ناروے ،مسلح شخص نے ہجوم کو گاڑی تلے روند ڈالا 3 زخمی

70
ناروے: پولیس حملہ آور کو گرفتار کررہی ہے‘ کارروائی میں استعمال کی گئی ایمبولنس گاڑی دیوار میں پیوست ہے
ناروے: پولیس حملہ آور کو گرفتار کررہی ہے‘ کارروائی میں استعمال کی گئی ایمبولنس گاڑی دیوار میں پیوست ہے

اوسلو (انٹرنیشنل ڈیسک) ناورے کے دارالحکومت اوسلو میں ایک مسلح شخص نے چوری شدہ ایمبولنس گاڑی ہجوم پر چڑھا دی۔ اس واقعے میں 4 افراد زخمی ہوئے، جب کہ ملزم بھی پولیس کی گولی لگنے سے زخمی ہو گیا، جسے گرفتار کر لیا گیا۔ نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق مقامی پولیس نے بتایا کہ مسلح شخص نے منگل کی دوپہر پہلے ایک ایمبولینس چوری کی اور پھر اسے چلاتا ہوا کئی افراد کو روندتا چلا گیا۔ واقعے میں 2 جڑواں بچیاں اور ایک خاتون زخمی ہوئی۔ پولیس کے مطابق اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے ملزم کا پیچھا کیا اور مسروقہ ایمبولینس پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گیا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم گولی لگنے سے زخمی ہو گیا اور اسے گرفتار کر لیا گیا، تاہم اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ حملہ آور کی عمر 32 سال ہے اور پولیس اسے جانتی ہے۔ جب کہ اس دوران ایک 25 سالہ مسلح خاتون کو بھی گرفتار کیا گیا۔ دونوں کا تعلق دائیں بازو کے نسل پرستوں سے بتایا جاتا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے، تاہم اسے دہشت گردی قرار نہیں دیا ہے۔ ناروے کے پبلک براڈکاسٹر این آر کے نے اس واقعے کی ایک فوٹیج بھی نشر کی، جس میں مسروقہ ایمبولینس کو اوسلو شہر کے تورشوف نامی علاقے سے گزرتا ہوا دیکھا جا سکتا تھا اور اس دوران فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ پولیس نے فوری طور پر اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا کہ آیا یہ کوئی مشتبہ دہشت گردی کا واقعہ تھا یا اس ملزم نے دانستہ طور پر ایک ہجوم پر گاڑی چڑھا کر کئی افراد کو ہلاک کرنے کی کوشش کی۔