کرا چی پریس کلب کی گرا نٹ کے لئے تما م اقدامات برو ئے کا ر لا ئے جا ئیں گے۔وزیر اطلا عا ت سندھ سعید غنی

244

کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیراطلاعات ومحنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ پیپلز پا ر ٹی نے ہمیشہ صحا فیو ں کی فلاح و بہبو د اور ان کے مسائل کے حل کیلئے اقدا ما ت اٹھا ئے ہیں کرا چی پریس کلب کی گرا نٹ کے حوالے سے بھی تما م اقدامات برو ئے کا ر لا ئے جا ئیں گے اور اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سندھ سے با ت کی جا ئے گی ہماری کوشش ہے کہ تمام پریس کلب کو گرانٹ فراہم کرسکیں،

وزارت سنبھالنے کے بعد کراچی پریس کلب کا میرا پہلا دورہ ہے کچھ وجوہات کی بناء پر کراچی پریس کلب آنے میں تاخیر ہوئی ہے مجھے یہاں کے بہت سے مسائل بتائے گئے ہیں کلب ممبران کی جانب سے کے پی سی کی سالانہ گرانٹ کا مطالبہ کیا گیا ہے جو کہ ہمارے بجٹ کس حصہ ہوتی ہے جب کہ نئے بننے والے پریس کلب کی جانب سے بھی ڈیمانڈ کی جارہی ہے کہ انہیں بھی گرانٹ دی جائے ہماری کوشش ہے کہ تمام پریس کلب کو گرانٹ فراہم کرسکیں،

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس سے خطاب اور کلب کی گورننگ باڈی کے اراکین سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ان کے ہمراہ سیکریٹری اطلاعات حکومت سندھ احمد بخش ناریجو،ڈی جی پی آر منصور احمد شیخ،ڈائریکٹر پریس انفا ر میشن زینت جہا ں صدیقی و دیگر بھی مو جو د تھے۔

انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی رہائشی اسکیم کے لئے کوشش کررہے ہیں، میں ناصر حسین شاہ سے بات کرونگا کہ جو قدم انہوں نے اٹھایا تھا اسکو حتمی انجام تک پہنچائیں تیسر ٹاؤن میں جو پلاٹس دئیے گئے ہیں اسکا مسئلہ بھی حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اسوقت پورے ملک میں معیشت کی صورتحال کی وجہ سے تمام طبقات مشکلات کا شکار ہیں میڈیا پر جو مالی بحران آیا ہے،وہ گزشتہ ایک سال سے ہی آئے ہیں بحران جو آئے ہیں وہ ورکرز کی جانب منتقل کئے جارہے ہیں جو کہ غلط ہے اس سال کی آمدنی کم ہونے کی وجہ سے اداروں میں بحران ہے میری اداروں کے مالکان سے گزارش ہے کہ اپنے ملازمین کا خیال کریں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی نالائقی اور ناکامی کی وجہ سے مڈل کلاس اور غریب لوگوں کے لیے مشکلات پیدا ہوگئی ہیں،

جو میڈیا کے ساتھ ہورہاہے محسوس ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر کیا جارہا ہے میڈیا پر پابندیاں لگادی گئی ہیں جو حکومت چاہتی ہے وہ چلتا ہے جو نہیں چاہتی ہو نہیں چلتا ماضی میں بھی یہ چیزیں ناکام ہوئی ہیں میں میڈیا پر لگنے والی غیر اعلانیہ پابندی کی مذمت کرتا ہوں وفاقی حکومت کی جانب سے جو پابندیاں لگائی گئیں ہیں اسکو ختم کیا جائے،

انہوں نے کہا کہ کراچی شہر کی پچھلی تاریخ کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے کراچی میں بے گناہ لوگوں کو مارا جاتا تھابلدیہ ٹاؤن کا واقعہ اور دیگر واقعات کا ذمہ دار سندھ حکومت کو نہیں ٹھرایا جاسکتا کراچی کی بربادی میں جنکا کردار ہے وہ آج بھی وفاقی حکومت میں بیٹھے ہیں،

کراچی کے کچرے پر کوئی کچھ نہیں بولتا تھاہم نے کراچی کے بڑے بڑے ادارے جن پر کام کیا ہے اسکی کہیں مثال نہیں ملے گی آئندہ دنوں میں تین سو ارب روپے سے زیادہ خرچ کرینگے اور مسائل حل کرینگے سندھ کا موازنہ کیا جائے تو پورے ملک سے کیا جائے صرف سندھ کی بات نہ کی جائے،

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اینٹی ریبیز ویکسین بناتا ہے لیکن اسکی پروڈکشن ہماری ضروریات سے کم ہے ویکسین موجودہے لیکن ایس او پی کے تحت جتنی مقدار میں ہونا چاہیے اتنی نہیں ہے کتوں کے کاٹنے سے جو اموات ہوئیں وہ وقت پر ویکسین نہ لگانے کی وجہ سے ہوئی ہیں،انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو لینے نہ جانے کی بات درست نہیں ہے وزیر اعظم تو آئے ہی بہت کم ہیں اور جب وزیر اعظم آتے ہیں انکے شیڈول سے صوبائی حکومت کو آگاہ کیا جاتا ہے لیکن اتنی زحمت نہیں کی گئی کہ وہ وزیراعلی سندھ کو بھی آگاہ کر دیا جائے،

انہوں نے کہا کہ ہمارے نظریاتی اختلافات ضرور ہیں لیکن وہ وزیراعظم ہیں آئین نے بہت سے میکنزم بتائے ہیں جسکے ذریعے وزیر اعلی اور وزیراعظم کی بات ہوجاتی ہے لیکن بدقسمتی سے انکے درمیان کسی فورم کے زریعے ملاقات نہیں ہوپاتی چاہے ہمیں ایک دوسرے کی شکلیں پسند ہوں نہ ہوں لیکن یہ دونوں آئینی عہدے ہیں اور دونوں کی آئینی ذمہ داریاں ہیں،

انہوں نے کہا کہ جب وزیراعظم کراچی آتے ہیں تو توقع ہوتی ہے کہ کراچی کے مسائل کی وجہ سے ہی وہ آئے ہیں اگر وہ وزیراعلی سے ملاقات نہیں کرتے تو اسمیں سندھ حکومت ذمہ دار نہیں اپنی غیر تسلی بخش کار کردگی اور سندھ حکومت کے ساتھ وفاقی حکومت کی زیادتی کی وجہ سے وہ وزیر اعلیٰ سندھ سے آنکھ نہیں ملا سکتے اس وجہ سے سلیکٹڈ وزیر اعظم وزیر اعلیٰ سندھ سے نہیں ملیانہوں نے کہا کہ جہلم کنال پر لگائے جانے والے پاور پلانٹ پر شدید تحفظات ہیں،

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میڈیاہا?سز سے بات کی ہے کہ وہ میڈیا ورکرز کو ادا کریں ایڈورٹائزنگ ایجنسیز کو آدھی رقم ادا کردی گئی ہے آدھی تب ادا کرینگے جب وہ ہمیں دی جانے والی انڈر ٹیکنگ کو پورا کریں,

سعید غنی نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں پی ایس گیارہ پر پیپلز پارٹی کا مقابلہ ہمیشہ سخت رہا ہے اس مرتبہ پیپلز پارٹی کے ووٹ میں پچھلے تین چار سال کے ووٹوں کی نسبت اضافہ ہوا ہے،پیپلز پارٹی کے خلاف ہمیشہ کوشش کی جاتی ہے کہ وہ نا جیتے یہ کہنا کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار کو لیول پلئینگ فیلڈ ملی تھی سراسر غلط ہے اٹھارہ کے الیکشن دیکھیں ہماری کارکردگی بہت اچھی رہی ہے اورسندھ میں مجموعی طور پیپلز پارٹی کی پرفامنس بہت اچھی رہی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جہا ں جہا ں حکومت ہے وہ اتحا دیو ں کے ساتھ ہے جی ڈی اے کے لوگوں کو ذہنی طو ر پر سمجھنے کی ضرورت ہے جی ڈی اے ہر الیکشن میں ذلیل اور رسوا ء ہو تے ہیں اور انہیں زندہ رکھنے کیلئے طاقت کے انجکشن لگا نے ضروری ہو تے ہیں۔

عمرا ن کی حکومت جنوری تک ہو گی کے نہیں وہ اس کی فکر کریں سندھ حکومت کہیں نہیں جا رہی۔بلدیاتی الیکشن اگست 2020 میں ہیں سپریم کورٹ پر یقین رکھتے ہیں وہ ضرورالیکشن کروائیں گے۔