ریاستی ادارے حکومت کی حمایت ترک کر کے غلطی کی تلافی کریں، فضل الرحمن

74
اسلام آباد: جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں
اسلام آباد: جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

اسلام آباد(خبر ایجنسیاں)جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ریاستی اداروں کو اپنی غیر جانبداری ثابت کرنے کے لیے ‘سلیکٹیڈ’ حکومت کی پشت پناہی ترک کرنا ہو گی۔اسلام آباد میں آزادی مارچ سے متعلق غیر ملکی نشریاتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ وہ اداروں کے ساتھ لڑائی نہیں چاہتے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ ادارے اس حکومت کی حمایت چھوڑ کر اپنی غلطی کی تلافی کریں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت ہر سطح پر ناکام ہوچکی ہے اور نئے شفاف انتخابات کے ذریعے ملک کو جمہوری ڈگر پر ڈالنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نئے انتخابات کے نتیجے میں منتخب حکومت کو نہ صرف عوام کا اعتماد حاصل ہوگا بلکہ عالمی دنیا بھی اسے احترام کی نگاہ سے دیکھے گی۔دارالحکومت اسلام آباد کی جانب مارچ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ نہ دھرنا ہے نہ لاک ڈاؤن بلکہ یہ تحریک ہے جو موجودہ حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گی۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ وہ تحریک انصاف کے 126 دن کے دھرنے کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ ہی ایک میدان میں کارکنوں کو تھکائیں گے۔ان کے بقو ل اگر ہم اسلام آباد پہنچتے ہیں تو حکمت عملی اور ہوگی اور اگر روکا جاتا ہے تو حکمت عملی اور ہوگی۔ یہاں تک کہ جیل بھرو تحریک بھی شروع کی جا سکتی ہے۔ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔جمعیت علماء اسلام کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حکومت مخالف مہم کے دوران ان کی جماعت کسی ریاستی ادارے سے تصادم نہیں کرے گی۔ تاہم آئین میں دی گئی حد کے تحت ‘محاذ آرائی’ کریں گے۔اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کی جانب سے آزادی مارچ کی حمایت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ عام انتخابات کے فوری بعد تمام حزب اختلاف کی جماعتوں نے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں حلف اٹھانے کے باعث ان کے بیانیے کو تقویت نہیں مل سکی تھی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں تمام اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک صفحے پر ہیں۔ البتہ آزادی مارچ میں شرکت کی نوعیت کے حوالے سے اپوزیشن اتحاد کی جماعتوں پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ ان جماعتوں پر منحصر ہے کہ انہوں نے کتنی تعداد میں اور کتنے عرصے کے لیے احتجاج میں شرکت کرنی ہے۔آزادی مارچ کے اسلام آباد پہنچ جانے کے بعد کی حکمت عملی پر ابہام کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ دانستہ طور پر یہ بات مبہم رکھنا چاہتے ہیں۔حکومت کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل پر مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ حکومت ایک طرف مذاکرات کی بات کررہی ہے تو دوسری جانب وفاقی وزراء ہماری تضحیک کر رہے ہیں۔ دھمکیاں اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔انہوں نے کہا کہ تحریک آگے چلے گی تو دیکھا جائے گا کہ ‘سیلیکٹڈ’ سے بات کرنی ہے یا ‘سیلیکٹرز’ سے۔ اپنی گرفتاری کے خدشے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ گرفتاری سے تحریک رکے گی اور نہ ہی ماضی میں سیاسی تحریکیں رہنماؤں کی گرفتاریوں کے باعث رک سکی ہیں۔جے یو آئی ف کی ذیلی جماعت انصار اسلام پر پابندی کے بارے میں مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ یہ جماعت حال ہی میں معرض وجود میں نہیں آئی بلکہ جب سے جے یو آئی کام کررہی ہے تب سے انصار الاسلام قائم ہے۔