذمے داریوں سے فارغ ہوتے رہے ہیں۔ پاکستان میں جہاں معاشی بحران روز بروز بڑھتا چلا جارہا ہے وہاںدہشت گردی، پولیس گردی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ کراچی پولیس کے ایک افسر رائو انوار جن پر اپنے ہی پاکستانیوں کو ماورائے قتل کے سنگین الزامات ہیں، کئی افراد کو بے گناہ جعلی پولیس مقابلوں میں ہلاک کر کے آزاد زندگی گزار رہے ہیں جبکہ لواحقین انصاف کی تلاش میں عدالتوں میں دوہائی دے رہے ہیں۔ ایک انسانیت کا سر عام قتل ہو یا برسوں سے لاپتا افراد، ان کے نام پر سیاست ہوتی رہی ہے، آج ہر قومی ادارہ بہتر نظام سے محروم ہے۔ عوام آج جرائم پیشہ افراد سے زیادہ پولیس سے خوف کھاتے ہیں سڑکوں پر جگہ جگہ ناکے لگا کر امن وامان قائم کرنے کے دعوے کی آڑ میں عوام کو پریشان کیا جاتا ہے، بھتے کی صورت میں رشوت لی جا تی ہے، آج بھی تھانوں کی خریدو فروخت کی جاتی ہے۔ عدالتوں کے حکم پر تجاوزات کے نام پر غریب کو تو بے روز گار کر دیا جاتا ہے مگر پولیس گردی کے خلاف کوئی قانون حرکت میں نہیں آتا۔
پولیس اصلاحات کے نام پر بڑے بڑے بجٹ منظور کیے جاتے ہیں۔ میرٹ کے نام پر بھرتیوں کے دعوے کیے جاتے ہیں اور ان تمام مراعات کا فائدہ پولیس کے اعلیٰ حکام اور سیاسی افراد اُٹھاتے ہیں۔ رشوت کی بنیاد پر پولیس کے محکمہ میں جرائم پیشہ ذہن رکھنے والے افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے منشیات سنگین جرائم اور ساہیوال جیسے افسوس ناک سانحہ کو انجام دے کر پولیس کے محکمہ کی بد نامی کا سبب بنتے ہیں۔ دراصل ہماری سیاسی جماعتیں ادارے پولیس کے محکمے کو درست سمت پر گامزن کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ پولیس ہمیشہ انتقامی سیاسی مقاصد، بڑے بڑے پروٹوکول کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے اور آج بھی یہ بے لگام پولیس ایک ایسی حکومت کی سرپرستی میں کام کر رہی ہے جو پولیس کے نظام کو بہتر بنانے کا بے بنیاد دعویٰ کرتی آئی ہے جو ریاست مدینہ کے انصاف کا دعویٰ کرتی آئی ہے۔ ساہیوال کا سانحہ پولیس گردی کا کوئی پہلا اور آخری واقعہ نہیں تھا اور اگر عدالتیں پولیس گردی کے واقعات پر ایسے فیصلے دیتی رہیں تو یقینا عوام کا انصاف پر سے مکمل اعتماد ختم ہوجائے گا اور عوام کے ذہنوں میں پولیس گردی کے واقعات زندہ رہیں گے۔
نو ماہ بعد سانحہ ساہیوال کا فیصلہ لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سناتے ہوئے اس سانحے ذمے دار تمام پولیس اہلکاروں کو شواہد نہ ہونے کی بنیاد پر بری کردیا جبکہ مقتول کے بھائی نے بھی اس فیصلہ پر اطمینان کا اظہار کر دیا کیوں کہ پہلے ہی محمد جلیل کو حکومت نے بچوں کی پرورش کے نام پر دو کروڑ دیے تھے اور سانحہ کے وہ گواہان جنہوں نے دہشت گردی کے اس واقعے کی سر عام ویڈیو بنائی تھی جو ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر آج بھی موجود ہے جس میں واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ کس انداز سے پولیس کے اہلکاروں نے اس گاڑی پر گولیاں چلائیں اور انسانیت کو کچلا جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی فرمایا تھا کہ ان پولیس اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی واقعے کے فوری بعد عوامی دبائو پر اُس وقت کے آئی جی رائے طاہر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جن کو چند دن بعد دوبارہ آئی جی سی ٹی ڈی بحال کر دیا گیا تھا جس سے حکومت کی اس درد ناک سانحہ پر سنجیدگی کا انداز ہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
ساہیوال سانحہ کے حقائق اس وقت تک کھلی کتاب کی طرح واضح ہیں کہ ایک فیملی کو دہشت گردوں کے نام پر پولیس گردی کا سرعام نشانہ بنایا گیا ہے اس سانحے میں بچ جانے والا معصوم لڑکا حقائق بیان کر رہا ہے میڈیا اور کرائم رپورٹر سے موجود لوگ حقائق بیان کر رہے ہیں ہمارے ارباب اختیار سانحہ آرمی پبلک اسکول پر تو بڑے آنسو بہاتے ہیں، مگر یہ معصوم بچے جن کو ہماری اپنی پولیس نے سر عام یتیم کر ڈالا تمام شواہد کے باوجود ان یتیم بچوں کو کیسا انصاف فراہم کیا گیا ہے کل تک تو سانحہ ساہیوال مشکوک تھا مگر آج سانحہ ساہیوال کا عدالتی فیصلہ بھی مشکوک ہوگیا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت سانحے ساہیوال کے فیصلہ کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کرے کیوں کہ عوام سمجھتے ہیں کہ اس واقعے کی ویڈیو سب سے اہم ثبوت ہے جس کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے یہ فیصلہ ڈیل کے نتیجے میں کیا گیا ہے جس میں پیٹی بند بھائی پولیس اہلکاروں کو یقینا بچایا گیا ہے اگر وزیر اعظم عوام سے اس مدینہ کی ریاست کی بات کرتے ہیں جس میں ٹھوس شواہد کے بعد بھی دہشت گردوں کو آزاد کر دیا جاتا ہے تو پھر وزیر اعظم روز آخرت بھی ایک عدالت لگائی جائے گی جس میں ان اداروں کی نا انصافیوں کا جواب آپ سے طلب کیا جائے گا کیوں کہ یہ واقع آپ کی حکمرانی میں آپ کے اداروں نے سر عام انجام دیا ہے۔ یقینا آپ بھی اس سانحے کے شواہد سے آگاہ ہیں اور اس سانحے کے فیصلے سے شاید آپ کا ضمیر بھی مطمئن نہ ہو۔ یہ قوم آپ سے ریاست مدینہ کا حقیقی انصاف دیکھنے کی منتظر رہے گی۔