سانحہ ساہیوال کے تمام ملزمان بری

504

لاہور: سانحہ ساہیوال کیس کی سماعت کرنے والی  انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے تمام ملزمان کو شک فائدہ دے کر بری کردیا

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 1 کے جج ارشد حسین بھٹہ نے سانحہ ساہیوال کے کیس کا فیصلہ سنایا ۔

بری ہونے ملزمان میں صفدر حسین، احسن خان، رمضان ، سیف اللہ، حسنین اور ناصر نواز شامل ہیں جنہیں عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

عدالت نے مقدمے میں مقتول ذیشان کے بھائی اور خلیل کے بچوں سمیت 49 گواہان کے بیانات قلمبند کیے تاہم تمام گواہان نے عدالت کے روبرو ملزمان کو شناخت کرنے سے انکار کردیا۔جبکہ گواہان اپنے بیان سے بھی منحرف ہو گئے تھے۔

طرفین کے وکلاءنے گواہوں کے بیانات پر 9 ماہ میں جرح مکمل کی جس کے بعد عدالت نے فیصلہ سناتےہوئے تمام 6 ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔

استغاثہ کے مطابق  سی ٹی ڈی پر الزام تھا کہ انہوں نے 19 جنوری 2019 کی سہ پہر کو ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں خلیل، اس کی اہلیہ، بیٹی اور محلے دار ذیشان گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوئے جب کہ کارروائی میں تین بچے بھی زخمی ہوئے۔

 یاد رہے کہ واقعے کے بعد سی ٹی ڈی کی جانب سے متضاد بیانات دیے گئےواقعے کو پہلے بچوں کی بازیابی سے تعبیر کیا تاہم ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مارے جانے والوں میں سے ایک کو دہشت گرد قرار دیا گیا۔

میڈیا پر معاملہ آنے کے بعد وزیراعظم نے واقعے کا نوٹس لیا اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کو حراست میں لے کر تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی  تھی ۔