میڈیا بیٹھک پر مزاح نگاروں کی بیٹھک، ماضی،حال مستقبل کے کامیڈینز ایک چھت تلے جمع

333

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کامیڈی معاشرے میں حقیقی تبدیلی کا بہترین آلہ ہے۔ اگر اسے تعمیری مقاصد کے لئے درست سمت میں استعمال کیا جائے تو یہ ہمارے معاشرے کی شکل بدل سکتی ہے اور عدم برداشت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

یہ کہنا تھا بہترین کامیڈی لیجنڈز کا جو میڈیا بیٹھک پر ایک چھت تلے جمع ہوئے تھے اور معاشرے میں عدم برداشت کے خاتمے اور معاشرتی رویوں کی تبدیلی میں مزاح نگاری کے کردار پر روشنی ڈالی۔ میڈیا بیٹھک میں منعقدہ ڈائیلاگ اور پرفارمنس سیشن میں ماضی، حال اور مستقبل کے کامیڈی لیجنڈز کا امتزاج دیکھنے کو ملا۔

شفاعت علی نے نوجوان کامیڈین کی نمائندگی کی۔ سلیم آفریدی حالیہ دور کی کامیڈی کا قصہ چھیڑتے دکھائی دیئے تو ایاز خان اور زیبا شہناز نے ماضی کے جھروکوں میں جھانک کر ففٹی ففٹی کی سنہری یادیں تازہ کردیں۔شفاعت علی نے اعتراف کیا کہ کامیڈی کا آج وہ معیار نہیں رہا جو ماضی کے معروف شو ففٹی ففٹی کا ہوا کرتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کامیڈی اصل میں ترقی پسند معاشرے اور کسی بھی سسٹم میں موجود خامیوں کی نشاندہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم ان تمام لوگوں کا مذاق اڑانا شروع کردیں جو اپنی بیٹیوں کو تعلیم نہیں دیتے ہیں تو جلد ہی ہم ایک ایسا معاشرہ تخلیق دے دیں گے۔ جہاں لڑکیوں کو تعلیم نہ دینا ٹیبو بن جائے گا۔

معروف کامیڈین ایاز خان نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں مزاح نگاری اسان کام نہیں ہے۔ کیوں کہ دیگر ممالک میں کامیڈین کو لطیفے لکھ کر دینے کے لئے پانچ پانچ رائٹرز ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں کامیڈین کو اپنے بل پر سارا کام کرنا پڑتا ہے۔ جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارے یہاں کامیڈی کو وہ اہمیت حاصل نہیں جس کی وہ حقدار ہے۔ اسی لئے ہمارے یہاں کامیڈی کے شعبے میں نیا ٹیلنٹ سامنے نہیں آپارہا ہے۔سلیم آفریدی نے ایک ہی طرز کی کامیڈی کو معاشرے میں عدم برداشت کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کامیڈین مختلف پلیٹ فارمز پر وہی پرانے چٹکلے اور پرانے طرز کی کامیڈی دہراتے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اس کا اثر ختم ہوجاتا ہے۔ اور گھسے پٹے پرانے لطیفوں پر ہنسنا کسی کو پسند نہیں ہے۔

زیبا شہناز نے ماضی کے جھروکوں میں جھانکا اور بتایا کہ ففٹی ففٹی کی کامیابی کی وجہ وہ سماجی ایشوز تھے جو آج بھی ویسے کے ویسے ہی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب ان ایشوز کو کامیڈی کا موضوع نہیں بنایا جاتا ہے۔

تمام مقررین نے یہ شکوہ بھی کیا کہ لوگ مزاح نگاروں کو عام انسان تصور نہیں کرتے ہیں۔ اور اکثر اوقات جنازوں پر بھی ان سے کامیڈی کی فرمائش کردی جاتی ہے۔ جو درست نہیں ہے۔