پی ٹی سی ایل کا کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار

92
پی ٹی سی ایل کی کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے حوالے سے فن پاروں کی نمائش میں وفاقی وزیر آئی ٹی اور دیگر کا گروپ فوٹو
پی ٹی سی ایل کی کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے حوالے سے فن پاروں کی نمائش میں وفاقی وزیر آئی ٹی اور دیگر کا گروپ فوٹو

اسلام آباد)کامرس ڈیسک) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) اور وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام ) ایم او آئی ٹی ٹی ( نے پی این سی اے کے اشتراک سے فن پاروں کی نمائش ‘ بے آوازوں کی آواز ‘ کے انعقاد کی افتتاحی تقریب اسلام ا ٓباد میں منعقد کیا جس کا مقصدکشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا ہے۔تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی ،وفاقی وزیر آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام، نے نمائش کا افتتاح کیا۔ تقریب میںشعیب احمد صدیقی، وفاقی سیکرٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام، راشد خان، پریزیڈنٹ اور سی ای او، پی ٹی سی ایل اور اعلیٰ پی ٹی سی ایل افسران بمعہ دیگر ٹیلی کا م آپریٹرز نے شرکت کی اور اُن کو فن پاروں کی نمائش کادورہ بھی کرایا گیا۔اس موقع پرڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ،وفاقی وزیر آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام، نے کہا ’’ آج ہم پی ٹی سی ایل کے اشتراک سے مسئلہ کشمیر پر آگاہی پیدا کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ پوری دنیا میں پاکستانی عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو اس وقت مشکل اور کٹھن دور سے گزر رہے ہیں۔ ہم قومی اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ آگے آئیں اور کشمیری عوام کی تکالیف اور مشکلات کا نوٹس لیں۔ یہ نمائش کشمیری عوام کی مشکلات کو منظرِ عام پر لانے کا ایک راستہ ہے تا کہ لوگ اُن کی تکالیف کو محسوس کر سکیں۔‘‘ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے راشد خان، پریزیڈنٹ اور سی ای او، پی ٹی سی ایل،نے کہا ’’ پی ٹی سی ایل قومی کمپنی ہونے کے ناطے کشمیر کے لئے اپنی حمایت کی یقین دہانی کراتا ہے ۔ آج کی نمائش کے ذریعے ہمیں امید ہے کہ مسئلہ کشمیر پر مزید آگاہی پیدا ہوگی اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اُجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ مزید یہ کہ نمائش کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد میں ہماری حمایت کا اعادہ ہے۔‘‘ نمائش میں معروف فنکاروں منصور راہی، غلام رسول، حاجرہ منصور، مبینہ زبیری، سلیمہ حاشمی ، کے پی این سی اے میں موجود فن پارے اور امنہ اسماعیل پٹودی ، ارم ناز کے مسئلہ کشمیر پر نئے فن پارے پیش کیے جنہیں حاضرین نے خوب سراہا۔ فن پاروں میں کشمیر کی صورتحال کی صحیح منظر کشی کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کے لئے شرکاء میں ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔