بنگلہ دیش: لڑکی کو زندہ جلانے پر 16 افراد کو سزائے موت

182
بنگلادیش: لڑکی کو قتل کرنے پر سزائے موت پانے والوں کو عدالت سے جیل لے جایا جارہا ہے
بنگلادیش: لڑکی کو قتل کرنے پر سزائے موت پانے والوں کو عدالت سے جیل لے جایا جارہا ہے

 

ڈھاکا (انٹرنیشنل ڈیسک) بنگلادیش میں زیادتی کی کوشش کی نشانہ بننے والی نصرت جہاں کو شکایت واپس نہ لینے پر زندہ جلا دیا گیا تھا۔ اس واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں 16 افراد کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق عدالت نے جمعرات کے روز 18 سالہ نصرت جہاں قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے اس میں نامزد 16 ملزمان کو موت کی سزا سنا دی۔ رواں برس اپریل میں جنوب مشرقی ضلع فینی میں ان ملزمان نے نصرت جہاں پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگائی تھی۔ اس واقعے میں نصرت جہاں شدید جھلس گئی تھی اور اسے تشویش ناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ واقعے کے 5 روز بعد 10 اپریل کو اپنی زندگی کی بازی ہار گئیں۔ فیصلے کے بعد وکیل استغاثہ حافظ احمد نے کہا کہ ہم اس فیصلے سے خوش ہیں۔ دوسری جانب وکلائے صفائی کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کریں گے۔ بنگلادیش میں اس مقدمے کی سماعت تیز ترین انداز میں کی گئی اور اس کا فیصلہ صرف 62 روز میں کر دیا گیا۔اس واقعے کے بعد بنگلادیش میں بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج اور مظاہرے ہوئے تھے، جب کہ وزیراعظم حسینہ واجد نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کر کے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔