آزادی مارچ ’’اسلامی انقلاب‘‘ کا پیش خیمہ ہوگا؟

346

مولانا فضل الرحمن صاحب کا ’’آزادی مارچ‘‘ درست فیصلہ اور بروقت قدم ہے۔ آزادی مارچ کا اگر مطلب یہ ہے کہ ’’سیکولر نظام‘‘ سے نجات حاصل کی جائے تو یہ بھی ٹھیک ہے کیوں کہ ’’تحریک انصاف‘‘ کی لبرل حکومت جب ’’مدینہ ریاست‘‘ کا نام استعمال کرکے مسلمانوں کو دھوکا دے رہی ہے تو اِس کا مقابلہ کرنے کے لیے ’’دینی قیادت‘‘ کو بھی یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ ’’اسلام‘‘ کی حقیقی روح اور تقاضوں پر عمل درآمد کا ایجنڈا لے کر اہل وطن کے سامنے آئے اور موجودہ فرسودہ نظام سمیت اُس کی محافظ حکومت کو رُخصت کرنے کے لیے پورا پورا زور لگائے تا کہ پاکستان کو ’’ریاست مدینہ‘‘ کے حقیقی خدوخال میں ڈھالا جاسکے۔
سیکولر اور لبرل قوتوں کو مولانا فضل الرحمن سے اختلاف ہے اورہونا بھی چاہیے کیوں کہ مولانا صاحب اور اُن کی جماعت (JUI) پاکستان کی ’’اسلامک لابی‘‘ میں تصور کیے جاتے ہیں جو ملک میں اسلامی انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح سے پاکستان کی بعض دینی جماعتوں کو بھی مولانا کی ذات اور جماعت سے اختلاف ہوگا یا ہوسکتا ہے جو مولانا اور ان کی جماعت کے ’’انداز سیاست‘‘ سے اتفاق نہ رکھتے ہوں۔ تاہم یہ بات طے شدہ ہے کہ مولانا اور اُن کی جماعت پاکستان کی اُس ’’اسلامک لابی‘‘ کا ایک طاقتور حصہ ہیں جس میں جماعت اسلامی سمیت کئی دیگر دینی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ مسلک کا فرق عقیدے کو تبدیل نہیں کرسکتا کیوں کہ تمام دینی جماعتیں قرآن و سنت کے مطابق پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی ریاست دیکھنا چاہتی ہیں۔ سب کی جدوجہد اس لیے ہے کہ کسی طرح سے ملک میں ’’اسلامی انقلاب‘‘ آجائے تا کہ اس انقلاب کی برکتوں سے ناانصافی، ظلم اور عدم مساوات کی ہر شکل کو مٹادیا جائے، عوام الناس اسلامی حکومت کی منصفانہ اور رحم دلانہ پالیسیوں سے فیضیاب ہوں، امن و خوشحالی لوٹ آئے جب کہ عدل و انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔
انگریز کے فرسودہ نظام اور اُس کے غلام حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دینی جماعتوں کی مشترکہ پیش قدمی کے لیے راستہ اور ماحول بنایا جائے، اِتحاد اُمت کی خواہش اور درس دینے والی قیادت یقینا اِس بات کو بخوبی سمجھتی ہو گی جو دینی قیادت ملک کے اندر ’’نظام مصطفی‘‘ کے نفاذ کے لیے آپس میں اتحاد نہ کرسکے وہ عالمی سطح پر ’’اتحاد اُمت‘‘ کی منزل کو کب اور کس طرح سے پاسکے گی؟۔ حالاں کہ دینی جماعتوں کا ماضی اس حوالے سے شاندار ہے کہ دینی جماعتوں نے جب بھی اتحاد کیا انہیں نہ صرف قوم نے خوش آمدید کہا بلکہ پاکستان کے سیاسی اور جمہوری ماحول پر اس کے انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوئے۔
سول اور فوجی آمروں کو شکست دینے اور ڈبل مارچ کرانے میں دینی جماعتوں کے اتحادوں کی کارکردگی یادگار ہے، قرار داد مقاصد، یوڈی ایف، پی این اے، آئی جے آئی، اسلامک فرنٹ اور ایم ایم اے سمیت قادیانیوں کو کافر قرار دلوانے اور مزید یہ کہ 1973ء کا متفقہ آئین منظور کروانے جیسی تاریخی جدوجہد اور اتحاد دینی قیادت اور جماعتوں کی وہ مشترکہ کامیابیاں ہیں جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ دینی جماعتوں کا الیکشن میں شکست کھانا محض ایک الزام ہے حقیقت نہیں، کیوں کہ جس الیکشن میں کالا دھن استعمال ہوتا ہو، دھونس اور دھاندلی کا راج ہو، انتظامیہ جانبدار ہو اور الیکشن کمیشن بے اختیار ہو تو اس طرح کی صورتِ حال میں انتخابی نتائج ویسے ہی آئیں گے جیسا کہ اب تک آتے رہے ہیں۔ ’’شفاف الیکشن‘‘ جب تک نہیں ہوتے تب تک دینی جماعتوں کو عوام میں غیر مقبول کہنا درست نہ ہوگا۔
جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں ’’تحریک انصاف‘‘ کی غیر متوقع کامیابی اور دینی جماعتوں کی حیران کن شکست نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ سیکولر اور لبرل قوتوں کو ملک کے اندر اور باہر سے ’’عالمی اسٹیبلشمنٹ‘‘ کی خفیہ حمایت حاصل تھی جو پاکستان میں ’’مغربی ایجنڈے‘‘ کی محافظ اور اسلامی نظام کے نفاذ کی مخالف ہے۔ محترم مولانا فضل الرحمن جس طرح سے اپنی جماعت کو لے کر اسلام آباد کی طرف ’’آزادی مارچ‘‘ کرنے لگے ہیں اِس پر مولانا کو محض خراج تحسین پیش کرنا ہی کافی نہ ہوگا بلکہ مولانا کی ہمت، جرأت اور سیاسی بصیرت کا بھی اعتراف ہونا چاہیے کہ مولانا کا فیصلہ بروقت اور درست ہے۔ عمران حکومت سے ملک کے استحکام اور عوام سے بھلائی کی مزید توقعات رکھنا حماقت ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی سازش کا شکار اور امریکی صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کا طرفدار بن گیا ہے۔ عمران خان سے نہ کشمیر آزاد ہوگا، نہ مہنگائی کم ہوگی، نہ روزگار ملے گا اور نہ ہی پاکستان کو ’’مدینہ ریاست‘‘ کے حقیقی تعارف کے قابل بنایا جاسکے گا۔ جہاں حافظ سعید گرفتار ہو، ڈاکٹر عافیہ قید ہو، ملعونہ آسیہ کو رہا کرکے بیرون ملک پہنچادیا جائے، حملہ آور مگ جہاز کا پائلٹ اور حملہ آور آبدوز کا عملہ مقدمہ چلائے بغیر بھارت کو واپس کردیے جائیں، یہودی حملہ آور پائلٹ کو بھی خفیہ طور پر واپس اسرائیل پہنچا دیا جائے، کنٹرول لائن عبور کرنے والوں کو پاکستان کا دشمن کہا جائے، تو اس طرح کے اقدامات اور مزید کئی فیصلوں کو دیکھنے کے بعد ’’عمران حکومت‘‘ کو سیکولر رسک کہنا غلط نہ ہوگا۔
سیاسی تجزیہ نگار کی حیثیت سے ہماری یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا ’’آزادی مارچ‘‘ ہر صورت کامیاب جائے گا، عمران حکومت کی اُلٹی گنتی شروع ہوچکی ہے، لہٰذا عمران حکومت کو بچانے کی غلطی کرنے والوں کو نہ صرف ناکامی ہوگی بلکہ وہ دینی اور سیاسی جماعتیں جو مولانا کے ’’آزادی مارچ‘‘ کو اہمیت کم دے رہی ہیں اُنہیں اُس وقت پچھتاوا اور افسوس ہوگا جب مولانا تنہا عمران حکومت کو گرانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر لبرل، سیکولر اور قوم پرست جماعتیں مولانا کے ’’آزادی مارچ‘‘ کے دوران کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہیں یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے ہمیں اس سے کوئی لینا دینا نہیں نہ ہی ہمیں اس بات کا انتظار ہے کہ کہ کب مولانا کے ٹرک پر سوار ہوں گے، کیوں کہ مولانا کی ’’آزادی مارچ‘‘ کی آڑ میں بہت سے سیاستدان حکومت کے ساتھ ڈیل کرنے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں تاہم ہمارے نزدیک اس بات کو زیادہ اہمیت ہے کہ ’’آزادی مارچ‘‘ کے حوالے سے ’’دینی قیادت‘‘ کا فیصلہ اور کردار کیا ہوگا یا کیا ہونا چاہیے؟۔ لہٰذا ہمارے ذہن میں زیادہ نہیں صرف تین سوال ایسے ہیں جن پر ’’دینی قیادت‘‘ کو ابھی سے غور کر لینا چاہیے۔
(1) جس طرح سے دینی قیادت نے غازی عبدالرشید شہید اور لال مسجد کے بچوں کو تنہا چھوڑ دیا تھا جس کے بعد جنرل مشرف کو آپریشن کرنے کا حوصلہ اور موقع مل گیا تو کیا اسی طرح سے مولانا فضل الرحمن اور اُن کے ساتھیوں کو بھی اکیلا رہنے دیا جائے گا۔ لال مسجد آپریشن کے نتائج دینی جماعتوں، سیکورٹی فورسز اور داخلی امن کے لیے کس قدر بھیانک نکلے کیا اس طرح کے مزید کسی نقصان یا بحران کا سامنا کیا جاسکتا ہے؟۔
(2) مولانا اگر ناکام ہوئے تو ٹھیک ہے، ناکامی کی صورت میں مولانا کی قیادت اور جماعت کی سیاست یقینا زیرو لیول پر چلی جائے گی لیکن اگر مولانا کامیاب ہوگئے تو وہ دینی جماعتیں جو مولانا کا ساتھ نہیں دے رہیں اُن کا مستقبل کیا ہوگا۔
(3) تمام دینی جماعتیں اگر مل کر اس بات پر اتفاق کرلیں کہ مولانا فضل الرحمن صاحب کے ’’آزادی مارچ‘‘ میں شریک ہوں گے تا کہ ملک میں ’’اسلامی انقلاب‘‘ برپا کرنے کا موقع مل سکے تو کیا ایسا کرنا غلط ہوگا یا یہ کہ اس موقع سے اسلامی انقلاب کی منزل کی طرف پیش قدمی نہ کرنا ایک تاریخی غلطی ہوگی؟۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ’’دینی قیادت‘‘ کی مدد رہنمائی فرمائے۔ آمین ثم آمین