ترک اور روسی صدور کی شامی بحران پر مشاورت

68
انقرہ/ ماسکو: تُرک فوج عارضی جنگ بندی کی مہلت ختم ہونے سے قبل سرحد پر تیار کھڑی ہے‘ صدر رجب طیب اردوان اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ تبادلہ خیال کررہے ہیں
انقرہ/ ماسکو: تُرک فوج عارضی جنگ بندی کی مہلت ختم ہونے سے قبل سرحد پر تیار کھڑی ہے‘ صدر رجب طیب اردوان اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ تبادلہ خیال کررہے ہیں

ماسکو/ برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن سے شمالی شام کی موجودہ صورت حال پر مشاورت کی ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق صدر اردوان منگل کے روز روسی ہم منصب کی دعوت پر ایک روزہ دورے کے لیے سوچیپہنچے تھے۔ سوچی پہنچنے پر صدر اردوان نے صحافیوں سے گفتگو میں خبردار کیا کہ اگر کرد ملیشیا نے آج رات تک شمالی شام سے اپنے ٹھکانے خالی نہ کیے تو ترکی ان کے خلاف ایک زبردست فوجی کارروائی دوبارہ شروع کر دے گا۔ یہ ملاقات ترکی اور امریکا کے درمیان شمالی شام میں 5 روزہ عارضی جنگ بندی ختم ہونے سے چند گھنٹوں قبل ہوئی۔ واضح رہے کہ یہ مہلت منگل کی رات ترکی کے مقامی وقت کے مطابق 10 بجے ختم ہوگئی۔ دونوں رہنماؤں نے دریائے فرات کے مشرق میں ترکی کی فوجی کارروائی، محفوظ علاقے کے قیام کے لیے ترکی اور روس کے اتفاق، اور عین العرب اور منبج میں اسدی فوج کے ساتھ روسی ملٹری پولیس کی آمد پر تبادلہ خیال کیا۔ دوسری جانب روسی صدر نے اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانویل ماکروں سے بھی شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ کریملن سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹیلیفون پر گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے شمال مشرقی شام کی صورت حال پر غور کرنے سمیت شام کی علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا۔ پیوٹن نے ماکروں کو شام میں روسی فوج کی سرگرمیوں اور شام کے تمام نسلی و دینی گروہوں کے مفادات کے تحفظ میں روس کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔ ادھر جرمن وزیر دفاع آنے گریٹ کرامپ کارین باؤر نے کہا ہے کہ شمالی شام میں ایک انٹرنیشنل سیکورٹی زون بنانے کی ضرورت ہے، تا کہ داعش کے خلاف لڑائی متاثر نہ ہو۔ سرکاری نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ شمالی شام میں ترکی کی پیش قدمی پر یورپ خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا، کیوں کہ وہاں کے حالات کا براہِ راست تعلق یورپ اور جرمنی کی سیکورٹی سے ہے۔