نقطہ نظر

133

جواب عوام کو بھی دینا ہوگا
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے لیکن یہاں کچرے کے ڈھیر اور آلودگی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ ایک خبر پڑھی کہ کچرا چننے والے تین بچے ایک نالے میں گر کر ہلاک ہوگئے۔ بہت افسوس کی بات ہے قوم کے یہ معمار تعلیم حاصل کرنے کے بجائے کچرا چننے میں لگے ہوئے تھے۔ ہمارے حکمران آئے دن بیرون ملک دوروں پر رہتے ہیں وہاں جا کر کبھی اُن کو خیال نہیں آتا کہ اپنے ملک کو بھی ایسا بنایا جائے۔ سندھ حکومت کو بالکل شرم نہیں آتی کہ کراچی جیسے بین الاقوامی شہر کا یہ حال پوری قوم کو دنیا بھر میں شرمندہ کررہا ہے۔
حکمرانوں کو تو اللہ کی عدالت میں اس کا حساب دینا ہی ہوگا۔ لیکن ہمارے عوام کی عقل پر ماتم ہے کہ وہ بار بار بیوقوف بنتے ہیں اور ظالموں کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں۔ کراچی کے ایک تاجر کو بھتا نہ دینے پر گولی مار دی گئی، شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمے داری ہے لیکن جب حکومت ظالم کو نہ پکڑے تو عوام کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ انہوں نے کن نااہلوں کو اپنے گھر کی رکھوالی کے لیے منتخب کیا۔
سعدیہ شعیب، نارتھ ناظم آباد، کراچی
سیوریج اور سڑکوں کا
ناقص نظام
سابق و موجودہ صدر مملکت کا کراچی تو اپنا شہر ہے، یوں تو باقی ملک کی نسبت کراچی میں بارش تو کبھی کبھار ہی ہوتی ہے۔ مگر جب بھی بارش کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو کراچی کی نواحی بستیوں کو چھوڑیے شہر کے مرکزی علاقے کا جو حال ہوتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ نشیبی علاقے تو کئی کئی روز تک پانی میں ڈوبے رہتے ہیں اور وہاں کے رہائشی بجلی کی سہولت سے بھی محروم رہتے ہیں۔ کے الیکٹرک کی بد انتظامی و ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے کتنی اموات ہوچکی ہیں جس کا نوٹس گو کہ نیپرا نے بھی لیا ہے اور ڈیفنس کے ناخوشگوار واقعے کی تو میئر کراچی نے کے الیکٹرک کے حکام کے خلاف ایف آئی آر کٹوائی ہے مگر یہ کوئی مستقل حل نہیں۔ حال ہی میں ہونے والی بارشوں کی الیکٹرونک میڈیا نے جس طرح منظرکشی کی ہے اس سے دنیا بھر میں کیا پیغام گیا ہے۔ بارشوں سے قبل ڈی ایم سیز نے نالوں کی صفائی کا کیا انتظام کیا تھا۔ جہاں تک نالوں میں کچرا پھینکنے کا مسئلہ ہے تو اس کا ارتکاب کرنے والوں کی سرزنش کیوں نہیں ہوتی؟ آئے روز سیوریج لائنیں چوک ہوجاتی ہیں، واٹر بورڈ کی لائنیں پھٹ جاتی ہیں۔ اس کا سدباب کیوں نہیں ہوتا؟ شہری حصول آب و سیوریج کی وجہ سے شدید پریشانی سے دوچار ہوتے ہیں۔ وزیراعظم کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے مالی پیکیج کی تیاری کررہے ہیں لیکن مالی بٹوارا سیاست کی نذر نہ ہوجائے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ متذکرہ معاملات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تا کہ دنیا بھر میں جو رسوائی و پشیمانی کا باعث بنتے ہیں اُن سے بچا جاسکے۔
حبیب الرحمن، اقراء کمپلیکس گلستان جوہر