حکومت نے سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا، بلاول

241
RAWALPINDI, PAKISTAN, OCT 21: Peoples Party (PPP) Chairman, Bilawal Bhutto Zardari addresses to media persons during press conference after meeting with former President, Asif Ali Zardari, outside Adiala Jail in Rawalpindi on Monday, October 21, 2019. (Imran Jaffri/PPI Images).

 

 

اسلام آباد( خبر ایجنسیاں /مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ حکومت نے سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا‘ کٹھ پتلی حکومت کو پتاہی نہیں کہ ایک جمہوری ملک چلانا کوئی کرکٹ میچ نہیں ہے‘ حکومت کے پاس کوئی سیاسی حل ہی نہیں ہے ‘ حکومت آئینی بحران اور من و امان خراب کرنے کی طرف جا رہی ہے‘ ان کے پاس سیاسی پلان ہے نہ معیشت بہتر کرنے کا کوئی منصوبہ، آصف علی زرداری سے ملاقات میں عدالت کے حکم پر عمل نہیں ہورہا‘ میڈیکل رپورٹس کے باوجود نہیں جیل سے اسپتال منتقل نہیں کیا جارہا ‘کیا توہین عدالت صرف جمہوری قوتوں کے لیے ہے‘ کل لطیف کھوسہ عدالت میں پیش ہوں گے امید ہے کہ ہمارے ساتھ انصاف ہوگا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول زرداری نے کہا کہ آصف علی زرداری کو بنیادی حق نہ
دے کر مجھے اور میری جماعت کو بلیک میل کیا جا رہا ہے‘ ہم نے ظالموں کے سامنے پہلے بھی سر نہیں جھکایا تھا اور آج بھی نہیں جھکائیں گے۔ اس وقت بھی پورے پاکستان میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سابق صدر زرداری کے کیس کا یہاں پنڈی میں ٹرائل ہو رہا ہے جبکہ الزام سندھ کا‘ کیس سندھ کا‘ ایف آئی آر سندھ کا ہے وہ بھی سندھ کے ہیں اور یہ کیس آپ پنڈی میں چلا رہے ہیں۔ اس طرح جیالوں کے اس یہ یاد دلایا جا رہا ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل پنڈی میںکرکے اپنے حقوق سے محروم رکھا اور یہاں ان کے عدالتی قتل ہوا۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے یہ کبھی اعتراض نہیں کیا کہ احتساب نہ ہو انویسٹی گیشن نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں 18اکتوبر کو عوام نے بھی یہ پیغام دیا کہ وہ اس کٹھ پتلی حکومت کے ساتھ نہیں ہیں۔ میرا اگلا جلسہ 23اکتوبر کو تھرپارکر میں ہو رہا ہے۔ تھرپارکر کے عوام یہ پیغام پہنچائیں گے کہ اس ملک کے عوام اس نااہل اور نالائق حکومت کو گھر پہنچائیں گے۔ پیپلزپارٹی نے ہر دور میں سیاسی جماعتوں کو جمہوری احتجاج کا حق دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آمریت کا پہلے بھی مقابلہ کیا ہے اور اگر آج بھی اگر مارشل لایا آمریت کی صورتحال پیدا ہو تو ہم اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔ میں تمام سیاسی جماعتوں کو یہ تجویز دیتا ہوں کہ وہ سیاست کریں ہم اپوزیشن کی سیاست کریں ، ہم احتجاج بھی کریں اور لڑیں بھی مگر کسی تیسری فورس کو موقع نہیں دیں کہ وہ آکر آمریت پھر سے اس ملک پر مسلط نہ کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم آج بھی مولانا فضل الرحمن کی سیاسی سپورٹ کرتے ہیں جب مولانا فضل الرحمن صاحب کہیں گے ہمارے کارکن ان کو ویل کم کریں گے اور سپورٹ بھی کریں گے‘ ہم مولانا صاحب کوایک پوائنٹ ایجنڈا پر سپورٹ کرتے ہیں کہ اس حکومت کو جانا پڑے گااور ہم جمہوریت کو بچا سکیں۔
بلاول