لبنان میں معاشی اصلاحات کا پیکج منظور عوام پھر بھی مشتعل

206
لبنان: صدر میشل عون کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہورہا ہے‘ وزیراعظم سعد الحریری بھی موجود ہیں
لبنان: صدر میشل عون کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہورہا ہے‘ وزیراعظم سعد الحریری بھی موجود ہیں

بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) لبنان میں حکمراں اشرافیہ کے خلاف احتجاجی تحریک طول پکڑتی جارہی ہے۔اس حوالے سے پیر کے روز صدر میشل عون نے مظاہرین کے مطالبات پر غور اور حکومت کی مجوزہ اقتصادی اصلاحات کی منظوری کے لیے کابینہ کا اجلاس طلب کیا۔ اس اجلاس میں کابینہ نے ملک کو درپیش معاشی بحران سے نمٹنے اور مظاہرین کے غیظ وغضب کو ٹھنڈا کرنے کے لیے وزیراعظم سعد الحریری کے پیش کردہ اقتصادی پیکیج کی منظوری دی۔ اس کے تحت وزرا کی تنخواہیں نصف تک کم کی جارہی ہیں۔ لبنانی ایوان صدر نے صدر میشل عون کا ایک بیان سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کیا ہے۔ اس میں انہوں نے کہا ہے کہ سڑکوں پر جو کچھ ہورہا ہے، یہ عوام کے درد کی عکاسی کرتا ہے، لیکن ہر کسی کو بدعنوانی کا مورد الزام ٹھہرانا غیر منصفانہ ہے۔ وزیراعظم سعد الحریری نے کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں اس اقتصادی پیکیج کی منظوری کا اعلان کیا۔ انہوں نے ملک گیر احتجاجی تحریک میں حصہ لینے والے مظاہرین سے مخاطب ہوکر کہا کہ میں آپ سے یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ آپ احتجاج ختم کردیں، یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔ کسی کو بھی آپ کو ہراساں کرنے یا ہٹانے کا حق نہیں۔ آپ ہی نے کابینہ کے وزرا کو آج کا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ انہوں نے سرکاری شعبے میں بدعنوانیوں کے خاتمے اور وزرا کی تنخواہوں میں 50 فیصد تک کٹوتی کے لیے اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ احتجاج کے دوران آپ کا تحفظ کرے۔ سعد الحریری نے یہ بھی اعلان کیا کہ اگر مظاہرین قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ اسے بھی پورا کرنے میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔ تاہم عوام کا غصہ اس کے بعد بھی ٹھنڈا نہیں ہوا۔ یاد رہے کہ اتوار کے روز لبنان کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے بیروت میں حکمراں اشرافیہ اور ان کی بدعنوانیوں کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ یہ گزشتہ کئی برس کے بعد ملک میں سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ تھا۔ پیر کی صبح بھی مظاہرین نے دارالحکومت کی بڑی شاہراہیں دوبارہ بند کیں۔