ٹرمپ نے ایران پر حملے کا عندیہ دے دیا

106
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کابینہ کے اجلاس میں ایران سے متعلق اظہارِ خیال کررہے ہیں
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کابینہ کے اجلاس میں ایران سے متعلق اظہارِ خیال کررہے ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر حملے کا عندیہ دے دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ امریکا اس حوالے سے مکمل طور پر تیار ہے۔ صدر ٹرمپ نے پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ہم جنگوں سے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن خیال رہے کہ ہم کسی نئی جنگ میں قدم بھی رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگرکسی اقدام کی ضرورت پڑی تو ایران پر حملہ کرنے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے ہمیں ہم مجبور کیا تو ہم ایسا ضرور کریں گے۔ اگر ضروری ہوا تو ہم جنگ کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ میں ایران پرحملے کے وقت کا فیصلہ خود کروں گا۔ امریکی صد رنے کہا تھا کہ ایران کے خلاف پابندیاں سب سے زیادہ سخت ہیں۔ اس وقت انہوں نے تہران کو متنبہ کیا کہ واشنگٹن کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور وہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ پابندیوں کا ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ ٹرمپ ایرانی حکومت پر اس کے طرز عمل میں تبدیلی اور اسے خطے میں مداخلت روکنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ٹرمپ اس موقع پر شام کے حوالے سے بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ شمالی شام میں جنگ بندی کی کچھ معمولی خلاف ورزیوں کے باوجود اس پرعمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ترکی معاہدے کی پاسداری کرے گا، اس لیے وہ ترکی کو مزید پابندیوں کی دھمکی نہیں دینا چاہتے۔ امریکی صدر نے کہا کہ اگر ترکی غلط سلوک کرتا ہے، تو امریکا اپنی مصنوعات پر محصولات اور پابندیاں عائد کرے گا۔