امریکا نے شام میں فوجی دستوں کی تعیناتی کا اعلان کردیا

176

=واشنگٹن: امریکا نے شام میں تیل تنصیبات کی حفاظت کیلئے شام میں فوجی دستوں کی تعیناتی کا اعلان کردیا ۔

غیر ملکی میڈیا سروس کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ امریکی منصوبے کی دوبارہ بحالی شام کی ڈیموکریٹک فورس (ایس ڈی ایف) کے تعاون سے کی جائے گی جو شمالی شام میں آئل تنصیبات کو داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے قبضے میں جانے سے روکے گی۔

پینٹاگون کا کہنا ہےکہ امریکا اپنے اتحادی ایس ڈی ایف کے تعاون کے ساتھ اپنی پوزیشن کی دوبارہ بحالی پر کاربند ہے۔

دوسری جانب سابق سابق امریکی عہدیدار کاکہنا ہے کہ  امریکی پالیسی میں دوبارہ یو ٹرن خطے میں مزید تناؤ کا باعث بنے گا ،امریکا کی جانب سے شمالی شام میں فوجی دستوں کی تعیناتی تاریخ اور جغرافیہ کو بری طرح نظرانداز کرنا ہے۔

گزشتہ روز امریکی صدر نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا تھا کہ امریکا داعش کو کبھی آئل تنصیبات پر دوبارہ منظم نہیں ہونے دے گا۔

واضح رہےکہ امریکی صدر ٹرمپ نے حال ہی میں شمالی شام سے امریکی افواج کے انخلاء کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ترکی نے شام میں کرد ملیشیا کے خلاف آپریشن شروع کیا۔

یاد رہے کہ ترکی کی جانب سے شمالی شام میں 9 اکتوبر سے کرد باغیوں کے خلاف بہارِ امن ‘پیس اسپرنگ’کے نام سے فوجی آپریشن شروع کیا تھا ۔

ترکی اپنی سرحد سے متصل 32 کلو میٹر تک کے شامی علاقے کو محفوظ بنا کر ترکی میں موجود کم و بیش 20 لاکھ سے زائد شامی مہاجرین کو وہاں ٹھہرانا چاہتا ہے اور ترکی کا مطالبہ ہےکہ کرد ملیشیا شمالی شام کی 32 کلو میٹر کی حدود سے باہر چلی جائے اور یہ علاقہ ‘سیف زون’ کہلا سکے۔

کرد ملیشیا آزاد ملک کے قیام کیلئے سرگرم ہے،عراق میں کردستان کے نام سے ایک خودمختار علاقہ کردوں کو دیا گیا ہے تاہم وہ شام سے متصل  ترکی کے سرحدی علاقوں کو بھی کردستان کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق سیز فائر معاہدے کے تحت روس اور شام کرد ملیشیا کو سرحدی علاقے سے نکالنے میں سہولت کاری فراہم کریں گے۔

روس نے کرد ملیشیا کو خبردار کیا ہےکہ وہ ترکی اور شام کے سرحدی علاقے سے فوری انخلا کریں بصورت دیگر ترک فوجیں انہیں ختم کردیں گی۔