آئین کسی کو احتجاج سے نہیں روکتا، کشمیر پر سودے بازی نہیں ہونے دیں گے، سراج الحق

105
پشاور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق صوبائی مجلس شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں
پشاور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق صوبائی مجلس شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں

پشاور(نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ آئین حکومت کے خلاف احتجاج سے کسی کو نہیں روکتا، حکومت کی طرف سے اسلام آباد کو سیل اور شہریوں کو تکلیف میں مبتلا کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں، عدالت عظمیٰ اس معاملے کا ازخود نوٹس لے ۔ ابھی کوئی گھر سے نہیں نکلا ،اپوزیشن کے اعلان کردہ احتجاج کی تاریخ ابھی کئی دن دور ہے مگر حکومت ابھی سے کنٹینرز لگا کر بڑی شاہراہوں کوبند کررہی ہے جس سے عوام کو شدید پریشانی اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی پامالی ہے ۔حکومت آئینی طور پر کسی کو آمد و رفت سے نہیں روک سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ لوگوں کے لیے راستے کھولنے کے بجائے راستے بند کرنے پر خرچ کیا جارہا ہے یہ ناصرف آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ قوم کی امانتوں کا بدترین ضیاع ہے، عدالتوں کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہیے ۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اسلامی پشاور میں جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کی صوبائی مجلس شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اجلاس میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم اور امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان بھی موجود تھے ۔ سینیٹر سراج الحق نے سینیٹر مشتاق احمد خان کی طرف سے ذاتی مصروفیات کے باعث خیبر پختونخوا کی امارت سے دیے گئے استعفے کو مسترد کرتے ہوئے انہیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا حکمرانوں کی غفلت اور نااہلی کی وجہ سے کشمیر کا مسئلہ پس منظر میں چلا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 80روز سے کشمیر کے اندر کرفیونافذ ہے ۔ بھارتی افواج کے مظالم میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ موجودہ حکومت کی نااہلی ہے کہ اس کی ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے کشمیر کا مسئلہ بین الاقوامی سطح پر اہمیت حاصل کرنے کے باوجود اس طرح سے اجاگر نہ ہو سکا جس طرح کرنے کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کشمیر یوںکے خون پر حکمرانوں کو سودے بازی نہیں کرنے دے گی اور اس حوالے سے اپنی مہم کو جاری رکھے گی۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ احتجاج ، جلسے ، جلوس ہر پاکستانی شہری اور سیاسی جماعت کا حق ہے اور حکومت اس حق سے کسی کو محروم نہیں کر سکتی ۔اجلاس میں ملکی اور بین الاقوامی صورت حال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیر ی تکمیل پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں۔کشمیر میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے اور پاکستان کے حکمران اور اپوزیشن یہاں سیاست سیاست کھیل رہے ہیں۔حکومت کشمیر کی طرف توجہ دینے کے بجائے نان ایشوز میں الجھی ہوئی ہے ۔ حکومت کا فرض تھا کہ کشمیر کے مسئلے پر قوم کو متحد کرتی مگر حکومت نے قومی وحدت اور یکجہتی کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ کشمیر قوم کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر خدانخواستہ کشمیر کی تحریک آزادی کو کوئی نقصان ہوا تو وہ پاکستان کے مستقبل ،بقا اور سا لمیت کے لیے انتہائی خطرناک ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کشمیر کو پس پشت ڈال چکی ہے۔