’’غربت کا سبب طرز انتخاب بھی ہے‘‘

242

الطاف شکور
وزیراعظم عمران خان کی حکومت اپنی مدت کا ایک سال اور دو ماہ مکمل چکی ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ حکومت اپنی مدت کا 25 فی صد حصہ مکمل کرچکی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف نے اپنے انتخابی منشور پر 25 فی صد تک عمل کیا ہے؟ نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ عمران خان نے حکومت کرنے کا جو انداز اپنایا ہے وہ سابقہ حکمرانوں سے کسی طرح بھی مختلف نہیں ہے۔ یعنی عوام کے جذبات اور ان کی امنگوں کے بالکل برخلاف، نہ اپنے وعدوں کا پاس، نہ اپنے انتخابی منشور کا لحاظ، نہ غریب عوام کی حالت زار کا احساس۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے اس طرز عمل نے ایک مرتبہ پھر شدت سے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ اصل خرابی ’’طرز انتخاب‘‘ میں ہے۔ موجودہ انتخابی نظام میں ممکن ہی نہیں کہ کوئی ایسی اسمبلی معرض وجود میں آسکے جو عام پاکستانی شہریوں کی نمائندگی کرتی ہو۔ 2002ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی اسمبلی نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنی مدت معیاد پوری کی تھی۔ جمہوریت کے تسلسل کو 15 سال مکمل ہوچکے ہیں۔ 3 اسمبلیاں اپنی مدت معیاد پوری کرچکی ہیں جبکہ 2018ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی اسمبلی نے بھی اگر اپنی مدت معیاد پوری کر لی تو جمہوریت کے تسلسل کی دو دہائیاں مکمل ہوجائیں گی۔ مگر جمہوریت کے اس تسلسل سے عام آدمی کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے۔
جاگیردار، وڈیرے، کرپٹ بزنس ٹائیکون اور الیکٹ ایبلز باری باری اقتدار سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ جبکہ عام آدمی مسائل کی چکی میں بری طرح سے پس رہا ہے۔ ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں ان کی سرپرستی کر رہی ہیں اور ’اسٹیٹس کو‘ کو تحفظ دے رہی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے عام آدمی اور امیر آدمی کے درمیان فرق کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پی ٹی آئی تبدیلی کا نعرہ لے کر میدان میں آئی تھی لیکن وہ عام آدمی کے مفادات کے قتل عام میں ملوث ہو کر ایلیٹ کلاس کو تحفظ دے رہی ہے۔ عام آدمی جو گزشتہ حکومتوں میں روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کر لیتا تھاوہ اب فاقہ کشی میں مبتلا ہوتا جا رہا ہے۔ صاف پانی، تعلیم، علاج، رہنے کواپنا گھر تو درکنار اسے زندگی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ بچوں کے ہاتھوں سے قلم چھین لیا گیا ہے۔ جب گھر میں کھانے کو ہی کچھ نہ ہو تو تعلیم بے معنی محسوس ہوتی ہے۔ مسلم لیگ ن اور پی پی پی کے بعد اب پی ٹی آئی بھی انہی جماعتوں کی ڈگر پر چل نکلی ہے۔ غریبوں سے حقوق اور بنیادی سہولتیں چھین کر اپنا بینک بیلنس بھرنے اور خود کو امیر سے امیر تر بنانے والے کرپٹ سیاستدان بھی ابھی کچھ دن پہلے ہی غربت کے خاتمے کا عالمی دن منارہے تھے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ فوٹو سیشن اور خوش کن بیانات کے سوا کچھ نہیں کرتے ہیں اور ایسا کوئی موقع ہاتھ سے جانے بھی نہیں دیتے ہیں۔
غربت کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ اسمبلیوں اور اقتدار کے ایوانوں تک ’’عام آدمی‘‘ کی رسائی کو ممکن بنایا جائے۔ تسلسل کے ساتھ 4 عام انتخابات کے بعد عوام کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ متناسب نمائندگی پر مبنی انتخابی نظام اپنائے بغیرعام آدمی کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں مل سکتا ہے۔ وہی الیکٹ ایبلز چہرے جو 2002ء کی اسمبلیوں میں آئے تھے، آج کی اسمبلیوں میں بھی موجود ہیں۔ چند جو 2018ء کے عام انتخابات میں اپنی سیٹ گنوا چکے تھے مگر پھر بھی وہ وفاقی کابینہ کا حصہ بن گئے۔ یہ سارا کیا دھرا اس طرز انتخاب کا ہے جس میں ڈھیرسارے پیسوں کے بغیر انتخابات میں حصہ لینا ناممکن ہے۔ عوام کے لاکھوں ووٹ ضائع ہو جاتے ہیں۔ اگر متناسب نمائندگی پر مبنی انتخابی نظام اپنا لیا جائے تو اس طرح عام شہری کے لیے اسمبلی میں پہنچنا ممکن بن جائے گا۔ جب ووٹ شخصیات کو نہیں سیاسی جماعتوں کو دیے جائیں گے تو سیاسی جماعتیں الیکٹ ایبلز اور ایلیٹ کلاس کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کے بجائے اپنے نظریاتی کارکنوں کو امیدوار بنانے کے قابل ہو جائیں گی اور عوام بھی سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور میں دلچسپی لینا شروع کر دیں گے۔ ایلیٹ کلاس کبھی بھی عام شہریوں کے مسائل حل نہیں کرے گی۔ اس کی ایک مثال ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہے۔ جو 17 سال سے قید تنہائی میں غیرانسانی تشدد کو برداشت کر رہی ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے بھی اقتدار میں آنے کی صورت میں ڈاکٹر عافیہ کو وطن واپس لانے کا وعدہ کیا تھا۔ تحریک انصاف کے نیا پاکستان انتخابی منشور میں ڈاکٹر عافیہ کا نام لے کر کہا گیا ہے کہ ’’ہم ڈاکٹر عافیہ جیسے قیدیوں کو پاکستان لانے کی بھرپور کوشش کریں گے‘‘۔ مگر ایک سال بعد بھی عافیہ امریکی جیل میں ہے شاید ’’عام پاکستانی کی بیٹی‘‘ ہونا اس کا جرم بن گیا ہے۔
غربت کا شکار پاکستان کا ہر عام شہری ہے۔ حال ہی میں سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ میں بتایا گیا ہے کہ 2015-16 کے سروے کے مطابق پاکستان میں آمدنی کے لحاظ سے غربت کی شرح 24فی صد اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر غربت کی شرح 38فی صد ہے۔ ماہرین معیشت غربت کی وجوہات میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، ناخواندگی، ہنر اور ٹیکنیکل تعلیم کا فقدان، رشوت، سفارش کا عام ہونا اور باصلاحیت افراد کو کام کرنے کے برابر مواقع نہ ملنا، قدامت پسندی اور فرسودہ معاشرتی رجحانات، صحت کے مسائل، نظم و ضبط کا فقدان اور اس کے علاوہ بھی کئی عوامل بیان کرتے ہیں۔ اگر غربت کے جنم لینے اور بڑھنے کی ان وجوہات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ان میں سے زیادہ تر کی ذمے داری خراب طرز حکومت (bad governance) پر عائد ہوتی ہے۔ طبقہ اشرافیہ اور الیکٹ ایبلز کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ ملک سے غربت کا خاتمہ ہو۔ اس طرح تو ان کی بادشاہت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ وہ تمام سیاسی قوتیں جو موروثی قیادت کی وبا سے پاک ہیں انہیں اب موجودہ ’’طرز انتخاب‘‘ کے بارے میں سوچنا ہوگا کیونکہ ملک کا تعلیم یافتہ اور باشعور طبقہ موجودہ کرپٹ انتخابی نظام کی وجہ سے الیکشن کے عمل سے یا تو دور رہتا ہے یا پھران کے ووٹ کاسٹ کرنے کے باوجود ضائع ہوجاتے ہیں۔ ملک میں غربت کی ایک بڑی وجہ ایسی حکومتوں کا قیام بھی ہے جن کو اپوزیشن قبول ہی نہیں کرتی ہے۔ عام انتخابات کے انعقاد کے بعد کبھی دھاندلی کا الزام تو کبھی سلیکشن کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ 2013 ء کے عام انتخابات کے نتائج پر تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے تحفظ کا اظہار کیا تھا اور موجودہ وزیراعظم عمران خان نے تو چار حلقوں کو لے کر ملک کی تاریخ کا طویل ترین دھرنا دیا۔ اب 2018ء کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت کو اپوزیشن تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ عمران خان کو سلیکٹڈ وزیراعظم قرار دیا جارہا ہے۔ ایسا سیاسی کلچر ایلیٹ کلاس اور الیکٹ ایبلز کے لیے تو مفید ہو سکتا ہے غریب عوام کے لیے ہرگز نہیں۔ عوام کی غربت دور کرنے، ملک کی ترقی اور سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں ایسا انتخابی نظام رائج کیا جائے جس کے ذریعے اسمبلیوں اور اقتدار کے ایوانوں تک ’’عام آدمی‘‘ کی رسائی کو ممکن بنایا جاسکے۔ اسی طرح غربت کا خاتمہ اور ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا جاسکے گا۔