کے الیکٹرک اور عوام کی پریشانیاں

343

تبسم فیاض

موجودہ دور میں ہر انسان آسائشات کا عادی ہے کوئی کام بھی بغیر مشینری کے بغیر ممکن نظر نہیں آتا۔ ہماری زندگیوں میں برقی آلات کا استعمال ایک عام بات ہوگئی ہے۔ گھر کے کچن سے لے کر بچوں کی تعلیم میں معاون کمپیوٹر ہو یا گھر میں تفریح کا ذریعہ ٹی وی یا ایک دوسرے سے رابطہ کے لیے موبائل ہی کیوں نہ ہو تمام چیزوں کے پیچھے ایک بجلی ہی ایسی ایجاد ہے جس کی وجہ سے زندگی دوڑ رہی ہے۔ ہر ملک میں رہنے والے شہریوں کی کچھ بنیادی ضرورتیں اور حقوق ہوتے ہیں اور جو ملک یہ بنیادی ضرورتیں دینے سے قاصر ہوتا ہے اُس ملک میں نفسا نفسی اور افراتفری کا عالم ہوتا ہے۔ کچھ ایسا ہی ہمارے ملک پاکستان کے ساتھ ہوا ہے۔ آزادی کے وقت جو مسائل تھے وہ آج بھی ہماری گردن میں طوق کی طرح بندھے ہوئے ہیں۔ حکومت آتی اور جاتی رہی لیکن مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھتے گئے اور آج یہ نوبت ہے کہ پاکستان میں پانی کی کمی، بجلی کا بحران، گیس کی قلت، لاقانونیت، بد نظمی نمایاں ہیں۔ یہ ملک کے ایسے گمبھیر مسائل ہیں جن کو اگر سنجیدگی سے سوچا جائے تو محسوس ہو گا کہ ہم پستی کے کسی دہانے پر کھڑے ہیں، نفسا نفسی کا عالم پاکستان کے ہر حکومتی ادارے میں ملے گا۔ کسی بھی ادارے میں آپس میں کوئی بھی باہمی مشورہ اور فیصلہ دکھائی نہیں دیتا۔ یہاں کام کرنے والے کم اور بگاڑنے والے لوگ زیادہ نظر آئیں گے۔ ایک دوسرے کے کام پر تنقید اور نکتہ چینی ہماری عادت بن گئی ہے۔ جب ہمارے ملک میں کوئی ترقیاتی کام شروع ہوتا ہے تو وہ مدتوں جاری رہتا ہے۔ اس کا کوئی ٹائم پیریڈ نہیں کہ آیا کب ختم ہو گا؟ برسوں میں سڑکوں کی مرمت کا کام ہو تا ہے اور جیسے ہی وہ کام ختم ہو تا ہے بلدیہ کو سیوریج سسٹم صحیح کرنے کا جوش چڑھتا ہے اور وہ لائنیں ڈالنے کے لیے نئی سڑکوں کھود دیتے ہیں پھر انہیں اسی حالات میں چھوڑ دیتے ہیں۔ عوام کی حالت زار پوچھیں کہ وہ ان ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر کس طرح سے سفر کرتے ہیں۔ اس طرح سب سے اہم مسئلہ جس پر یہ پورا ملک برق رفتاری سے دوڑ رہا ہے جی ہاں بجلی کے نظام کی بات کر رہی ہوں۔ پس ماندہ علاقوں میں بجلی کا صرف نام ہے چھتیس چھتیس گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔ کے الیکٹرک کے بوسیدہ نظام نے ملک کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔ ہر صنعت کار پریشان ہے، تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور طالب علم پریشان ہیں کس طرح گرمی میں پڑھائیں اور کس طرح گرمی کو برداشت کرتے ہوئے پسینہ میں شرابور بچے تعلیم حاصل کریں۔
یہ ہر حکومت کی ذمے داری ہے کہ بنیادی ضرورتوں کو شہریوں تک پہنچانے کے لیے اداروں کو پابند کرے۔ پہلے لوڈ شیڈنگ کی وجہ بجلی کی چوری بتائی جاتی تھی پھر الیکٹرک ادارے کی طرف سے نئے میٹر اور تار تبدیل کیے گئے لیکن پھر بھی عملے کی کارکردگی اور بجلی کی فراہمی میں خاطر خواہ فائدہ نظر نہیں آیا۔ آئے روز ٹوٹے تار اور کے الیکٹرک کی غفلت کے باعث حادثات کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔ شکایتی کال پر بھی بروقت نہ پہنچنا کے الیکٹرک کی پرانی روایت ہے۔ ابھی حالیہ دنوں میں بجلی کے ٹوٹے تار سے کرنٹ لگ کر ایک بچہ ہلاک ہوا۔ بارش میں کرنٹ پھیلنے سے کئی لوگ جان سے گئے۔ بجلی کے کھمبوں کے قریب سے گزرتے ہوئے کئی لوگ چپک گئے اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ ساری خبریں سن کر دل دہلتا ہے لیکن مجال ہے جو کے الیکٹرک کے کان پر جوں بھی رینگے۔ کبھی کبھی تو کے الیکٹرک کے عہدیداران کے انتخاب پر شک سا ہوتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسا خاص پیمانہ ہے جسے استعمال کر کے وہ ایسے لوگ منتخب کر تے ہیں جن کے پاس احساس اور ضمیر نہ ہونے کے برابر ہو۔ خیر یہ حال اکثر سرکاری ملازمین کا ہے۔ کے الیکٹرک کے پرائیویٹ ہونے کے بعد تو یوں لگتا ہے کہ اس ادارے کے گزشتہ نقصانات کی رقوم غریب عوام میں انصاف کے ساتھ برابر تقسیم کر دی گئی ہے۔ احتیاط کے باوجود میٹر کی تیز رفتاری نے شہریوں کو کوفت میں مبتلا کر دیا ہے۔ پھر سونے پر سہاگہ ہر چھ مہینے پر (لوڈ) بل کو چار چاند لگا دیتا ہے۔
پاکستان کے عوام عجیب مشکل کا شکار ہیں پہلے اپنے آپ کو پنکھے، ٹی وی، اے سی، نیٹ اور جدید مشنری کا عادی بنا لیا اور اب بھاری رقوم کے بل دیکھ کر قدرتی بجلی یعنی سولر سسٹم کی طرف سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور ہیں۔ وہ غریب عوام جو اپنی تنخواہ کا ایک بڑا حصہ کرایہ کی صورت میں ادا کرتے ہیں انہیں بجلی کے بل کی طرف سے ایک دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں زیادہ نہ آجائے کیونکہ تنخواہ دار لوگ ایک لگے بندھے بجٹ کے مطابق زندگی گزار رہے ہوتے ہیں بل کی زیادتی کی وجہ سے انہیں کھانے پینے آنے جانے اور بہت سے دنیاوی معاملات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ کراچی جیسے شہر میں جہاں اکثریت آبادی فلیٹ پر مشتمل ہے بند گھروں اور فلیٹ میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے انسانی زندگی گھٹ کر رہ گئی ہے۔ لوگ جنریٹر چلانے پر مجبور ہیں کاروباری زندگی بھی لوڈ شیڈنگ کی بے قاعدگیوں کی وجہ سے شدید متاثر ہو رہی ہے۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں جنریٹر، یو پی ایس اور سولر سسٹم کی سہولت میسر نہیں وہ طویل لوڈ شیڈنگ کو برداشت کرتے ہوئے گزارہ کرنے پر مجبور ہیں۔
الیکٹر سٹی چارجز اور ٹیکس میں ترقی کی منازل طے کرتا یہ ادارہ بجلی کی صحیح فراہمی میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ مہنگی بجلی کا بوجھ غریب عوام زیادہ عرصہ تک اپنے کاندھوں پر نہیں اُٹھا پائیں گے۔ کے الیکٹر ک کی جانب سے کچی آبادیوں کو کنڈا سسٹم کی فراہمی پکی آبادیوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ وہاں آئے روز جمپر گر جانا اور PMT کا اڑ جانا معمول بن گیا ہے اس پر ستم یہ کہ کے الیکٹر ک کے عملے کا غیر ذمے دارانہ رویہ عوام کے لیے عذاب بن گیا ہے۔ ہر حکومت عوام کی بنیادی ضرورتوں کو سیڑھی بنا کر کرسی حاصل کر لیتی ہے لیکن کوئی بھی حکومت ابھی تک عوام کا دل نہیں جیت سکی اور نہ ہی ان کے مسائل کو بھر پور کوشش سے حل کر سکی ہے۔ ہر آنے والی حکومت سے عوام کو توقع ہوتی ہے اور ہم موجودہ حکومت سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ عوام کے مسائل کو سمجھے اور اپنے تمام حکومتی ملازمین سمیت اداروں کو پابند کرے کہ عوام کے بنیادی حقوق ادا کرنے کی کوشش کریں ان کے مسائل اور مشکلات کا جلد از جلد حل تلاش کریں خاص کر کے الیکٹرک کو پابند کیا جائے کہ طویل دورانیے کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرے کچی آبادیوں سے کنڈا سسٹم ختم کرے، تعلیمی اداروں پر لوڈ شیڈنگ کا اطلاق نہ کیا جائے۔ مرکزی شاہراہوں پر بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ حادثات سے لوگ محفوظ رہ سکیں عوام کی صورتِ حال اور ملکی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی جائے۔ اُمید کرتی ہوں کہ میری ان تجاویز پر حکومت کے الیکٹرک کو ان اقدامات کا پابند کرے گی۔ عوام بھی کے الیکٹر ک کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے بجلی کی چوری کی نشاندہی کریں تاکہ ایسے لوگوں کے خلاف کاروائی ہو سکے اور عوام بجلی کے استعمال میں احتیاط کریں تاکہ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ جلد از جلد ہو سکے۔